تازہ ترینمضامین

کہاں سے ائے صدا لا الہ الااللہ۔۔تحریر۔۔۔ شہزادہ مبشرالملک۔

ملک خداداد۔۔ جسے وجود میں ائے ستر سال سے زاید کا عرصہ گزر چکا ہے۔ لیکن۔ یہ کس مقصد ، کس نظریے اور کونسے کلمے کی بنیاد پر لاکھوں نفوس کی جانی قربانی ۔ہزاروں بہنوں بیٹیوں کی عزمت و عفت کی قربانی لاکھوں نفوس کی گمشدگی کڑورہاں روپے املاک کے نقصانات کیا صرف اس لیے تھے کہ انگریز کی غلامی سے نکل کر ۔۔۔ انگریز اورہندو جیسے ہی طرز زندگی روا رکھی جائے۔یہ روز روز ہمارے وزرا کے ۔۔۔ دل خراش۔۔۔ بیانات کہ یہ ملک اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے نہیں بنا تھا بلکہ ایک۔۔۔ لبرل اور سیکولر۔۔۔ اسٹیٹ کے لیے وجود میں آیا تھا۔۔۔ ایک جانب وزیراعظم صاحب ملاقتوں میں ۔ہر تقریر میں ۔۔۔مدینے کی ریاست کی بات کرتے نہیں تھکتے دوسری جانب بعض اسلام بیزار وزرا کے یہ بیانات۔۔۔ تحریک پاکستان۔۔۔ قراداد مقاصد۔۔۔ فلسفہ اقبال۔۔۔ قائد کے فرمودات و محنت شاقہ اورآیین پاکستان کے منہ پر ۔۔۔ زور دار طمانچہ ۔۔۔ ہے مگر کسی شخصیت۔۔۔ ادارے اور پارٹیوں نے اس کا نوٹس ہی نہیں لیا۔ لگتا ہے جس طرح۔۔۔ عرب حکمرانوں کو اسلام سے الرجی کا دورا پڑا ہے اسی طرح یہاں بھی اسلام سے برائے نام وابستگی کو بھی روشن خیال مٹھی بھر مگر طاقتور عناصر۔۔۔ قصہ ماضی۔۔۔ بنانے کا عہد کرچکے ہیں۔
میں نے حالیہ دنوں میں جو تصویری دروزہ کھولا ہے یہ ان ہزاروں دروازوں میں سے صرف ایک اسلامی پارٹی کی کاوشوں کی ایک جھلک ہے کہ مشرقی پاکستان سے لے کر روس کے خلاف افعان جنگ پھر کشمیر اور پاکستان کے اندر اسلامی نظام کے مطالبے کی جدوجہد میں۔۔۔ کن کن پارٹیوں اورامروں کے ۔۔۔جھوٹے اسلامی وعدوں پر انحصار کرتے ہوے ہمیشہ دھوکا کا شکار رہے۔ اگر جماعت اسلامی اپنے ۔۔۔۔۔۔۔داعیانہ ڈگر۔۔۔۔ سے نکل کر۔۔۔۔ سیاست کی پر خار وادی۔۔۔۔ میں قدم نہ رکھتا تو اج حالات بہت مخثلف ہوتے۔۔۔ انتخابی سیاست کے فیصلے سے ۔۔۔ شروع میں ہی بہت اعلی دماع شخصیات اپناراستہ الگ کرکے ۔۔۔ حضرت مودودی کو چھوڑ کر چل دیے۔۔۔
یہ اقتدار تک پونچھنے کی دوڑ نے جماعت کو اوپر لے جانے کی بجائے تنزل کی راہ بڑی تیزی سے دکھا دی۔ ملک و ملت اورعالمی دنیا کو ایک ۔۔۔ معتدل۔۔۔ طرز حکمرانی کا خواب جو جضرت مودودی اور قائد کا خواب تھا وہ ۔۔۔ خواب۔۔۔ بن کے رہ گیا ۔۔۔۔
اب بھی ترکی اور ملایشیاء کے مہاتر محمد کے طرز پرجماعت اور دیگر اسلام پسند پارٹیوں کو اپنی ساری توجہ ۔۔۔۔ تعلیمی اداروں۔۔۔ کی جانب مرکوز کرنی چاہیے ۔اور کجھ حد تک ان پہ ان کو دسترست حاصل بھی ہے مگر اس کے دائرہ کار کو پاکستان کے شہری علاقوں سے باہر نکال کر دور دیہات تک پھلانا وقت کا تقاضا ہے ۔۔۔ اس کے لیے جماعت کو ایک مربوط ایجوکیشن انقلابی پالیسی بنانا چاہیے۔۔۔جہان طالبہ وطالبات اور ٹیچرز کےلیے ۔۔۔ تحریکی اور اخلاقی تربیت سرفہرست ہو۔اور اسٹوڈنٹ کی کردار سازی کے ساتھ انہیں کسی بھی شعبہ ہاے زندگی میں شمولیت اور کسی بھی سیاسی پارٹی اور ادارے کے انتخاب میں ازادی ہو تاکہ اپ کا نمایئندہ کہیں بھی موجود ہو اس کے پیش نظر ۔۔۔۔ اس بد قسمت ملک میں اسلامی نظام کاقیام انگڑائی لیتا رہے اوراس نظام کے لیے راہ ہموار کرنے میں وہ ہچکچاہٹ اور تذبذب کا شکار نہ ہو یوں بیس پچیس سالوں بعد تمام شعںہ زندگی میں ۔۔۔ اسلام کاسور ج۔۔۔۔ بیغیر خون خرابے کے پر امن طریقے سے ۔۔۔ جلوہ گر۔۔۔ ہوسکتا ہے۔
اجکل ۔۔۔۔ نسل نو کی بربادی بزریعہ نیٹ۔و موبائل ۔۔۔ جنگل کی اگ کی طرج لگی اور پھیلی ہوئی ہے ان حالات میں روایتی سیاست کی رفتار سے نکل کر ۔۔۔ روشنی کی رفتار سے نسل نو کی اخلاقی تربیت کی جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے۔۔۔۔ ورنہ ۔۔۔۔ کہاں سے ائے صدا لا الہ الااللہ کی صدا دم توڑتی رہے گی اور نسل نو کے ۔۔۔ گلے۔۔۔ کبھی امریکہ کی کال کبھی ائی ایم ایف کے پیکچ کبھی ایف اے ٹی ایف کی خوف کبھی عرب و چین کی امداد پر ۔۔۔ گھونڈنے۔۔۔ کے مناظر ہم دیکھتے رہیں گے۔
پارلیمنی محاذ میں بھی اپنا ہونا اور دیگر پارٹیوں میں موجود صالح عناصر سے روبط اور انہیں بھی ایک ذمہ دار مسلمان نمائندے کے سیاسی اور مذہبی فرائض کے۔۔۔ ادائیگی۔۔۔ کے لیے تیار کرنے کی کوشیش بھی سود مند ہوسکتی ہیں تاکہ کوئی فواد۔کوئی ورڈا کوئی مزاری۔۔۔۔ اسلامی حدود۔۔۔ کا مذاق نہ اڑا سکے اور چوری چھپے اسلامی قوانین کو۔۔۔ روشن خیالی ۔۔۔کی دوڑ میں ۔۔۔۔روند۔۔۔ نہ سکے ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔