ثقافتی یلغار کی نئی لہر…محمد شریف شکیب

پڑوسی ملک بھارت کی ریاست آندھرا پردیش سے تعلق رکھنے والے ایک خاندان نے اپنے ہونے والے داماد کی خاطر مدارت کی مثال قائم کردی۔اس خاندان نے اپنے مذہبی تہوارکے روز اپنے ہونے والے داماد کوپرتکلف ظہرانے پر مدعو کیا اور اس کے آگے انواع و اقسام کے کھانوں کا ڈھیر لگادیا۔دسترخوان پر سجے کھانوں کی مجموعی تعداد365 تھی۔میزبانوں کا کہنا تھا کہ اتنے سارے کھانوں کے انتظام کا مقصد ہمارے خاندان سے جڑنے والے نئے فرد کو اپنی محبت کا احساس دلانا تھا،اتنے سارے کھانے چکھنے کے بعد بیچارے داماد کی کیاحالت ہوئی ہوگی اس بارے میں کوئی معلومات نہیں۔اس شاہانہ دعوت کی ویڈیو میں لڑکی سمیت اس کے پورے خاندان کو ہونے والے داماد کی تواضع کرتے دکھایاگیا ہے۔یہ وڈیودیکھ کر بہت سے لوگوں کا دل دوسری یا تیسری شادی کے لئے مچل گیا ہوگا۔لیکن ہر داماد کی قسمت آندھراپردیش والے دولہا بھائی جیسی کہاں ہوتی ہے۔ہمارے دیہی علاقوں میں بیٹی کی شادی سے متعلق یہ تصور ہے کہ ہم نے بیٹی کے بدلے بیٹالے لیاہے۔موبائل کی وباء پھیلنے اور سوشل میڈیا کی یلغار سے دیہی علاقوں کی زریں روایات ایک ایک کرکے معدوم ہوتی جارہی ہیں بعید نہیں کہ دولہا کی دعوت سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ بن جائے اور شہروں سے ہوتی ہوئی یہ روایت ہمارے دیہی علاقوں تک بھی پہنچ جائے۔ کیونکہ دیکھا گیا ہے کہ منگنی پر دلہن کو سونے کی انگوٹھی، گھڑی، قیمتی موبائل کا تحفہ دینا، لڑکے والوں کی طرف سے اسے عروسی لباس پہنانا، جہیز کے مطلوبہ سامان کی فہرست لڑکی والوں کو بھیجنا، حق مہر میں سونا رکھنا، چوری کی مہندی، شادی کے چند مہینوں کے اندر لڑکی کو الگ گھر دلوانے جیسی رسومات پڑوسی ملک سے ہی سمگل ہوکر ہمارے پاس پہنچی ہیں اور شہروں کو یہ رسومات آلودہ کرتے ہوئے دیہات تک پہنچ گئی ہیں۔جہیز کی لعنت کی وجہ سے ہزاروں لڑکیاں ہاتھوں میں حنا کا رنگ سجنے کا خواب آنکھوں میں سجائے بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھتی ہیں۔دیہی علاقوں میں دس بارہ بیٹیاں بھی باپ پر بوجھ نہیں تھیں۔شادی بیاہ کی رسومات نہایت سادہ اور اسلامی طریقے سے ہوتی تھیں۔مہنگی کے لئے لڑکے والوں کی طرف سے دو تین بندے لڑکی والوں کے پاس جاتے تھے۔ بات طے ہوجاتی تو مہمانوں کو کھانا کھلایاجاتا تھا۔شکرانے کی دعا کو مہنگی کی رسم قرار دے کر بات پکی کی جاتی تھی۔ لڑکی والوں کے رشتہ داروں اور گاؤں والوں کی دعوت کے لئے لڑکے والے دو چار دنبے، بکرے یا ایک بیل پیش کرتے تھے۔ شادی کے دیگر اخراجات بھی لڑکے والے اٹھاتے تھے۔نکاح کے وقت لڑکے والے دولہا کو لے کر دلہن کے گھر جاتے تھے۔ حق مہر باہمی مشاورت سے طے کرنے کے بعد نکاح پڑھائی جاتی تھی۔ شام کو دولہا اور اس کے ساتھ آئے ہوئے مہمانوں کے لئے لڑکی کے ہاں پرتکلف دعوت کا اہتمام کیاجاتا تھا۔عشائیے کے بعد دولہا کو مہمان خانے سے زنان خانے بلایاجاتا تھا۔ تاکہ گھر کے تمام افراد، رشتہ دار اور گاؤں کی خواتین انہیں دیکھ سکیں۔اس موقع پر دولہا کے جوتے چھپاتے کا مذاق بھی ہوتا تھا۔صبح سویرے لڑکی کی رخصتی ہوتی تھی۔یہ خوبصورت رسومات اب معدوم ہوچکی ہیں۔شادی کرنا اب لڑکے اور لڑکی والوں کے لئے بوجھ بنتا جارہا ہے۔جہیز میں گاڑی، بائیک، ٹی وی، فریج، واشنگ مشین، فرنیچر، بیڈزسمیت گھر کی ضرورت کی ہرچیز، بسترے اور سینکڑوں جوڑے کپڑے، جوتے اور بناؤسنگھار کا سامان بھی دینا پڑتا ہے۔ہمارا دعویٰ تھا کہ ہماری تہذیب و تمدن پر بیرونی ثقافتی یلغار کا کوئی اثر نہیں ہوگا۔ مگر یہ ہماری خوش فہمی تھی۔ ہم دوسروں کی طرح بننے کو ترقی پسندی قرار دیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ہم دیگر اقوام کا طرز زندگی اور رہن سہن اختیار کرنے میں زرا بھی تامل نہیں کرتے۔ نقالی کی اسی بری عادت کی وجہ سے ہمارے دل میں یہ وسوسہ پنپ رہا ہے کہ داماد کی پرتکلف دعوت کی اس روایت پر ہمارے ہاں بھی عمل شروع نہ ہوجائے۔ہمارے لئے تو سال بھر کے دنوں کے برابر تو کیا، مہینے کے دنوں کے مساوی اقسام کے طعام تیار کروانا بھی مہنگائی کے اس دور میں سوہان روح ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔