وزیراعلیٰ محمود خان کی زیر صدارت اشیائے خوردونوش کی قیمتوں سے متعلق ایک اجلاس منعقد

پشاور(چترال ایکسپریس)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی زیر صدارت اشیائے خوردونوش کی قیمتوں سے متعلق ایک اجلاس منگل کے روز منعقد ہوا جس میں صوبہ بھر میں آٹے اور چینی سمیت 17 اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کی تازہ صورتحال ، قیمتوں کو کنٹرول کرنے کیلئے انتظامیہ کے اقدامات اور دیگر متعلقہ اُمورکا تفصیلی جائزہ لیا گیا ۔ چیف سیکرٹری ڈاکٹر شہزاد بنگش، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری امجد علی خان، سیکرٹری داخلہ خوشحال خان، سیکرٹری خوراک ڈاکٹر کاظم حسین کے علاوہ دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی ۔
اجلاس میں خیبرپختونخوا اور دیگر صوبوںمیں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کا تقابلی جائزہ بھی لیا گیا ۔شرکاءکو بتایا گیا کہ دیگر صوبوں کی نسبت خیبرپختونخوا میں بیشتر اشیائے خوردونوش کی قیمتیں نسبتاً کم ہیں، گزشتہ ایک ہفتے کے دوران سات اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں کمی آئی ہے جن میں دال مسور، مونگ، ماش،آلو، ٹماٹڑ، چینی اور ایری شامل ہیں۔ چھ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں استحکام رہا ہے جن میں آٹا ، بیف، مٹن، گھی ، انڈے اور لہسن شامل ہیں جبکہ چار اشیاءکی قیمتوں میں معمولی اضافہ ہوا ہے جن میں چکن، باسمتی ، گرام اور پیاز شامل ہیں۔ اجلاس کو گندم کی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ صوبے میں اگلے پیداواری سیزن تک گندم کا وافر ذخیرہ موجود ہے اور فلو ر ملوں کو روزانہ کی بنیاد پر سات ہزار میٹرک ٹن سرکاری گندم دی جارہی ہے ۔شرکاءکو آگاہ کیا گیا کہ گزشتہ سال دسمبر کے مہینے میں صوبہ بھر میں 6722 دُکانوں اور 479 ملوں کو چیک کیا گیا جبکہ 735 افراد کے خلاف کاروائی کی گئی ۔ مجموعی طور پر 19 لاکھ روپے سے زائد کے جرمانے بھی لگائے گئے ۔چینی کے حوالے سے بتایا گیا کہ 85 ہزار میٹرک ٹن سے زائد چینی کا ذخیرہ موجود ہے جبکہ چینی کی قیمتوں پر قابو پانے کیلئے 24 سو سے زائد دکانوں کو چیک کیا گیا ۔352 دکانوں کو وارننگزجاری کی گئیں جبکہ 17 افراد کے خلاف ایف آئی آرز بھی درج کرائی گئی ہیں۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ صوبہ بھر میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں سے متعلق ماہانہ کی بنیاد پر رپورٹ تیار کی جائے اور اشیائے خوردونوش کی ذخیرہ اندوزی اور خود ساختہ مہنگائی پر کڑی نظر رکھی جائے ۔ اُنہوںنے کہا کہ ذخیرہ اندوزی اور سرکاری نرخ سے زائد پر اشیائے خوردونوش کی فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت سے سخت ایکشن لیا جائے ۔ وزیراعلیٰ نے تمام اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے متعلقہ اضلاع میں سرکاری نرخنامے پر ہر صورت عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو یہ بھی ہدایت کی ہے کہ صوبے کے کسانوں کو سرکاری نرخ پر یوریا (کھاد) کی فراہمی کیلئے ایک موثر میکنزم بنایا جائے ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔