وزیراعلیٰ محمود خان کی بغیر کسی سکیورٹی پروٹوکول پشاور کے مختلف علاقوں کا اچانک دورہ

یونیورسٹی روڈ پر ٹریفک منیجمنٹ کی صورتحال پر عدم اطمینان کا اظہار

پشاور(چترال ایکسپریس)وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے جمعہ کے روز بغیر کسی سکیورٹی پروٹوکول صوبائی دارالحکومت پشاور کے مختلف علاقوں کا اچانک دورہ کیا جن میں جی ٹی روڈ، یونیورسٹی روڈ، حیات آباد، رنگ روڈ اور دیگر علاقے شامل ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے ان علاقوں میں ٹریفک کی روانی اور صفائی ستھرائی کی صورتحال کا بغور جائزہ لیا۔
وزیر اعلیٰ نے یونیورسٹی روڈ پر ٹریفک منیجمنٹ کی صورتحال پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ایس ایس پی ٹریفک کو یونیورسٹی روڈ سمیت دیگر مصروف سڑکوں پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لئے فوری اقدامات کی ہدایت کی۔ انہوں رنگ روڈ پر ٹریفک اہلکاروں کی غیر حاضری کا نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی ٹریفک سے رپورٹ طلب کرلی۔ وزیر اعلیٰ نے کوہاٹ روڈ پل تا جی ٹی روڈ پل رنگ روڈ پر صفائی کی ابتر صورتحال ، سینٹر میڈین کی خستہ حالی اورٹریفک لائٹس کی خرابی پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پشاور ڈیویلپمنٹ اتھارٹی اور واٹر سپلائی اینڈ سنیٹیشن کمپنی پشاور کے حکام کو رنگ روڈ کے مذکورہ سیکشن پر صفائی کی صورتحال بہتر بنانے، سینٹر میڈین کی مرمت اور لائٹس کی تنصیب کے لئے فوری اقدامات اٹھا کر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔ اس دوران وزیر اعلیٰ نے رنگ روڈ پر زیر تعمیر ہزارخوانی پبلک پارک کے تعمیراتی کام کا بھی جائزہ لیا اور متعلقہ حکام کو پارک پر کام کی رفتار تیز کرنے اور مقررہ وقت میں پارک کو عوام کے لئے ہر لحاظ سے کھولنے کے لئے ضروری اقدامات کی ہدایت کی۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پشاور شہر کی خوبصورتی کو اپنی اصلی حالت میں بحال کرنا اور اسے دوبارہ سے پھولوں کا شہر بنانا موجودہ صوبائی حکومت کی ترجیحات کا حصہ ہے اور اس مقصد کیلئے سنجیدہ اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں جبکہ پشاور میں ٹریفک کے مسائل کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے کے لئے قلیل المدتی اور طویل المدتی اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ وہ صوبائی دارالحکومت پشاور سے متعلق تمام امور کی خود نگرانی کررہے ہیں اور وہ شہر کے اچانک دوروں کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رکھیں گے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔