پی ٹی آئی چترال میں بلدیاتی انتخابات میں اپنی کارکردگی کی بنیاد پر حصہ لیتے ہوئے شاندار کامیابی حاصل کرے گی۔معاون خصوصی وزیرزادہ

چترال(چترال ایکسپریس)وزیر اعلٰی خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی وزیر زادہ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی چترال میں بلدیاتی انتخابات میں اپنی کارکردگی کی بنیاد پر حصہ لیتے ہوئے شاندار کامیابی حاصل کرے گی جس کے گزشتہ ساڑھے تین سال کے دور حکومت میں عوام سے کئے گئے وعدے پورے ہورہے ہیں جن میں اپر چترال کے لئے نئی ضلعے کا قیام اور چترال سے شندور تک روڈ کی کشادگی اور بلیک ٹاپنگ کا منصوبہ بھی شامل ہیں۔ہفتے کے روز بونی گول کے مقام پر عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کے مخالفین کے پاس اب اعتراض کے لئے کوئی نکتہ باقی نہیں رہا کیونکہ تمام مسائل ایک ایک ہوکر حل ہورہےہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام پر اب یہ حقیقت آشکارا ہوگئی ہے کہ عمران خان ہی اس مملکت خداداد کے اصل خیرخواہ ہیں اور یہ کہ مہنگائی کا طوفان ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم کرنے کے لئے انہوں نے طویل مدتی اقدامات اٹھالیا ہے جن کے ثمرات کچھ عرصے بعد آنا شروع ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ماضی کی حکومتوں کی طرح اربوں روپے وقتی طور پر سبسڈی پر ضائع کرنے کی بجائے مہمند ڈیم، بھاشا ڈیم اور دوسرے منصوبے شروع کئے جو زرعی خود کفالت اور خوشحالی کے ضامن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر محمود خان نے ان کے درخواست پر اپر چترال کے لئے ایک ارب 18کروڑ روپے کی خصوصی گرانٹ دے دی جس سے ترقیاتی کام عوامی امنگوں کے مطابق شروع کئے جارہے ہیں جن کا اظہار انہوں نے ان کے اپر چترال کی تفصیلی دورے کے دوران کیا تھا۔ معاون خصوصی نے کہا کہ اتہک ایریگیشن چینل اور بروغل روڈ پر کام کا آغاز ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں اور یہ ان کی پوری کوشش ہوگی کہ یہ اسی سال شروع کئے جاسکیں۔ اس سے قبل پارٹی کے چترال میں بانی صدر عبداللطیف نے اپر چترال میں پی ٹی آئی حکومت کے شروع کردہ ترقیاتی منصوبوں اور خدمات پر روشنی ڈالی اور اس امید کا اظہار کیا کہ بونی گول کے عوام 2018ء کی طرح جوش و جذبے سے پی ٹی آئی پر اس بلدیاتی انتخابات میں اپنی اعتماد کا اظہارِ کریں گے۔ کمیونٹی کی طرف سے بونی گول کی چینلائزیشن، حفاظتی پشتے، پل اور سڑک کے منصوبہ جات کی منظوری پر وزیر زادہ اور وزیر اعلیٰ محمود ئکا شکریہ ادا کیا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔