سیکرٹری جنرل کا بروقت انتباہ…محمد شریف شکیب

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے افغانستان کو موت کا دہانہ قرار دیتے ہوئے عالمی برادری کو خبردار کیا ہے کہ فوری امداد فراہم نہ کی گئی تو 90لاکھ افغانیوں کے بھوک کے ہاتھوں مرنے کا اندیشہ ہے۔ انتونیو گروتریس کا کہنا تھا کہ منجمد درجہ حرارت اور منجمد اثاثے افغانستان کے لئے مہلک امتزاج بن چکے ہیں۔ ایسے تمام اصول و ضوابط اور معاشی نظام جو پیسوں کو جان بچانے کے لیے استعمال ہونے سے روکتے ہیں انہیں ہنگامی صورت حال میں معطل کر دینا چاہیے۔طالبان کی طرف سے افغانستان کا سیاسی اقتدار اپنے ہاتھ میں لینے کے بعد بین الاقوامی امداد رکنے کے ساتھ ہی امریکہ نے افغانستان نے اپنے اربوں ڈالر کے اثاثے بھی منجمد کر دئیے ہیں ان میں سے سات ارب ڈالر امریکی بینکوں اور دو ارب ڈالر دوسرے مالیاتی اداروں کے پاس ہیں۔ امریکی حکومت کا موقف ہے کہ نائن الیون کے متاثرہ خاندانوں نے امریکی بینکوں میں موجود افغانستان کے اثاثوں پر دعویداری کی ہے یہ معاملہ طے ہونے تک افغانستان کے اثاثے وا گذار نہیں کئے جاسکتے۔ امریکہ نے طالبان کے ساتھ قطر میں طے پانے والے امن معاہدے کے تحت اپنی فوجیں کابل سے نکالی تھیں۔ امریکہ کو بخوبی معلوم تھا کہ فوجی انخلاء کے بعد اس کی کٹھ پتلی حکومت چند دن بھی اپنے پاؤں پر کھڑی نہیں رہ سکتی۔ اور طالبان ملک کا سیاسی اقتدار اپنے ہاتھ میں لیں گے۔ طالبان نے امریکی اور نیٹو افواج کو افغانستان سے نکلنے کا محفوظ راستہ دیا۔ جونہی افغانستان سے وابستہ امریکہ کے مفادات ختم ہوگئے۔انہوں نے 1979والی اپنی غلطی دہراتے ہوئے بین الاقوامی امداد بند کرادی اور افغانوں کے اپنے اثاثے بھی منجمد کردیئے۔اگرچہ طالبان نے غیر ملکی امداد کے بغیر ہی اپنا بجٹ بنالیا ہے لیکن بیرونی امداد کے بغیر یہ لینڈ لاکڈ ملک ایک سال بھی اپنے وسائل پر زندہ نہیں رہ سکتا۔مختلف سرکاری اداروں کے ملازمین گذشتہ پانچ مہینوں سے تنخواہوں سے محروم ہیں۔ اگرچہ افغان وزارت خزانہ نے اعلان کیا ہے کہ رواں ماہ کے آخر سے ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی شروع ہوگی۔ جن خواتین کو کام کی جگہ پر آنے سے روکا گیا ہے ان کی تنخواہیں بھی نہیں روکی جائیں گی۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خالی خزانے کے ساتھ تنخواہوں کی ادائیگی کیسے ممکن ہوگی۔خانہ جنگی سے تباہ حال ملک کا سب سے قریبی ہمسایہ ہونے کے ناطے پاکستان نے بارہا عالمی برادری کو افغانستان میں ممکنہ انسانی المیے سے خبردار کیا ہے۔ اقوام متحدہ اور اس کے ذیلی اداروں نے بھی صورتحال بتدریج خراب سے خراب تر ہونے کی تصدیق کی ہے عالمی ادارے نے افغانستان میں قحط کا خطرہ روکنے، امداد اور بحالی کے منصوبے کے تحت عالمی برادری سے پانچ ارب ڈالر فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ پاکستان نے اسلام آباد میں او آئی سی کا وزارتی اجلاس بلاکر اسلامی ملکوں سے فوری امداد فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔ اب تک سعودی عرب، عرب امارات اور پاکستان کے سوا کسی اسلامی ملک نے افغان عوام کی مدد کے لئے ہاتھ نہیں بڑھایا۔ پاکستان کو یہ تشویش ہے کہ اگر صورتحال بہتر نہ ہوئی تو لاکھوں کی تعداد میں افغان مہاجرین ایک بار پھر پاکستان کا رخ کریں گے جبکہ یہاں تیس لاکھ سے زیادہ رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ مہاجرین پہلے سے رہائش پذیر ہیں مہاجرین کی نئی لہر سے پاکستان کی معیشت پر بھی گہرے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ ایران کو بھی یہی تحفظات ہیں۔عالمی برادری کی طرف سے امداد کی بحالی کے لئے طالبان سے انسانی حقوق کے احترام، خواتین کو تعلیم و روزگار کی آزادی دینے، سیاسی مخالفین کو انتقام کا نشانہ نہ بنانے اور تمام بڑی سیاسی گروپوں کو شامل کرکے قومی حکومت قائم کرنے کے مطالبے کئے جارہے ہیں۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے بڑے پتے کی بات کی ہے کہ قوانین اور قواعد و ضوابط انسانوں کی بھلائی کے لئے وضع کئے جاتے ہیں جب یہ قواعد و ضوابط انسانی بقاء کے لئے خطرہ بن جائیں تو ان کی تعمیل غیر ضروری ہوجاتی ہے۔ اس لئے اقوام عالم کو اپنے مطالبات کی پوٹلی ایک طرف رکھ کر افغان خواتین، بچوں اور نوجوانوں کو بھوک سے ہلاکت سے بچانے کے لئے اقدامات کرنے ہوں گے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔