دبئی ایکسپو میں 8بلین ڈالرز کے مفاہمتی یاداشتوں پر دستخط کئے گئے

پشاور(چترال ایکسپریس)دبئی ایکسپو میں 8بلین ڈالرز کے مفاہمتی یاداشتوں پر دستخط کئے گئےجن میں سیاحت، ہائیڈرو پاور، اکنامک زونزاورمائنز اینڈمنرلز کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ بزنس مین ٹو بزنس مین رابطے موثر بنانے میں بڑی پیش رفت ہوئی اور صوبہ خیبر پختونخوا میں مستقبل میں سرمایہ کاری کو فروغ ملے گااور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ یہ بات آج صوبائی کابینہ کے فیصلوں کے بارے میں وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر محمد علی سیف نے میڈیا بریفنگ کے دوران بتائی۔وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے اس سلسلے میں متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ دبئی ایکسپو کے زیادہ سے زیادہ ثمرات حاصل کرنے کےلئے سرمایہ کاروں سے مسلسل رابطے میں رہیں اور صوبہ خیبر پختونخوا میں سرمایہ کاروں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات اور بہتر ماحول فراہم کرنے کیلئے بھر پور اقدامات کئے جائیں۔ کابینہ نے مختلف محکموں کی جانب سے دبئی میں اسٹال لگانے اور صوبے میں سرمایہ کاری کیلئے سرمایہ کارروں کو راغب کرنے سلسلے میں محکموں کی کارکردگی کو سراہا۔کابینہ کا اجلاس منگل کے روز یہاں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں کابینہ اراکین، چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹری، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو اور انتظامی سیکرٹریز نے شرکت کی۔بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا کہ صوبائی کابینہ نے خیبر پختونحوا سنسرشپ آف موشن پکچرز (فلم، سی ڈیز، سٹیج ڈرامہ اینڈ شو) رولز 2021کی منظوری دیدی۔ ان رولز کا بنیادی مقصد کیبل نیٹ ورک یاکسی بھی الیکٹرانک میڈیا پر ایسی فلموں، سی ڈیز، ویڈیوز، سٹیج ڈراموں اور شوز کو سنسر کرنا ہے، جو ایک عام بصیرت والے شخص کی رائے میں اسلام کے عظمت یا سا لمیت، پاکستان یا اس کے کسی حصے کی سیکورٹی یا تحفظ، بیرون ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات، پبلک آرڈر، شائستگی یا اخلاقیات کے خلاف ہو یا ایک جرم کے لیے اکسانے کا موجب ہو۔وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ پختون کلچر کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جائے کیونکہ فلم اور سی ڈیز میں پختون کلچر کی صحیح عکاسی نہیں کی گئی۔انہوں نے کہا کہ صوبائی کا بینہ نے تمام اقسام کے لائسنسوں کو کمپوٹرائزڈ ڈرائیونگ لائسنسز بشمول انٹرنیشنل ڈرائیونگ پر مٹ کے لیے نئی فیس شیڈول کی بھی منظوری دیدی، جس کیلئے محکمہ ٹرانسپورٹ نے ڈاریکٹوریٹ آف ٹرانسپورٹ اینڈ ماس ٹرانزٹ خیبر پختونخوا پشاور میں ڈرایو¿نگ لائسنز کے لیے ایک نیا ویب بیسڈ سسٹم نصب کیا ہے جبکہ محکمہ ہائے پولیس اور ٹرانسپورٹ مشترکہ طور پر اس عمل میں مختلف کیٹگریز کی گاڑیوں کے علیحدہ علیحدہ لائسنس جاری کرنے کے مجازہوںگے۔بیرسٹرسیف نے بتایا کہ صوبائی کا بینہ نے موجودہ مالی سال2021-22کے لیے ضم اضلاع کے سالانہ ترقیاتی پروگرام(ADP)اور تیز رفتار عملدارآمد پروگرام (AIP) کے تحت 800 ملین روپے کی سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری دیدی جس کے تحت محکمہ ہائے مواصلات و تعمیرات اور داخلہ و قبائلی امور میں تیزی سے جاری منصوبوں کو مکمل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی کا بینہ نے آن لائن رائیڈنگ اور آن لائن گڈز رائیڈنگ کمپنیز کو ریگولیٹ کرنے کیلئے مسودہ قانون کی منظوری دی جس کے تحت آن لائن ٹرانسپورٹ کمپنی کے لائسنس کے اجراءمنسوخی، گاڑیوں کی فٹنس، پرمٹ، ڈرائیورز کی رجسٹریشن، خلاف ورزی کی صورت میں جرمانے سمیت جملہ امور کو قانونی شکل دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی کا بینہ نے ایٹا آرڈیننس 2001میں ترامیم کی منظوری دیدی تا کہ ایٹا کی کارکردگی کو مزید بہتر کیا جا سکے، ترامیم کے تحت ایٹا کے بورڈ آف گورنر کی تشکیل نو کی گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ کی سربراہی میں نو تشکیل کردہ بورڈ وزیر ہائر ایجوکیشن،سیکرٹری ہائر ایجوکیشن، سیکرٹری قانون، سیکرٹری صحت،منیجنگ ڈائریکٹر انفارمیشن ٹیکنا لوجی بورڈ، وائس چانسلر یونیورسٹی آف انجنئیر نگ، چیرمین پشاور بورڈ اور ایگزیکٹیو ڈائریکٹر پر مشتمل ہوگا۔ کنٹونمنٹ بورڈ پشاور میں سالڈ ویسٹ مشینری اورآن گراو¿نڈ سہولیات کو انڈر گراو¿نڈ منتقل کرنے جیسے اقدامات کیلئے 152ملین روپے کی گرانٹ کی بھی صوبائی کابینہ نے منظوری دی۔ بیرسٹرنے کہاکہ کابینہ نے ڈیرہ اسماعیل خان میں جوان مرکز کے قیام کیلئے صوبائی حکومت کی 4کنال اراضی جو ٹی ایم اے ڈی آئی خان کی ملکیت ہے جس میں دونوں پارٹیوں کی باہمی رضا مندی سے مزید 25سال کی توسیع کر دی گئی ہے جسے ڈائریکٹوریٹ آف یوتھ افیرز خیبر پختونخوا کے نام منتقل کرنے کی منظوری دیدی ہے۔ صوبے بھر میں جوان مراکز قائم کئے جارہے ہیں تاکہ یوتھ پالیسی 2016 کے عین مطابق جوانوں کو صحت مندانہ اور تخلیقی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کے مواقع فراہم کئے جا سکیں۔ ساتھ ہی کا بینہ نے جوڈیشل کمپلیکس صوابی میں، مین صوابی جہانگیرہ روڈ پر واقع 4کنال کی صوبائی حکومت کی اراضی صوابی میں جوان مرکز کے قیام کیلئے ڈائریکٹوریٹ آف یوتھ افیرز کے نام پر منتقل کرنے کی منظوری دیدی ہے تاکہ نوجوانوں کی صحت مندانہ اور تخلیقی سرگرمیوں کو پروان چڑھایا جاسکے۔ کابینہ نے ماموند سٹیڈیم باجوڑ کا نام تبدیل کرکے ملک شاہ جہاں (شہید) سٹیڈیم باجوڑ رکھنے کی بھی منظوری دیدی۔ سٹیڈیم کے نام کی تبدیلی کیلئے ملک شاہ جہاں شہید کی دہشت گردی کے دوران ملک کے لیے خدمات کے اعتراف کے طور پر کی گئی تھی۔ کابینہ نے سوات میں سپورٹس کمپلکس کے قیام کے لئے سنگل سورس کی بنیاد پر کنسلٹنسی نیسپاک کمپنی کو دینے کی بھی منظوری دیدی۔ یہ کنسلٹنسی خیبر پختونخوا پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی ایکٹ 2012کی شق (i) 14کے تحت دی گئی ہے۔ کابینہ نے خیبر پختونحوا کے خود مختیار اداروں اور پبلک سیکٹرز کمپنیز کیلئے پالیسی فریم ورک کی منظوری دیدی۔ اس وقت حکومت خیبر پختونحوا نے 168سے زائد ادارے قائم کئے ہیں جن میں 12پبلک سیکٹر کمپنیز اور156 خود مختار ادارے شامل ہیں۔ خیبر پختونخوا کیلئے ان اداروں کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ ضروری تھا کہ ان کیلئے پالیسی لیول سٹینڈرزتیار کئے جائیں جو نہ صرف متعلقہ قوانین کے تحت کام کریں بلکہ اچھی طرز حکمرانی کے اصولوں کی پاسداری کی جاسکے۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ پراجیکٹس اتھارٹیز اور بورڈ میں جتنے چیف ایگزیکٹیو آفیسرز تعینات کئے گئے ہیں ان کی کارکردگی کے بارے میں کابینہ بریفنگ دی جائے۔صوبائی کا بینہ نے مختلف سیکٹرز میں کام کرنے والے ورکرز کی صحت اور تحفظ ماحولیاتی آلودگی سے بچاو ، ذہنی و جسمانی پیچیدگیوں اور دباو¿کے تدارک اور انہیں کام کی جگہ پر صحت مند ماحول فراہم کرنے کیلئے خیبر پختونخوا سیفٹی اینڈ ہیلتھ ایکٹ 2021کی منظوری دے دی ہے۔ نیزمختلف پراجیکٹس اور پرائیویٹ سیکٹرز میں کم اجرت کی پالیسی پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات اٹھانے کی بھی ہدایت کی گئی۔صوبائی کا بینہ نے خیبر پختونخوا جبری مشقت کے خاتمے کے رولز 2021کی منظوری دے دی ہے۔ رولز کے تحت جبری مشقت کا ڈیٹا اکھٹا کرنے، انسپکٹرز کی ذمہ داریاں، مزدوروں کی رجسٹریشن، جبری مشقت کے خاتمے کیلئے ڈپٹی کمشنرز کی سربراہی میں ویجیلنس کمیٹی اور کمپلینٹ سیل کا قیام قابل ذکرہے۔ صوبائی کا بینہ نے مختلف اداروں، کا رخانوں میں کام کرنے والی خواتین کے لیے میٹرنٹی کے دوران تمام مروجہ سہولیات فراہم کرنے کیلئے خیبر پختونخوا Meternity Benifits Rules 2021 کی منظوری بھی دے دی ہے۔ صوبائی کا بینہ نے بچوں سے مشقت پر پابندی رولز 2021 ءکی منظوری دے دی جو کہ بچوں سے مشقت پر پابندی ایکٹ 2015 خیبر پختونخوا کے سیکشن 19کے تحت بنائے گئے ہیں۔صوبائی کابینہ نے دکانوں، کمرشل اداروں صنعتی اداروں میں کام کرنے والے ورکرز کی ہفتہ وار چھٹی، مناسب اجرت یقینی بنانے اور اِیسے اقدامات کو کارخانوں وغیرہ میں نمایاں مقامات پر آویزاں کرنے کی بھی منظوری دی تاکہ ورکرز کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور اِن کا استحصال نہ ہو۔ کا بینہ نے خیبر پختونخوا گھریلو ملازمین کے تحفظ اور ویلفیئر ایکٹ 2021کی سیکشن نمبر 22کے تحت گھریلو ملازمین کے تحفظ اور ویلفیئر رولز کی بھی منظوری دے دی۔بیرسٹر سیف نے کہا کہ کا بینہ نے محکمہ صنعت کے رولز آف بزنس رول نمبر 9(۱) 19کے تحت خیبر پختونخوا کامرس اینڈ ٹریڈ سٹیٹسٹکس ایکٹ 2021کے ڈرافٹ بل کی منظوری دے دی۔ صوبائی کابینہ نے پولیس سروس رولز (F/C) 1934میں مجوزہ ترمیم کی بھی منظوری دیدی ہے جس کا مقصد ضم شدہ اضلاع سے پولیس میں سپاہی بھرتی ہونے کیلئے خواتین اقلیتی اور ہارڈ ایریا سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کو مختلف رعایتیں دینا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی کا بینہ نے سول سرونٹس ایکٹ 1973کی سیکشن 19 میں ضروری ترامیم کی منظوری دیدی جس کے تحت مستقبل میں بھرتی ہونے والے ملازمین کے لیے کنٹریبیوٹری پنشن (Contributory Pension/CP Fund) کو متعارف کرایاجائے گا۔ اس کا اطلاق پہلے سے بھرتی شدہ ملازمین پر نہیں ہوگا۔کابینہ کو بورڈ آف ریونیو کی کارکردگی، لینڈ ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن اور صوبے کی ریونیو میں اضافے سے متعلق بورڈ آف ریونیو کے اقدامات سے آگاہ کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے بورڈ آف ریونیو کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے سینئر ممبربورڈ آف ریونیو کو ہدایت کی کہ وہ کابینہ کیلئے اس سلسلے میں تفصیلی بریفنگ تیار کرے جس کیلئے کابینہ کا خصوصی اجلاس جلد منعقد کیا جائے گا۔

><><><><

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔