تازہ ترین

وزیراعلیٰ محمود خان کی زیر صدارت صوبائی ٹاسک فورس برائے ضم اضلاع کا اجلاس

پشاور(چترال ایکسپریس)خیبرپختونخوا حکومت نے نئے ضم شدہ اضلاع بشمول شمالی اور جنوبی وزیرستان میں معاشی سرگرمیوں میں تیزی لانے کے لئے ایک اہم قدم کے طور پر اکنامک ڈویلپمنٹ پلان تیار کرلیا ہے جس کے تحت اگلے تین سالوں میں شمالی وزیرستان میں 16 ارب روپے مالیت کے 55 منصوبے جبکہ جنوبی وزیرستان میں 24ارب روپے مالیت کے 57 منصوبے مکمل کئے جائیں گے، ان منصوبوں کی تکمیل سے ان اضلاع میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا اورمقامی سطح پر لوگوں کوروزگار کے مواقع میسر آئیں گے ۔ ضم اضلاع کے شہری علاقوں اور بازارو ں کی تزئین و آرائش کے لئے 7.8 ارب روپے کامنصوبہ بھی منظور کر لیا گیا ہے جبکہ ان اضلاع کے لوگوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لئے ماسٹر پلان بھی تیار کرلیا گیا ہے جو آئندہ ہفتے متعلقہ فورم سے منظور ہو جائیگا۔ اس کے علاوہ ضم اضلاع میں معدنیات سے استفادہ کرکے لوگوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لئے بھی حکمت عملی تیار کی جارہی ہے۔
یہ بات بدھ کے روز وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کی زیر صدارت صوبائی ٹاسک فورس برائے ضم اضلاع کے ایک اجلاس میں بتائی گئی۔ صوبائی کابینہ اراکین تیمور سلیم جھگڑا ، شوکت یوسفزئی ، شہرام خان ترکئی ، اقبال وزیراور بیرسٹر محمد علی سیف کے علاوہ کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید ، چیف سیکرٹری ڈاکٹر شہزاد بنگش، انسپکٹر جنرل آف پولیس معظم جاہ انصاری، ایڈیشنل چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری امجد علی خان، متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز اور دیگر سول و عسکری حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔
اجلاس میں ضم اضلاع خصوصاً شمالی اور جنوبی وزیرستان میں ترقیاتی منصوبوں ، انتظامی معاملات ، امن و امان کی صورتحال، انضمام کے عمل پر پیشرفت اور دیگر معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے شرکاءکو شمالی اور جنوبی وزیرستان کے حوالے سے ٹاسک فورس کے گذشتہ اجلاس میں کئے گئے فیصلوں پر عملدرآمد کی صورتحال کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ٹاسک فورس کے گزشتہ اجلاس میں جنوبی وزیرستان کے کل 29 عوامی مسائل کی نشاندہی کی گئی تھی جن میں سے 17مسائل حل ہو چکے ہیں ، 11 پر ٹائم لائنز کے مطابق پیشرفت جاری ہے جبکہ ایک مسئلے پر عملدرآمد پر تاخیر کا شکار ہے۔ اسی طرح شمالی وزیرستان سے متعلق 27 مسائل کی نشاندہی کی گئی تھی جن میں سے 13 حل ہوچکے ہیں جبکہ مزید 14 پر پیشرفت جاری ہے۔ اجلاس کو مذکورہ اضلاع میں سرکاری دفاتر کے قیام سے متعلق بتایاگیا کہ ان اضلاع میں عارضی بنیادوں پر تمام سرکاری دفاتر قائم کئے گئے ہیں جبکہ مستقل بنیادوں پر سرکاری دفاتر کی تعمیر کے لئے زمینوں کی خریداری کا عمل جاری ہے اس کے علاوہ شمالی اور جنوبی وزیرستان میں ڈسٹرکٹ اور تحصیل کمپلیکسز کی تعمیر کا منصوبہ بھی منظور کیا گیا ہے۔ علا وہ ازیں ضم اضلاع میں لینڈ سیٹلمنٹ کے عمل کے لئے ایک خصوصی پراجیکٹ شروع کیا گیا ہے ۔ ضم اضلاع میں سیاحت کو فروغ دینے کے لئے دو الگ منصوبوں کے پی سی ونز منظور ہو چکے ہیں۔ شرکاءکو بتایا گیا کہ سابقہ فاٹا کے 3477 پراجیکٹ ملازمین کو مستقل کرنے کے لئے قانون سازی مکمل کرلی گی ہے ۔ علاوہ ازیں، اجلاس کو ضم اضلاع میں امن و امان کی صورتحال کو مزید بہتر بنانے کے لئے اٹھائے گئے اقدامات کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ان اضلاع میں پولیس کو مستحکم کرنے پر کام جاری ہے اور اس مقصد کے لئے ضم اضلاع میں 18 ہزار سے زائد پولیس اہلکاروں کی ٹریننگ مکمل کی گئی ہے جبکہ باقی ماندہ اہلکاروں کی ٹریننگ اس سال جون تک مکمل کرلی جائے گی، پولیس کے لئے جدید اسلحہ اور گاڑیوں کی خریداری پر بھی کام جاری ہے۔ اس کے علاوہ مذکورہ اضلاع میں کاو¿نٹر ٹیرارزم ڈیپارٹمنٹ کو مزید مضبوط بنانے کے لئے 715 نئی آسامیوں کی منظوری بھی ہو چکی ہے۔ شمالی اور جنوبی وزیرستان کے لئے تیار کردہ ہیلتھ پلان پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایاگیا کہ ان اضلاع کے مراکز صحت کے لئے طبی عملے کی کمی کو پورا کرنے کے لئے تمام ایس این ایز منظور ہوچکی ہےں جبکہ ان اضلاع میں غیر فعال ہسپتالوں کو مکمل طور پر فعال بنانے اور طبی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے کے لئے متعدد ہسپتالوں کے انتظام و انصرام کو آو¿ٹ سورس کیا گیا ہے ۔ مزید بتایا گیا کہ ضم اضلاع میں صحت کارڈ کی سالانہ کوریج میں اضافے کے لئے معاملہ وفاقی حکومت کو ارسال کیا گیا ہے۔ اجلاس میں ضم اضلاع میں امن وامان کو برقرار رکھنے، علاقے کی تعمیر و ترقی اور عوامی مسائل کے فوری حل کے لئے سول اور عسکری اداروں کے درمیان روابط کو مزید بہتر بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ ضم اضلاع میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر ٹائم لائنز کے مطابق عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے ، اس سلسلے میں کسی قسم کی کوتاہی یا تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کوہدایت کی ہے کہ وہ اپنے اضلاع میں سرکاری دفاتر کے قیام کے لئے زمین کی خریداری کا عمل تیز کرےں۔ اس کے علاوہ ڈپٹی کمشنرز حکومت کی ٹرانسفر پالیسی پر من و عن عملدرآمد کو یقینی بنائےں۔ انہوں نے واضح کیا کہ جو بھی ڈپٹی کمشنر ٹرانسفر پالیسی پر عملدرآمد نہیں کرےگا وہ اپنے عہدے پر نہیں رہیگا۔ وزیراعلیٰ نے صوبائی وزراءاور دیگر کابینہ اراکین کو ہدایت کی ہے کہ وہ عوامی رابطوں کے لئے باقاعدہ سے ضم اضلاع کے دورے کریں اور عوامی مسائل جاننے کے لئے مشاورتی اجلاس منعقد کریں۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو یہ بھی ہدایت کی ہے کہ شمالی وزیرستان میں انڈسٹریل اسٹیٹ کے قیام کے لئے موزوں اراضی کی نشاندہی کی جائے ۔ اجلاس میں ضم اضلاع میں ترقیاتی کاموں اور عوامی فلاح وبہبود کے اقدامات کے بارے میں عوام کو آگہی دینے کے لئے ان اقدامات کی تشہیر پر بھی زور دیا گیا ۔ کورکمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے ضم اضلاع کی ترقی اور عوامی مسائل کے فوری حل کے لئے صوبائی ٹاسک فورس کو ایک موثر پلیٹ فارم قرار دیتے ہوئے ان اضلاع کی پائیدار بنیادوں پر ترقی کے لئے صوبائی حکومت کو ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔