دریچہ اسلام عہد نبوت سے قیام پاکستان تک (مختصر تاریخ اسلام طلبہ و طالبات کے لیے) تحریر۔ مبشرالملک

٭عرب قبل از اسلام٭
( وادی فاران)

٭محل وقوع۔
ایشیاء کے جنوب مغرب میں ایک بڑا….جزیرہ نما….. جس کے مغرب میں….. بحیرہ احمر….. جنوب میں….. بحر ھند…. اور شمال میں ملک… شام…. واقع ہے۔عرب….. کا یہ علاقہ تین اطراف سے سمندر میں گھرا ہوا ہے۔
٭سیاسی حالات۔
سارا ملک مختلف حصوں میں بٹا ہوا تھا۔ مختلف قبائل مختلف حصوں کے…. حکمران…. تھے اور کسی بادشاہ کے تابع تھے۔ مگر اپنے اندرونی حالات اور معاملات میں ہمیشہ… بااختیار…. رہتے اور کسی کی مداخلت…. برداشت … نہیں کرتے تھے۔
٭ تمدنی حالات۔
عرب دنیا….. ایران اور شام کے مقابلے میں بہت پیچھے تھا۔ یہاں تک کہ ” سکہ، پاجامہ،چراغ اور کوزہ کے لیے ان کے زبان میں کوئی… . لفظ… تک نہ تھے۔
ان کا ز یادہ تر وقت باہمی جنگوں میں گزرتا…. معمولی باتوں پر برسوں قتل و خون کا بازار گرم رہتا…. جس کے پاس زیادہ غلام ہوتے اسے قدر کی نگاہ سے دیکھتے…. جوا ، شراب ان کی روزمرا زندگی کا حصہ تھا… اس سب کے باوجود بلا کے…. مہمان نواز ، خود دار اور بہادر تھے…. بہادر لوگوں کو پسند کرتے اور….. سردار… بنا لیتے….. حسب نسب کو یاد رکھتے اور اس پر فخر بھی کرتے…. شعرو شاعری کے ذریعے اپنے اجداد کے کارناموں کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتے….. اہل علم کی عزت کرتے……. شہر مکہ…… ان کا کاروباری مرکز تھا۔
٭ مذہبی حالات۔
خانہ کعبہ……. جو حضرت ابراہیم ؑ نے بنایا تھا اور یہ ان کا….. دینی مرکز…. تھا… لوگ دور ودراز عرب ممالک سے یہاں…. طواف … کے لیے آتے۔ مگر وہ ابراہیمی دین سے بہت دور نکل گئے تھے۔…. کعبہ… میں جا بجا بہت سارئے…. ’بت… رکھے ہوئے تھے اور یہ لوگ ان کی پرستیش کرتے…. لات، منات، عزی اور ھبل ان کے مشہور ’بت تھے۔ اس کے علاوہ عرب میں مختلف مذاہب بھی موجود تھے جن میں….. نصرانیت ، یہودیت اور مجوسیت شامل تھے۔

٭قریش مکہ۔
مکہ میں ایک نسل….. حضرت اسماعیل ؑ …. کی اولاد کا اور دوسرا …. زم زم …کے نکلنے کے بعدان کی والدہ حضرت بی بی ہاجرہ ؑ کی اجازت سے یہاں آباد ہونے والے…. بنی جرھم…. سے آگے بڑھی۔وقت کے ساتھ ساتھ شہر مکہ پھلتا گیا…. بنو اسماعیل مکہ کے اطراف میں پھیل گئے ا و ادھر بنو جرہم کی سر کشیاں بڑھتی گئیں اور وہ….. بیت اللہ… کی حرمت کو بھی پامال کرنے لگے…. یہاں تک تیسری صدی عیسوی میں…. یمن…سے آنے والے ایک قبیلہ…. بنو خزاعہ …. کو اللہ نے ان پر مسلط کردیا…. بنو جرہم کو جب بزور مکہ سے نکلا گیا تو انہوں نے یہ شرارت کردی کہ جاتے جاتے….. زم زم… کے کنواں کو جن پر ان کا قبضہ تھاکو پتھر اور مٹی ڈال کر زمین کے ساتھ ہموار کردیا….. وقت کے ساتھ ساتھ بارشوں اور موسمی سلابوں نے اس عظیم نعمت کے نشانات تک مٹا دیے۔مکہ پر…. خزاعہ…. کی حکمرانی کچھ عرصہ چلتی رہی…. بعد کے ادوار میں اس قبیلے نے…. بت برستی…. کی بد تر ین روایت قائم کردی….. کعبہ شریف کے تقدس کو پامال کیا اور جگہ جگہ سے بت لاکر کعبہ میں جمع کئے….. اس عرصے کے دوران… بنو اسماعیل جو مکہ کے اطراف سے واپس مکہ میں آباد ہوگئی تھی جس کی ایک شاخ….. قریش…..کے نام سے شہرت پاچکی تھی…. مکہ کی سرداری….. بنو خزاعہ….. سے…. قریش…. کوا س وقت منتقل ہوگئی جب…. خزاعہ کے سردار نے وفات سے قبل…. بیت اللہ… کی نگہبانی کی ذمہ داری اپنے قریشی داماد….. قصی بن کلاب قریشی اور اس کے بیٹوں کے سپرد کی۔
قصی…..نے یہ ذمہ داری احسن طریقے سے نبھائی اور حاجیوں کے لیے بہترین خدمات انجام دیئے اور بہت جلد مکہ اور باہر سے آنے والوں کے دلوں میں جگہ بنالیا ….. سیاسی… دفاعی اورمعاشی…معاملات کو بہتر بنانے کے لیے… دارالندوا…. (پارلیمنٹ) کی بنیاد رکھی جس میں سردران قریش اور دیگر عمائدین مکہ…. مشاورت… کے لیے بلائے جاتے….رفتہ رفتہ حاجیوں کو کھانا اور پانی پلانے کی ذمہ داری قریش کی شاخ….. بنو ہاشم…. کے حصے میں آیا…. اس کے سردار…. آپ ﷺ کے دادا عبدالمطلب تھے…. جو اپنی وجاہت اور بہادری اور سخاوت کی وجہ سے عرب بھر میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے.۔

٭٭٭٭٭

ہیرو کی قربانی

٭عبدالدارسے عبداللہ تک۔
ایک زمانہ وہ تھاجب منٰی کی تپتی ہوئی صحرا میں…. حضرت ابراہیم ؑ اپنے لخت جگر حضرت اسماعیل ؑ کے گلے میں چھری
چلاکے رب کریم کے حضور سرخ رو ہوچکے تھے آج اسی ابراہیمی سنت کو زندہ کرنے کا وقت آچکا تھا.. فاران کے ہیرو جنہوں نے…زم زم… کی کھدائی کے دوران رب کائنات سے جو وعدہ کیاتھا… اب اسے نبھانے کا وقت آگیا تھا…. اس نے اعلان کیاتھاکہ…. زم زم… کے نکلنے پر اللہ کے عطا کردہ دس بیٹوں میں سے ایک کو اللہ کے لیے قربان کردے گا…. سارئے بیٹوں نے باپ کے فیصلے پر سر تسلیم خم
کیے…. ایک دن حسب وعدہ دس بیٹوں کو ساتھ لیا …. اور کعبہ میں آکے ان کے درمیان خوش نصیب کا انتخاب کرنے کے لیے…. فال… کا تیر پھنکا…. سب لوگ دھڑکتے دلوں کے ساتھ یہ منظر دیکھ رہے تھے کہ فال…. مکہ کے سردار کے کس بیٹے کے حصے میں آتا ہے…. لیکن دوسری طرف سردار کے بیٹے… تسلیم و رضاکا پیکر بنے…. ہیرو کے فیصلے پر قربان ہونے کو تیار کھڑے تھے… فال… نکلا بھی تو ہیرو کے سب سے پیارئے بیٹے….جس پر مکہ قربان ہونے کو تیار تھا… جس کے چہرہ حسین اور پرنورپیشانی کاہر کوئی دیوانہ تھا…. مجمع میں ایک ہنگانہ کھڑا ہوا… اور سب نے اپنے سردار کی مخالفت میں آواز بلند کی… کہ اسے کسی حال میں قربان ہونے نہیں دیں گے… اس کے بھائیوں نے خود کو پیش کیے کہ ہمیں قربان کیا جائے…. لوگوں نے اپنے بیٹے پیش کیے…. کہ کسی طرح…. اس چاند چہرئے والے کو بچایا جائے…. ہیرو… آگے بڑھے اور بیٹے جن کا نام…. عبدالدار…. تھا ہاتھ سے پکڑا اورکعبہ شریف کے دروازئے پر پہنچے…. اور رب کریم سے مخاطب ہو کے کہا ”ائے پروردگار میں نے آپ سے وعدہ کیاتھا…. آج اسے نبھانے کا وقت آیا ہے…. اور میں اپنے سب سے چہیتے بیٹے کو آپ کے نام پر قربان کررہا ہوں … اور اس کا نام بدل کر….. عبداللہ…. رکھ رہا ہوں….. عبداللہ کی قربانی کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے لوگوں کے جم غفیر نے…. مکہ کے سردار کوگھیرلیا اور فیصلہ بدلنے پر مجبور کرنے لگے….کہ اسے ذبح کرنے کی وجہ بیان کی جائے۔ اگر آپ نے ایسا کیا تو ہم سب اپنے اپنے بیٹوں کو یہاں لاکر ذبح کرتے رہیں گے…… عبداللہ کے بدلے ہر کوئی فدیہ اور خون بہا دینے کا آرزو مند تھا…..لیکن سردار کہاں بدلنے والے تھے…. آخر اس شرط پر راضی ہوگیاکہ….. کہ مقام حجر…. میں ایک مشہورکاہنہ سے اس مسلے کے حل کے لیے مشورہ لیاجائے اور جو فیصلہ وہ کریں وہ سب کو قبول ہوگا.. لوگ سردارکو لے کاہنہ کے پاس پہنچے اور سارا قصہ سنا دیا….. کاہنہ نے اپنے علم کے مطابق عمل کیا اور پوچھا…. تمہارئے ہاں ایک آدمی کا خون بہا کس قدر ہے؟.. انہوں نے کہا… دس اونٹ… کاہنہ نے کہا تم واپس آپنے شہر جاو اور دس اونٹ مہیا کرو۔ پھر عبداللہ اور ان کے درمیاں… فال…. نکالو اگر عبداللہ کے نام نکل آیا تو دس اونٹ بڑھاتے جاویہاں تک کہ تمہارئے رب راضی ہوجائے…. لوگ خوشیاں مناتے ہوئے مکہ لوٹے۔ ہر بار فال عبداللہ کے نام نکلاہر بار دس اونٹ بڑھاتے گئے۔ یہاں کے کہ تعداد…. سو…. کو پہنچا تب فال اونٹوں کے نام نکل آیا۔ لوگوں نے خوشی کے شادیانے بجائے…. ہیرو نے اپنی تسلی کے لیے دو بار اور فال ڈالا مگر ہر بار اونٹ ہی نکلے… ہیرو آگے بڑھے بیٹے کا ماتھا چوما اللہ کا شکر بجالایا اور تمام اونٹ اللہ کے نام پر قربان کیے… اور لوگوں کی جھرمٹ میں خوشیان مناتے ہوئے گھر پہنچے….

٭چاند کی شادی۔
اس واقع نے… عبداللہ جو پہلے ہی اپنی خوبصورتی کی وجہ سے عرب بھر میں مشہور تھے… کی شہرت کو چار چاندلگادئے ہر کوئی اس عظیم اور حسین جمیل نوجوان کی حسن کا دیوانہ تھا… اور اسے جیون ساتھی بنانے کے لیے عرب لڑکیاں مر مٹنے کو تیارتھیں
لیکن… فاران کے ہیرو… وہب ابن عبدالمناف کی بیٹی…. آمنہ… کے لیے جو زنان قریش میں عفت و جمال کے لحاظ سے سردار مانی جاتی تھی… رشتہ قبول کرچکے تھے….. شادی کے چنددن بعد حضرت عبداللہ کعبہ میں موجود تھے… تو شاہ شام کی صاحبزادی…. فاطمہ..

عبداللہ کی شہرت کا سن کر مکہ آئی تھی ان سے ملاقات کی ان کے ساتھ…. حسن جمال کے علاوہ مال دولت اور خدام و لونڈیوں کی
ایک جماعت بھی تھی اس نے… عبداللہ کی پیشانی پر نور نبوت دیکھاتو قربان ہوگئی…. اور شادی کی پیشکش کی…. عبداللہ نے اپنے والد سے مشورہ کرنے کا بہانہ بنایا…ایک اور… راہیبہ… نے بھی اس قسم کی آرزو کا اظہار کیا۔ لیکن دوسرئے ہی دن عبداللہ کی ان سے ملاقات ہوئی
تو نور نبوت جو…. رحم… آمنہ میں منتقل ہوگیا تھا کو نہ پاکر ان کے دل سے ایک درد رساں… آہ… نکلی اور کہاہائے ” عبداللہ میری خواہش کاستارہ ڈوب گیا ہے… اور میری آرزو کی چنگاری بجھ گئی ہے۔میں نے چاہا وہ نور مجھ میں منتقل ہو مگر وہ کسی اور کے حصے میں آیا….“
٭٭٭٭

٭کانچ کی جوڑی۔
حضرت عبداللہ اور حضرت آمنہ ہنسی خوشی زندگی گزار رہے تھے۔کہ عبداللہ کو تجارت کی غرض سے شام جانا پڑا…. وہاں سے واپسی پر آپ راستے میں بیمار ہوگئے اور ایک ماہ تک مدینہ میں ٹھر گئے۔ایک دن بیماری کی شدت میں اضافہ ہوا اور یہ چاند چہرے والا نوجوان پچیس سال کی عمر میں وفات پاگئے…شاید اللہ تعالیٰ نے ا سے جس مقصد کے لے پیدا کیا تھا وہ پورا ہوچکا تھا…. اس وقت آپ کے
فرز ند ﷺ شکم مادر میں دو ماہ کے تھے….. چند ماہ کی رفاقت کے بعدحضرت آمنہ اور آپ کی یہ جوڑی کانچ کی طرح ٹوٹ گئی۔۔۔ آپ نے ترکہ میں ایک لونڈی ام ایمن، پانچ اونٹ، بکریوں کا ایک گلہ چھوڑا۔حضرت آمنہ ایک مرثیہ میں عبداللہ کو یوں یاد کیا… عفا جانب البطحاء من آل ھاشم وجاو رلحدٓٓا خار جآٓ فی الغماغم
ابابیل کی…. لڑائی
٭ اصحاب فیل۔
570 ء میں یمن کے بادشاہ ابرہہ اشرم بن صباح نے جو یمن میں شاہ حبشہ کے نائب عیسائی حکمران تھے.. یمن کے درالسلطنت شہر صنعاء میں ایک علیشان گرجا اس مقصد کے لیے تعمیر کروایا کہ عرب دنیا کو حج کعبہ کی بجائے اس کلیساء کی جانب لایا جائے تاکہ… خانہ کعبہ… کی مذہبی حیشیت کا خاتمہ ہو… اس مقصد کے لیے اس نے بے دریغ دولت استعمال کی… سنگ مر مر، سونا، قیمتی لکڑی کا بھرپور استعمال کیا…اور لوگوں کواس کی زیارت کی دعوت دی…. یمن اور آس پاس کی ریاستوں کی فتوحات کے بعد بت برستوں اور یہودیوں کو زبردستی عیسائی بنانے کا مرحلہ جاری تھا… اور عرب دنیا میں عیسائیت کو مکمل طور پر نافذ کرنے کی راہ میں سب سے بڑی
رکاوٹ…. بیت اللہ… کو مان رہے تھے…. شاہ یمن ابرہہ نے عربوں کو زبردستی اس… کلیسا… کی جانب موڑنے کی تحریک چلائی تو ایک عرب نوجوں نے طیش میں اکر رات اس گرجے میں غلاظت پھیلادئے… جب اس حرکت کی خبر بادشاہ کو پہنچی تو وہ بے حد غصہ ہوا اور قسم کھائی کہ جب تک….بیت اللہ… کو منہدم نہ کریگا چین سے نہیں بیٹھے گا…. وہ ایک لشکر جرار لیکر مکہ کی طرف بڑھا اور جو بھی روکاٹ بنا

شکست دیتا ہوا… طائف پہنچا۔
ابرہہ ساٹھ ہزار کے لشکر کے ساتھ مکہ کے باہر ”مزدلفہ اور منیٰ“ کے درمیان…. وادی محسر… میں ڈھیرے ڈال کر قریش کے سردار سے بات کرنے کی خواہش ظاہر کی…. ابرہہ…. خانہ کعبہ کو ڈھاتے ہوئے خوف محسوس کر رہے تھے کہ کہیں عذاب میں مبتلا نہ ہوجائیں لہذا بات چیت کے ذریعہ اپنا مطلب نکالنا چاہتے تھے۔ابرہہ نے مکہ والوں کے اونٹ زبردستی قبضہ کئے رکھے ان میں حضرت عبدالمطالب کے اونٹ بھی شامل تھے۔ جناب عبدالمطالب جب ابرہہ سے ملنے آئے تو آپ کی شخصیت اور وجاہت سے متاثر ہوکے ابرہہ کھڑے ہوگئے جب حضرت عبدالمطالب نے یہ مطالبہ کیا کہ وہ اپنے اونٹ لینے کے لیے آیا ہے تو ابرہہ کو بہت مایوسی ہوئی اور حیرت سے کہا”میں آپ کی شخصیت سے بہت متاثر ہوا تھا اور یہ سمجھ رہا تھا کہ آپ مجھے …. بیت اللہ… کی بے حرمتی سے روکیں گے مگر آپ تو اونٹوں کی معمولی مطالبے پر آگئے ہیں؟ آپ نے جواب دیا”اونٹ میرے ہیں اور یہ گھر اللہ کا ہے وہی اس کا مالک ہے اور وہی اس کے محافظ ہیں۔اپنے اونٹ لے کر عبدالمطالب مکہ والوں کو لے کر پہاڑوں کی طرف نکل گئے اور شہر مکہ ابرہہ کے لیے خالی کر دیا۔
ابرہہ…بیت اللہ… کی جانب بڑھے تو ان کا ہاتھی ڈر کے مارے بیٹھ جاتا سپاہی زبردستی اسے آگے بڑھاتے جب مکہ کے قریب آئے تو آسمان میں پرندوں کا جھنڈ نظر آیا جنہوں نے ٹھیکری جیسے پتھر ابرہہ کی فوج پر برسا دئے اور وہ کھائے ہوئے بھس کی طرح ہوکے رہ گئے۔ سورہ فیل میں اس واقع کا ذکر موجود ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔