مذہبی سیاحت:تحریر محمد شریف شکیب

خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع کرک میں ہندؤں کے مذہبی پیشوا بابا پرم ہنس مہاراج کی سمادھی کی زیارت کے لئے بھارت سے آئی ہوئی یاتری ورونہ ملہوترا نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں ایسا محسوس ہورہا ہے جیسے وہ جنت میں آگئی ہے۔ وہ خوش نصیب ہے کہ اسے پاکستان آنے کا موقع ملا وہ اپنی خوشی بیان نہیں کر سکتی۔ورونہ نے ان سب کا شکریہ ادا کیا جن کی وجہ سے ان کا پاکستان آنا ممکن ہوا۔وہ ان شخصیات کی خاص طور پر شکر گذار ہیں جن کی کوششوں سے یہ مندر تعمیر ہوا۔ضلع کرک میں بابا پرم ہنس مہاراج کی سمادھی ہندؤں کے لئے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔بابا پرم ہنس مہاراج 1901 میں بِہار سے کرک آئے تھے یہیں پران کا انتقال 1919 میں ہوا تھا۔ سمادھی پر حاضری کے لئے دو سو بھارتی ہندو یاتری کرک پہنچے ہیں۔بھارت نے یاتریوں کو پاکستان لانے کے لئے پی آئی اے کو اجازت نہیں دی جس کی وجہ سے159 یاتری واہگہ کے ذریعے جبکہ 41یاتری دبئی سے بذریعہ طیارہ پشاور پہنچے تھے خیبر پختونخوا حکومت نے یاتریوں کے لئے سیکورٹی کے خصوصی انتظامات کئے تھے۔انہیں فول پروف سیکورٹی میں پشاور سے کرک پہنچایاگیا۔ پاکستان نے سکھوں کے مذہبی پیشوا بابا گرونانک کی جنم بھومی کرتاپور کی بحالی اور تزین و آرائش کے بعد راہداری کو یاتریوں کے لئے کھول دیا ہے۔ بھارت سمیت دنیا بھر سے سالانہ ہزاروں کی تعداد میں سکھ یاتری کرتاپور، حسن ابدال اور پشاور میں اپنے مقدس مقامات کی زیارت کے لئے آتے ہیں۔ خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں بدھ مت کے پیروکاروں کے مقدس مقامات ہیں دنیا بھر سے بدھ یاتری ان کی زیارت کے لئے ہر سال یہاں آتے ہیں۔حکومت کی طرف سے مذہبی سیاحت کو فروغ دینے کی پالیسی کی بدولت جہاں یاتریوں کے لئے راستے کھل گئے ہیں وہیں بیرون ملک پاکستان کی ساکھ بھی بہتر ہورہی ہے۔اپنے مقدس مقامات کی زیارت کے لئے پاکستان آنے والے ہندو، سکھ، عیسائی اور بدھ یاتری اپنے ساتھ امن و آشتی، رواداری اور باہمی احترام کا پیغام لے کر جاتے ہیں پاکستان میں جتنی مذہبی آزادی حاصل ہے خطے کے دیگر ملکوں میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ بھارت، برما، سری لنکا اور دیگر ملکوں میں مذہبی اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کے ساتھ جو غیر انسانی سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ اس پر انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔روہنگیا مسلمانوں پر ہونے والے مظالم انسانیت کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہیں۔ جبکہ دوسری جانب بھارتی دارالحکومت دلی سے باباپرم ہنس مہاراج کی سمادھی کی زیارت کے لئے آنے والی خاتون کے یہ تاثرات بھارتی حکومت کو آئینہ دکھانے کے مترادف ہے کہ انہیں پاکستان آکر ایسا لگا جیسے وہ جنت میں داخل ہوئی ہے۔ مذہب، عقیدے، مسلک، قومیت اور زبان کی بنیاد پر تعصب دنیا کے ہر معاشرے میں پایاجاتا ہے۔ اسی طرح تمام مذاہب میں انتہاپسند اور میانہ رو موجود ہوتے ہیں۔عیسائی مذہب میں کیتھولک زیادہ رجعت پسند اور مارٹن لوتھر کے پیروکار پروٹیسٹنٹ مذہب کو انسان کا ذاتی معاملہ سمجھنے والے میانہ رو اور ترقی پسند کہلاتے ہیں۔ اسلام کے 72فرقوں میں بھی شدت پسندوں کا چھوٹا سا طبقہ پایاجاتا ہے مگر مسلمانوں کی واضح اکثریت میانہ رو اور ترقی پسند طبقے پر مشتمل ہے۔گذشتہ ایک صدی کی تاریخ اٹھاکردیکھیں تو پوری دنیا میں مسلمان ہی شدت پسندی، ظلم و زیادتی اور استحصال کا نشانہ بنتے رہے ہیں اس کے باوجود مسلمانوں کو انتہاپسند قرار دینے پر دیگر مذاہب کے لوگ اصرار کرتے رہے ہیں۔ توقع ہے کہ اپنے مقدس مذہبی مقامات کی زیارت کے لئے بھارت سے پاکستان آنے والے ہندو اور سکھ یاتری جب اپنے گھروں کو واپس جائیں گے تو وہ پاکستان کا روشن چہرہ دنیا کو دکھائیں گے۔یہ عمل قوموں کی برادری میں پاکستان اور مسلمانوں کی ساکھ بحال ہونے میں مددگار ثابت ہوگا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔