وزیر اعلیٰ محمود خان نے جمعہ کے روز ضلع سوات کا دورہ کرکے مختلف ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کیا

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے جمعہ کے روز ضلع سوات کا ایک روزہ دورہ کیا جہاں پر انہوں نے مختلف ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کیا۔ وزیر اعلی نے سیدو میڈیکل کالج میں ہاسٹل،لیکچر تھیڑز،لیبارٹریز اور آڈیٹوریم سمیت دیگر سہولیات کا افتتاح کیا۔ یہ منصوبہ 1.1 ارب روپے کی لاگت سے مکمل کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ وزیراعلیٰ نے سید و کالج آف ڈینٹسری میں ہاسپٹل بلاک، کالج بلاک اور باونڈری وال کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھا جس کا تخمینہ لاگت 71 کروڑ روپے ہے۔ انہوں نے سیدو ٹیچنگ ہسپتال میں کیتھ لیب اور ریجنل بلڈ سنٹر کا بھی افتتاح کیاجو بالترتیب 17 کروڑ روپے اور24 کروڑ روپے کی لاگت سے قائم کئے گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے سید و میڈیکل کالج میں اس سلسلے میں منعقدہ ایک تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہاکہ سوات میں ڈینٹل کالج اینڈ ہاسپٹل کا قیام ایک تاریخی اقدام ہے اور اس کالج کا قیام ملاکنڈ کے عوام کی ایک دیرینہ خواہش تھی جو آج پوری ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ سوات سمیت پور ے ملاکنڈ ڈویژن کے عوام اس سے مستفید ہوں گے۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ موجودہ دور حکومت میں صوبے میں میڈیکل کالجوں کی نشستوں کو 1300 سے بڑھا کر1750 کر دیا گیا ہے۔ محمود خان نے صحت کارڈ پلس کی صوبے کی سو فیصد آبادی تک توسیع کو پاکستان تحریک انصاف حکومت کا ایک فلیگ شپ منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس اسکیم کو مزید جامع بنایا جارہا ہے اور گردوں کے مفت علاج کو صحت کارڈ میں شامل کیا گیا ہے جبکہ جگر کی پیوند کاری اور کینسر کے علاج کو بھی صحت کارڈ میں شامل کیا جا رہا ہے۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ عنقریب مفت او پی ڈی سروسز کو بھی صحت کارڈ سکیم میں شامل کیا جائے گا۔ محمود خان نے کہاکہ سابق وزرائے اعلیٰ نے صرف اپنے اپنے اضلاع کی ترقی پر توجہ دی لیکن وہ واحد وزیراعلیٰ ہیں جو ضم اضلاع سمیت پورے صوبے کو یکساں بنیادوں پر ترقی دے رہے ہیں۔ گزشتہ ادوار میں صرف کاغذوں میں یونیورسٹیاں قائم کی گئی ہیں لیکن صوبے کی تاریخ میں پہلی بار پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے جو کام کئے ہیں وہ مستقل اور پائیدار بنیادوں پر کئے ہیں۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ چارسدہ، بونیر، کرم ، دیر ، مانسہرہ سمیت دیگر اضلاع میں بھی میڈیکل کالجز قائم کئے جائیں گے تاکہ مقامی لوگوں کو ا±ن کو اپنے ہی اضلاع میں طبی تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔ عوام سے جو وعدے کئے تھے انہیں ایک ایک کرکے پورا کر رہے ہیں اور انشاءاﷲ سوات اور ملاکنڈ ڈویژن سمیت صوبہ بھر میں ترقی کا یہ عمل زور و شور سے جاری رہے گا۔ صوبائی حکومت کی سیاحت کے فروغ کیلئے اپنائی گئی پالیسی کی بدولت صوبے میں سیاحتی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ گزشتہ سیاحتی سیزن میں 27 لاکھ ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کا صوبے کے سیاحتی مقامات کا رخ کرنا صوبائی حکومت کی کامیاب پالیسیوں کی غمازی کر تا ہے۔ ان سیاحوں کی آمد سے صوبے کو 66 ارب روپے کا ریونیو حاصل ہوا۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ دہشت گردی سے متاثرہ ضلع سوات کے مسائل کے حل کیلئے طویل المدتی پلان پر عمل درآمد جاری ہے اور اگلے 30 سے 40 سالوں تک سوات کے عوام کو کوئی مسئلہ نہیں ہو گا۔ اگلے مہینے سوات موٹروے فیز ٹو کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھ دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ مینگورہ سٹی میں پینے کے پانی کا دیرینہ مسئلہ حل کرنے کیلئے منصوبہ منظور کیا گیا ہے جس سے پانی کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل ہو جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ موجودہ حکومت غریب طبقے کو ریلیف دینے کیلئے احساس راشن رعایت پروگرام لا رہی ہے تاکہ اس طبقے کو مہنگائی کے اثرات سے محفوظ بنایا جا سکے۔ نوجوانوں کوخود روزگاری کیلئے پانچ لاکھ روپے تک قرضے دیئے جارہے ہیں تاکہ وہ اپنا کاروبار شروع کر سکیں۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ صوبے کے آئمہ کرام کو 10 ہزار روپے ماہانہ وظائف کی ادائیگی شروع کر دی گئی ہے۔ صوبائی وزیر محب اﷲخان، اراکین صوبائی اسمبلی فضل حکیم خان ، عزیز اﷲ گران، میاں شرافت اور دیگر بھی اس موقع پرموجود تھے۔ قبل ازیں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سیدو گروپ آف ہاسپٹلز کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر اسرار الحق اور سیدو ڈینٹل کالج کے پراجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد طارق نے ادارے کی کارکردگی اور مستقبل کے لائحہ عمل پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔