تازہ ترینمضامین

کچھ نہ کرنا بھی بڑا فن ہے…محمد شریف شکیب

ہمارے ہاں کوئی نوجوان مرد اور خاتون خواہ ایم اے، ایم ایس سی، ایم فل، پی ایچ ڈی، ایل ایل بی، ایل ایل ایم، ایم بی اے، بی بی اے سمیت کوئی بھی اعلیٰ ڈگری کیوں نہ حاصل کرے۔جب تک وہ کوئی نوکری نہیں لے گا اسے تعلیم یافتہ قرار نہیں دیاجاتا۔ہمارے گاؤں کے ایک بزرگ کی یہ بات زبان زد عام ہے کہ جب تک کوئی شخص ڈگری پاس ہونے کے باوجود کرسی نہیں لیتا۔ اس کی تعلیم کسی کام کی نہیں۔ حالانکہ تعلیم کا مقصد صرف نوکری حاصل کرنا تو نہیں ہوتا۔ اس بات کی جون ایلیا نے بہتر انداز میں یوں تشریح کی ہے کہ ”نوکری کررہے ہو مدت سے۔۔تم کوئی کام کیوں نہیں کرتے“۔گویا نوکری کرنا کام کے زمرے میں نہیں آتا۔کام سے مراد جون ایلیا کے نیزدیک کوئی تخلیقی کام ہے۔ مگر ہر شخص میں تخلیقی صلاحیت کہاں ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں سرکاری نوکری کا بہت کریز ہے۔ ہر تعلیم یافتہ شخص کی ہرممکن کوشش اور خواہش ہوتی ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح کسی سرکاری محکمے میں ایک بار گھس جائے اس کے بعد پوری زندگی موجیں ہی موجیں ہیں۔اور مرنے کے بعد بھی اس کے نکمے پن کا پسماندگان کو پنشن کی صورت میں فائدہ ہی فائدہ ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے وہ بھاری معاوضہ بھی ادا کرنے سے گریز نہیں کرتے۔ سرکاری ملازم بننے کے لئے ایک ہی بار ادائیگی کرنی پڑتی ہے جس کے لئے گائے، بیل اور گدھا بیچنا بھی وہ خسارے کا سودا نہیں سمجھتے۔ سرکاری اداروں کے بارے میں یہ بات کسی دل جلے نے مشہور کردی ہے کہ وہاں کام نہ کرنے کی تنخواہ ملتی ہے۔ ہم ذاتی طور پر اس عمومی موقف سے متفق نہیں۔ ہم نے سرکاری اداروں میں کئی لوگوں کو کام کرتے دیکھا ہے۔ اگرچہ وہ Looking bussy, doing nothing کے فارمولے پر عمل پیرا ہوتے ہیں لیکن اس سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ وہ ہاتھ پیر اور زبان چلاتے نظر آتے ہیں۔سچی بات یہ ہے کہ دنیا میں کچھ نہ کرنا بھی ایک فن ہے۔اور بعض لوگ اس فن میں یدطولیٰ رکھتے ہیں۔ جاپان میں ایک شخص ایسا بھی ہے جو ’کچھ نہ کرنے‘ کا باقاعدہ طور پر معاوضہ لیتا ہے اور یہی اس کی آمدنی کا واحد ذریعہ بھی ہے۔ٹوکیو میں رہنے والے 38 سالہ شوجی ماریموتو بچپن ہی سے بہت کاہل اورکام چورتھا۔اپنی اسی ناکارگی کی عادت کی وجہ سے وہ اکثر بے روزگار رہتاتھا۔ 2018 ء میں شوجی نے اپنے نکمے پن ہی کو ذریعہ معاش بنانے کا فیصلہ کیا اور جاپانی سوشل میڈیا پر ’کچھ نہ کرنے والا آدمی کرائے پر دستیاب ہے‘ کے عنوان سے اپنی خدمات پیش کیں۔ حیرت انگیز طور پر ان کی ’خدمات‘ حاصل کرنے کے لئے درجنوں افراد نے ان سے رابطہ کیا اور ’کچھ نہ کرنے‘ پر مناسب معاوضے کی پیشکش بھی کی۔ آج وہی نکما آدمی نہ صرف بیحد مصروف بلکہ کچھ بھی نہ کرنے کے عوض ہزاروں ڈالرکمارہا ہے۔ان کے مستقل گاہکوں میں موسیقار،شاعر اور خواتین شامل ہیں کوئی اپنی تخلیق کی ہوئی دھنیں اسے سنا کر معاوضہ دیتا ہے کوئی اپنی تازہ غزل سنا کر اور داد سمیٹ کو اسے نوازتا ہے۔ شوجی نے تصدیق کی ہے کہ بہت سی خواتین اپنے شوہر، ساس، سسر، نند، بھاوج اور دیگر رشتہ داروں کے بارے میں گلے شکوے سنانے یا کسی ریسٹورنٹ جاکر ساتھ چائے، کافی پینے اور کھانا کھانے کے عوض اسے ڈھیروں انعامات دیتی ہیں۔شوجی کا کہنا ہے کہ یہ سروس تو میں نے یونہی شروع کی تھی لیکن مجھے احساس ہوا کہ بعض لوگ اپنی زندگی میں اس قدر تنہائی کا شکار ہوتے ہیں کہ وہ کچھ دیر کو اپنی تنہائی دور کرنے کیلیے خوشی خوشی معاوضہ دینے کو تیار ہوجاتے ہیں، شوجی نے بتایا کہ میرے بیشتر مستقل گاہک
مجھے کسی پرسکون جگہ لے جاتے ہیں ہم گھنٹوں خاموشی سے بیٹھے رہتے ہیں مجھے صرف ان کے پاس بیٹھنا ہوتا ہے اور کبھی کبھار ان کے دل کی باتیں بھی سننی پڑتی ہیں۔ جس کا وہ معقول معاوضہ ادا کرتے ہیں۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کچھ نہ کرنا بھی ایک بڑا فن ہے اور مستقبل میں اس فن کی مانگ میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔