صحت اور تعلیم کی سہولیات کے ساتھ ساتھ خواجہ سراؤں کو باعزت روزگار کے مواقع فراہم کی جائے،ندیم کشش

اسلام آباد(چترال ایکسپریس)تقربیاپندرہ سال پہلے اپنوں کاٹھکرائے ہوئے ملتان کے رہنے والے ندیم کشش کوبری امام کی جھولی میں پناہ ملی ۔ ندیم کشش نے انتہائی کھٹن حالات کا سامناکرتے ہوئے خود کو ایک باعزت شہری کے طور پر منوایاہے جواس وقت ملک کے ایک معروف میڈیاگروپ میں بطور میک اپ آرٹسٹ ایک باعزت پیشے سے منسلک ہیں۔

ندیم کشش نے جو بری امام کے پیچھے اپنے رہائش گاہ کچی بستی میں جس کانام پری باغ رکھاہے چترال سے تعلق رکھنے والے صحافی سید نذیر حسین شاہ سے خصوصی گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ محروم انسانوں کو اکیسویں صدی کے ایک تعلیم یافتہ معاشرے سے عزت نفس کے ساتھ جائز حقوق دلانے کی جہدوجہد میں مصروف ہوں جس کے لیےسفرکے نام سے تنظیم کی بنیادرکھی ہے۔ انہوں نے کہاکہ خواجہ سراءکومعاشرے میں کئی سماجی رکاوٹوں اورلوگوں کی مختلف قسم کی زیادیتوں کاسامناکرناپڑتاہے ۔یہ لوگ معاشرے میں گھرولوں ،دوستوں اوررشتہ داروں کی زیادتی کابھی نشانہ بنتے ہیں اورمعاشرے میں یقینی طوربے شمار عجیب و غریب قسم کے مشکلات کاسامناکرناپڑتاہے۔ سماج میں خواجہ سراوں کوایک عام انسان کے حقوق دینے کی بجائے نفرت کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ ہمارے معاشرے میں خواجہ سراؤں کو صرف ناچ گانے کے طور پر جانا جاتاہے عزت کی نگاہ سے کوئی نہیں دیکھتے ہیں ۔حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ بہتر سستی صحت اور تعلیم کی سہولیات کے ساتھ ساتھ خواجہ سراؤں کو باعزت روزگار کے مواقع فراہم کی جائے تاکہ انسانی معاشرے میں عزت کی زندگی گزارسکیں۔

اس موقع پرآمہ گوری ،جولی اور انمول نے کہاکہ خواجہ سراء بچین میں ہی اپناگھربارچھوڑکرکسی گرو کے پاس چلے جاتے ہیں کیونکہ رشتہ داروں سے ہرقسم کاناطہ توڑدیتے ہیں ۔ اسی لئے ضروری ہے کہ خواجہ سراؤں کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ ا ن کے باعزت مقام اور بنیادی حقوق کی اہمیت پرزوردیاجائے تاکہ خواجہ سراء بھی معاشرے میں مفید شہری کا کردار ادا کرسکیں ۔انہوں نے کہاکہ علماء کو چاہئے کہ وہ بذریعہ تبلیغ معاشرے میں خواجہ سراؤں کو وہ مقام دلائیں جو ان کے لئے اسلام نے مقرر کیا ہے ۔ہم بحیثیت انسان معاشرے میں محروم طبقات کی آوازبن کر ان کی زندگیوں میں بہتری لا سکتے ہیں ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔