دادبیداد…سما جی خد مت…ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

بر ف باری کے مو سم میں چار پہا ڑی اضلا ع سے خبریں آئی ہیں کہ سکولوں اور کا لجوں کے طلباء نے رضا کارانہ طور پر راستے صاف کر کے ٹریفک کو جاری رکھنے میں مدد دی، گلیات اور کو ہستا ن سے چترال تک خیبر پختونخوا کے پہا ڑی اضلا ع سے آنے والی خبریں باعث مسرت بھی ہیں باعث حیرت بھی، ان خبروں پر خوشی اس لئے ہو تی ہے کہ انسا نیت کا جذبہ طلباء میں زندہ ہے حیرت اس بات پر ہو تی ہے کہ محکمہ تعلیم کی طرف سے رضا کارانہ خد مات اور سما جی کا موں کی بھر پور حو صلہ شکنی کے باو جو د طلباء میں یہ جذبہ کیسے پیدا ہوا؟ اور کس طرح پروان چڑھا مقطع میں سخن گسترانہ بات ویسے نہیں آئی ہمارے جن بزرگوں نے 1990سے پہلے کے تعلیمی اداروں کا ما حول دیکھا ہے ان کو معلوم ہے کہ 1990سے پہلے تعلیمی اداروں میں بوائے سکا وٹس، گرل گائیڈز اور سوشل ور ک کے ذریعے طلباء اور طا لبات کو سما جی خد مات کی تعلیم اور تر غیب دی جا تی تھی کا لجوں میں ٹیو ٹو ریل گروپس کے ذریعے طلباء اور طا لبات کی مخفی صلا حیتوں کو اجا گر کیا جاتا تھا نیشنل کیڈٹ کور کے ذریعے طلباء اور طا لبات کو لا زمی فو جی تر بیت سے آراستہ کرنے کا مر بوط پرو گرام تھا 30سال پہلے یہ تما م سلسلے ختم کر دیئے گئے آج کا طا لب علم ان نا موں سے واقفیت نہیں رکھتا 30سال بعد کسی سکول اور کا لج کے طا لب علموں نے اگر اپنی طرف سے اپنا شوق اور جذبہ لیکر یا گھر کی تر بیت سے فائدہ اٹھا کر سما جی خد مت انجا م دی ہے تو یہ پورے صو بے کے تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ تعلیمی نظم و نسق کو تباہ کر نے والے حکام کے لئے بھی ایک سبق اور ایک مثال ہے 1960ء کی دہا ئی میں جب ہماری عمر کے لو گ سکو لوں اور کا لجوں میں تھے تو ہمیں سما جی خد مت کی با قاعدہ تعلیم دی جا تی تھی بوائے سکا وٹس اور گرل گا ئیڈ ز کے کیمپوں میں بنیا دی طبی امداد قد رتی آفات میں گھرے ہوئے لو گوں کو محفوظ مقا مات پر پہنچا نے اور سڑ کوں سے رکا وٹیں ہٹا کر ٹریفک کو جا ری رکھنے میں مدد دینے کی تر بیت دی جا تی تھی ہم لو گ چادر اور با نس کی مدد سے خود سڑیچر بنا تے تھے، ہم لو گ بیلچہ اور کدال لیکر سڑ کوں اور نہروں کی صفا ئی کر تے تھے یہ ہمارے تعلیمی کیلنڈر کا حصہ تھا فزیکل ایجو کیشن کا استاد فو ج کا ریٹا ئرڈ جے سی او ہو تا تھا وہ ان کا موں کی تر بیت دیتا تھا کا لج کی سطح پر ٹیو ٹو رئیل کے ذریعے طلبا ء اور طا لبات کے رجحا نات اور ان کی مخفی صلا حیتوں کا جا ئزہ لیکر ان صلا حیتوں کو نکھا ر نے پر تو جہ دی جا تی تھی ٹا ئم ٹیبل میں ٹیو ٹو رئیل کا با قاعدہ پیریڈ ہوتا تھا کا لجوں میں نیشنل کیڈٹ کور کے ذریعے ہر طا لب علم کو دفاعی تر بیت دی جا تی تھی جس میں چا ندماری، سرٹیفیکیٹ اور پاسنگ آوٹ بھی شا مل تھی اس کے 20نمبرتھے کا لجوں میں لا زمی سما جی خد مت کا دورانیہ مقرر تھا یہ ایک ہفتے سے 10دن تک ہو تا تھا اس میں ڈگری کلا سوں کے طا لب علم لا زمی سو شل ورک میں وقت لگا کر سر ٹیفیکیٹ حا صل کر تے تھے اس سر ٹیفیکیٹ کے بغیر امتحا ن کے لئے فارم داخل کرنے کی اجا زت نہیں تھی اس وجہ سے سو شل ورک کی سختی سے پا بندی کی جا تی تھی مر دان اور نو شہرہ کا لج کے طلبہ سوشل ورک کے لئے دیر، سوات اور چترال تک جاتے تھے، عطیہ خون کے کیمپ لگا تے تھے دیگر سما جی خد مات میں حصہ لیتے تھے آج کے دور میں 30سال پرانے سسٹم کو واپس لا نے کی اشد ضرورت ہے اگر سیا سی رہنما اس طرف تو جہ نہ دے سکیں تو پا ک فو ج اور عدلیہ کو ”سو مو ٹو“ لیکر حکومت سے یہ کا م لینا چا ہئیے

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔