پس وپیش۔   دیرینہ کارکن ۔ اے.ایم.خان

وہ دن مجھے یاد نہیں جب میں اس پارٹی کے ساتھ منسلک ہوا اور اب تک اس کا ایک ادنیٰ کارکن ہوں، کیونکہ پارٹی سے میرا ربط گھر سے ہی شروع ہوئی جب والد صاحب گاوں اور باہر سےکوئی  آجاتا تو سیاسی بات ہوتے تھے وہاں سے میری سیاسی تعلیم  اور پارٹی سے تعلق شروع ہوئی ۔ میرا پارٹی اور سیاست سے لگاو کا آغاز بھی اسوقت ہوا ۔ اس پارٹی سے منسلک ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ میں بس اسے ووٹ دیتا ہوں بلکہ میں نے اُس کے لئے لوگوں سے بات کی ہے، الیکشن کے وقت  پارٹی کے راہنما کے ساتھ عوامی مہم میں جا چُکا ہوں۔ پارٹی کے اجلاس جب بھی، جہاں  اور جس معاملے میں ہوئے وہاں شرکت کی ہے۔ گزشتہ الیکشن کےدوراں جو وقت میں نے جلسہ جلوس اور سوشل میڈیا میں لوگوں کے ساتھ الفاظ کی جنگ کی ہے جس کا اندازہ آپ کر بھی نہیں سکتے۔

یہ تو مجھے نہیں معلوم کہ آپ اپنے جماعت کے لئے کتنا کام کرچُکے ہیں ، کر رہے ہیں، اور کسطرح کام کر چُکے ہیں۔ لیکن یہ معلوم ہے کہ آپ پارٹی کا دیرینہ کارکن ہیں، اور پارٹی کے لئے آپ کے خدمات ہیں۔اور  آپ جس جانور کے نام اور علامت سے منسلک ہیں یہ آپ کا ذاتی معاملہ ہے۔

میں صرف آپ سے یہ پوچھ رہا تھا کہ چند دن پہلے آپ چند دیرینہ کارکن،  جب میں دوکان سے واپس ہورہا تھا، تو آپ لوگ آپس میں غٹ پٹ ہو رہےتھے اور زور زور سے بات کر رہے تھے ۔ آخر بات کیا تھی۔

یار،شاید  آپ بھی کسی نہ کسی پارٹی ، لیڈر اور سیاسی سوچ کو پسند کرتے ہیں ۔آپ کو معلوم ہے ہماری حالت اس سے بھی سوا ہے۔ ہم تو کارکن ہیں۔ پارٹی کے اندر ہمارے ذاتی اختلافات اور مطالبات تو ہوتے ہیں لیکن جماعت کے وسیع تر مفاد میں ہم یہ پس پشت ڈالتے ہیں اور پارٹی میں اتفاق اور اتحاد کے لئے یہ ہماری قربانی ہے اور کوشش ہے۔ اُس روز بھی ہم اپنے ذاتی مطالبات اور پارٹی میں اختلافات جو سامنے آ چُکے تھے اس پر بات کررہے تھے۔

دراصل ہم پارٹی کے دفتر سے بحث و تکرار کے بعد  باہر وہاں روڈ پر آئے تھے کیونکہ دفتر میں اُس بات پر ہمارے آپس میں جب اختلافات شدید ہوگئے۔  اور ہم باہر وہاں اس موضوع پر آپس میں بات کررہے تھے جسمیں آپ کو غٹ پٹ نظر آگیا۔ آپ کو معلوم ہے اب الیکشن قریب نہیں بلکہ سر پر ہیں، اور پارٹی لیول پر الیکشن کی تیاری زور و شور پر ہیں۔ اور یہ بھی زیر بحث ہے کہ کون کون پارٹی ٹکٹ میں الیکشن لڑیں گے اور خاص کر یہ بات سنجیدہ حد تک پہنچ چُکی ہے کہ کسے ٹکٹ دیا جائے۔

اچھا، میں اندازہ کر سکتا ہے  یہ تو تہ کی بات ہے جس پر اب تو بات ہونے کا وقت ہے۔ مجھے تو اتنا معلوم ہے جو میں بھی یہ سیاسی گرما گرمی میڈیا کی حد تک دیکھ رہا ہوں ۔

 ایک خبر سامنے سے گزری جسمیں ایک جماعت کے راہنما الیکشن کمیشن کے سامنے الیکشن کو موخر کرنے کا مطالبہ بھی کر چُکا ہے۔

آپ کے خیال میں الیکشن مو خر ہونا چاہیے۔ 

بالکل نہیں ، یہ سیاسی جماعت  درحقیقت  الیکشن سے پہلے ہی خوف محسوس کی ہے؟

اچھا ، یہ حسب اختلاف کا ، اور آپ جیسے سیاسی کارکن کا سیاسی اختلاف کی بات ہوسکتی ہے۔ میرے خیال میں  ساحل کی وہ بات مناسب تھی  جب اُس نے لکھا کہ” اگر سارے سیاسی جماعت کے راہنما مل کر یہ مطالبہ کرتے” تو یہ ایک قوی مطالبہ ہوسکتا تھا۔

سلطان صاحب نے آج اس سے پہلے موسم سرما کے دوران ماہ نومبر، دسمبر، فروری، مارچ اور اکتوبر کے مہینے میں جو الیکشن ہوچُکے ہیں اُن کی پوری  تاریخ لکھ دی ہے اس سوچ سے یہ کوئی انہونی بات نہیں کہ ستائس مارچ کو اگر لوکل گورنمنٹ کےالیکشن ہو جائیں۔

خیر بات لمبی ہوگئی آپ یہ بتائیں کہ اب آپ لوگوں کا اصل مطالبہ کیا ہے۔

میرے دوست،  آپ کو معلوم بھی ہے اور میں نے آپ کو بتایا بھی کہ مجھے معلوم نہیں کہ میں کس عمر سے اس پارٹی کے ساتھ منسلک ہوں اور اب ایک بندہ الیکشن کے قریب ہوتے ہی حالات کو دیکھ کر ہمارے پارٹی میں شمولیت اختیار کی ہے۔ یہ صرف میری پارٹی میں نہیں بلکہ دوسرے جماعتوں میں بھی ہوتا ہے۔  صوبے اور ملکی سطح پر لوگ پارٹی کے عہدہ دار اسے سراہتے ہیں ۔ضلعی سطح پر لیڈرشپ اس پر خوش ہے اور نہیں بھی، اور ہم دیرینہ کارکن بھی پارٹی میں نئے آنے والوں کو پسند نہیں کرتے صرف اس لئے کہ اگر الیکشن کے وقت لوگ پارٹی میں آکر الیکشن لڑتے رہیں تو ہم کب الیکشن لڑیں گے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم کارکن کارکن ہی رہ جاتے ہیں ، وقت کے ساتھ بااثر لوگ پارٹی میں آجاتے ہیں اور الیکشن ، چاہے قومی یا لوکل گورنمنٹ کے ہیں، اس میں پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑتے ہیں اور جب چاہیں آتے اور واپس چلے جاتے ہیں۔

اچھا، مجھے اندازہ تھا کہ ایسی بات ہوسکتی تھی لیکن آپ نے اس کی توثیق کر دی۔ لیکن یہ تو اچھی بات نہیں کہ لوگ آپ کے پارٹی میں شامل ہو رہے ہیں جس کے اپنے ووٹ بھی ہوسکتے ہیں اور الیکشن کے دوران پارٹی پر بوجھ ہونے کے بجائے پارٹی کا بوجھ بھی ہلکا کرسکتے ہیں۔

مجھے آپ کی بات سمجھ آگئ جس چیز کی طرف آپ اشارہ کر رہے ہیں جو ایک کارکن میرے پاس نہیں ہے۔

تو پھر یہاں ایک بات طے کرنا پڑے گا کہ جس کے پاس وہ ہے اُسے ٹکٹ دیا جائے وہ لوگ جب بھی آئیں اور جہاں سے بھی آئیں ،لیکن کارکن کی بات کو ختم کرنا ہوگا۔

آپ قدیم زمانے کی بات اور سوچ میں ہیں جو آپ کے والد بحیثیت ایک پارٹی کارکن  ہواکرتا تھا جو آپ اپنے بچپن میں سُنتے آرہے تھے۔آپ کو معلوم ہے موجودہ سیاست کی ڈکشنری میں کارکن کا اصطلاح جو ہے اس کی تشریح تبدیل  ہوگئی ہے۔آج کا  “کارکن  وہ فرد  ہے جو پارٹی کے ساتھ نہ صرف منسلک رہے گا بلکہ الیکشن کے دوران خصوصاً پارٹی کے لئے دن رات ایک کرکے کام کریگا لیکن وقت آنے پر اگر وہ آجائیں جس کے پاس وہ ہو تو اُن کو الیکشن لڑنے کا موقع نہیں بھی دیا جاسکتا ہے کیونکہ کارکن پارٹی کا رکن ہونے پر فخر کرتا ہے اور یہ کارکن ہونے کے لئے بنیادی شرط ہے”۔

اچھا ،تو بات یہ ہے۔

جی ہاں۔

تو، اس تشریح کے مطابق بحیثیت کارکن ہم  پارٹی کا اصل اثاثہ ہیں  اور ہمیں  ہر وقت اور حالت میں پارٹی کے ساتھ کھڑا ہونا چا ہیے۔ ہمیں کارکن ہونے پر فخر کرنا اور ہونا  چاہیے، اور ساتھ جماعتی  رُکنیت بھی رہے۔

اب تو الیکشن سر پر ہیں اس بار میں بحیثیت ایک دیرینہ کارکن اپنے پارٹی سے الیکشن لڑنا چاہتا تھا اب کیا کروں۔ آپ مجھے مشورہ دے دیں اس حالت میں میں کیا کرسکتا ہوں۔

عملی سیاست میں غیر سیاسی ہونے کی وجہ سے میں آپ کو کیا مشورہ دے سکتا ہوں لیکن سیاسیات پڑھا ہے اسلئیے میرا ایک مشورہ ہے جو آپ کرسکیں۔

جلدی بتائیں وہ کیا ہے۔

جلدی بتانے سے وہ جلدی  ہو نہیں سکتا ۔ اسمیں وقت لگے گا۔

اچھا، پھر بھی بتائیں بحیثیت پارٹی کا ایک دیرینہ کارکن میں اپنے پارٹی سے الیکشن لڑنا چاہتا ہوں اور  الیکشن سر پر ہیں اب مجھے کیا کرنا ہوگا۔

مشورہ یہ ہے جسطرح آپ کو بتایا اسمیں وقت لگ سکتا ہے، وہ یہ کہ  آپ کوشش کرکے پہلے کارکن کی جو تشریح آچُکی ہے اس کو تبدیل کر دیں،  تو آپ الیکشن لڑنے کا اہل ،اور اپنا حق منوا سکتے ہیں۔  

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔