تازہ ترین

صوبہ خیبر پختونخوا میں رواں سال کی پہلی انسداد پولیو مہم کا آغاز 17جنوری بروزپیر سے ہوگا

پشاور(چترال ایکسپریس) صوبہ خیبر پختونخوا میں رواں سال کی پہلی انسداد پولیو مہم کا آغاز 17جنوری بروزپیر سے ہوگامہم کے دوران پانچ سال سے کم عمر کے44لاکھ76ہزار سے زاہد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے۔ انسداد پولیو مہم دو مراحل میں کی جائے گی جس کی پہلے مرحلے میں 6 جنوبی اضلاع بنوں، لکی مروت، ٹانک، ڈی آئی خان، شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان جبکہ دوسرے مرحلے میں پشاور،مردان،کوہاٹ ڈویژن،باجوڑ اور دیر لوئر میں پولیو مہم چلائی جائے گی۔ مرحلہ وار مہم کا فیصلہ بنوں اور ٹانک میں پولیو وائرس مثبت آنے کے بعد کیا گیا۔
ایمرجنسی آپریشن سنٹر میں اعلیٰ سطح اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت خیبرپختونخوا ایمرجنسی آپریشن سنٹر کے کوآرڈینیٹر عبدالباسط نے کی۔ اجلاس میں 17جنوری سے شروع ہونے والی مہم کے تمام تر تفصیلات پر بات ہوئی۔ ا س موقع پر ڈائریکٹر ای پی آئی،ٹیکنیکل فوکل پرسن فور پولیو، ڈبلیوایچ او،یونیسف، محکمہ صحت اور دیگر معاون اداروں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔اجلاس کے شرکاء نے انسداد پولیو مہم کے انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا اور پولیو کے موذی وائرس کے خاتمے کے لیے نتیجہ خیز اقدامات سے متعلق تجاویز اور حکمت عملی پر اتفاق کیا۔
ای او سی کوآرڈینیٹر عبدالباسط نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس پولیو مہم کو زیادہ سے زیادہ موثرانداز میں چلانے کی ہدایات جاری کیں۔
مہم کے لئے پانچ سال سے کم عمر کے 44لاکھ76ہزار989بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے اس مقصد کے لئے تربیت یافتہ پولیو ورکرز پر مشتمل 20484ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں ان پولیو ٹیموں میں 18ہزار324موبائل،1ہزار237فکسڈ،856ٹرانزٹ اور67رومنگ ٹیمیں شامل ہیں۔جبکہ مہم کی موثر نگرانی کے لئے4ہزار949ایریا انچارجز کی تعیناتی عمل میں لائی گئی ہے۔ انسداد پولیو مہم کے دوران پولیو اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون سے سیکورٹی کے خاطر خواہ انتظامات کئے گئے ہیں۔ کوآرڈینیٹر ای او سی عبدالباسط نے معاشرے کے تمام طبقات پر زوردیا کہ بچوں کے مستقبل کوپولیو کے ہاتھوں معذوری سے بچانے اور ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل کے لئے اس پولیو مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔