مہنگائی کی بنیادی وجہ…محمد شریف شکیب

وفاقی حکومت کے ایک وزیر نے ملک میں مہنگائی ہونے کی وجہ بتادی ہے ان کا کہنا ہے کہ لوگوں کی آمدن کم اوراخراجات زیادہ ہوں تو انہیں مہنگائی زیادہ لگتی ہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکومت نے عوام کو مہنگائی سے ریلیف پہنچانے کے لئے صحت کارڈپلس کا انقلابی منصوبہ شروع کیاہے۔جس کا سب سے زیادہ فائدہ سفید پوش اور مڈل کلاس طبقے کو ہوگا، امیر لوگ تو بیرون ملک جاکر اپنا علاج کرواتے ہیں،غریب اور متوسط طبقے کے لوگ بیمار پڑنے پر اپنا علاج کرانے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے۔اب ہر خاندان ملک کے کسی بھی سرکاری اور پرائیویٹ ہسپتال سے اپنا بہترین علاج کرواسکتا ہے۔اور علاج پر اٹھنے والے دس لاکھ تک کے اخراجات حکومت برداشت کرے گی۔ مفت علاج کی سہولت سے غریب اورامیر کا فرق مٹ جائے گا۔ وفاقی وزیرکا کہنا تھا کہ سب سے زیادہ مشکل تنخواہ دار طبقے کو درپیش ہے جس کی تنخواہ مہنگائی کے تناسب سے نہیں بڑھتی۔بڑے لوگ کبھی کبھار بہت چھوٹی بات کرجاتے ہیں۔وفاقی وزیرنے مہنگائی کی جو بنیادی وجہ بتائی ہے۔وہ تو دیہی علاقوں میں رہنے والی ایک ان پڑھ بڑھیا اور تین چار سال کا بچہ بھی جانتا ہے کہ کسی شخص کی آمدنی کم ہوگی اور اخراجات بدستور رہیں گے تو اسے چیزوں کی قیمت اپنی قوت خرید سے باہر محسوس ہو گی۔ہمارا المیہ یہ ہے کہ ایک طرف لوگوں کی آمدن کم ہوئی ہے دوسری جانب اشیائے ضروریہ کی قیمتیں روزانہ کی بنیاد پر بڑھتی جارہی ہیں ملک کے اندر پیدا ہونے اشیاء مہنگی کرنے کا الزام حکومت مخالف لیڈروں پر لگایاجاسکتا ہے۔کہ ملک کی شوگرملیں اور فلور ملیں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کی ہیں۔چکن کی سب سے بڑی انڈسٹری شریف فیملی کے پاس ہے اور یہ لوگ عوام میں حکومت کی مقبولیت کم کرنے کے لئے مرغی کے گوشت، آٹے، گھی، کوکنگ آئل اور چینی کی قیمت دانستہ طور پر بڑھارہے ہیں۔لیکن پٹرولیم مصنوعات، بجلی، گیس، سی این جی، ایل پی جی اور ایل این جی کی قیمتیں تو حکومت کی بنائی ہوئی ریگولیٹری اتھارٹیاں طے کرتی ہیں۔گذشتہ سال جون میں بجٹ پیش کئے جانے کے بعد سے اب تک سات مہینوں میں تیل کی قیمتوں میں گیارہ مرتبہ، بجلی کی قیمتوں میں چھ اور گیس کی قیمتوں میں چار مرتبہ اضافہ ہوچکا ہے۔ ایک لٹر پٹرول پر حکومت نے تقریباً32روپے کے ٹیکس لگادیئے ہیں جنہیں جنرل سیلز ٹیکس، ڈسٹری بیوٹر مارجن، آئی ایف ای ایم، ڈیلر مارجن اور محصولات کا نام دیا گیا ہے۔ تیل مہنگا ہونے سے کرائے بڑھ جاتے ہیں جب کرایوں میں اضافہ ہوتا ہے تو اسے ہر چیز کے دام بڑھانے کا جواز بنایاجاتا ہے۔ تین سال قبل معیاری کوکنگ آئل کی قیمت 145روپے فی کلو تھی آج وہی کوکنگ آئل 418روپے کلو فروخت ہورہا ہے۔ جاگیر داروں، کارخانے داروں اور سرمایہ داروں کے سوا کسی کی آمدنی میں اس شرح سے اضافہ نہیں ہوا۔ نجی اداروں میں کام کرنے والے لاکھوں ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کے بجائے مزید کمی کردی گئی اور اخراجات بچانے کے لئے آدھے ملازمین کو فارع کردیاگیا۔حکمران غریب لوگوں کے زخموں پر مرہم نہیں رکھ سکتے تو نمک پاشی بھی نہ کریں۔ اکثر حکومتی نمائندوں کو یہ کہتے سنا گیا کہ امریکہ، چین، برطانیہ، فرانس، جرمنی اور دیگر ملکوں میں بھی مہنگائی بڑھ گئی ہے تیل سمیت ہر چیز کی قیمت پاکستان میں جنوبی ایشیا کے دیگر ملکوں کی نسبت سب سے کم ہے۔ان باتوں کو مہنگائی کے جواز کے طور پر پیش نہیں کیاجاسکتا۔حکومت نے صحت کارڈ کے ذریعے صرف ہسپتالوں میں داخل مریضوں کو سہولیات دی ہیں۔ پرائیویٹ کلینکوں میں علاج کرانے والے، ہسپتالوں کی او پی ڈی میں طبی معائنہ کرانے والے اور میڈیکل اسٹورز سے ادویات خریدنے والے کہاں جائیں وہاں کے دام گذشتہ تین سالوں میں تین گنا بڑھ گئے ہیں۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔