خیبر پختونخوا کا نیا بلدیاتی نظام…تحریر: کریم اللہ

پاکستان تحریک انصاف کا اصل منشور صحت و تعلیم کے علاوہ اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی اور خود مختار و بااختیار بلدیاتی اداروں کا قیام بھی تھا اسی نعرے کو لے کر وہ 2013ء کے بلدیاتی انتخابات میں کامیاب ہوگئے تھے ، اس کے بعد خیبر پختونخوا اسمبلی سے نیا بلدیاتی ایکٹ پاس کروایا اور 2014ء میں اس میں ترمیم لائی گئی اس ایکٹ کو خیبرپختونخوا لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013-14 کہا جاتا ہے۔ ایکٹ صوبائی اسمبلی سے تو پاس ہوگئی مگر حکمران جماعت بلدیاتی الیکشن کروانے میں لیت و لعل سے کام لینے لگیں بالاآخر عدلیہ کو مداخلت کرنا پڑا اور عدالتی حکم پر 30 مئی 2015ء کو خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات ہوئے ۔
لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013- 14 کے مطابق تین قسم کے بلدیاتی اداروں کا قیام عمل میں آیا ۔ جن میں ویلج یا نیبر ہڈ کونسل، تحصیل کونسل اور ضلع کونسل۔ ویلج کونسل کی آبادی پانچ سےپندرہ ہزار آبادی پر مشتمل علاقے کو ایک ویلج کونسل قرار دیا گیا جس میں جنرل کونسلر کے پانچ سے دس ممبران، ایک کسان کونسلر، ایک یوتھ ، دو خواتین اور جہاں اقلیت ہو وہاں ایک نشست اقلیتوں کے لئے بھی مختص کی گئی ۔ ویلج کونسل کے ممبران کا انتخاب غیر جماعتی بنیادوں پہ عمل میں لایا گیا جنرل کونسلر کے امیدواروں میں سے جو سب سے زیادہ ووٹ لیا وہ وی سی کا ناظم کہلاتا تھا جبکہ دوسرے نمبر پہ آنے والے کو نائب ناظم یا اسپیکر کہا جاتا تھا۔ اس ایکٹ کے مطابق ویلج کونسل مالی لحاظ سے ایک خود مختار ادارہ تھا سارے فیصلے ویلج کونسل سادہ اکثریت سےکرتے تھے جبکہ چیک پاؤر ناظم کے پاس ہوتا تھا البتہ ناظم کے ساتھ سیکرٹری کو بھی چیک میں دستخطی رکھا گیا ۔ مگر ویلج کونسل میں اکثریت رائے سے جو بھی مالی فیصلے ہونگے ان پر من و غن عمل کرنا ناظم و سیکرٹری پر لازم تھا۔
لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2019ء کی رو کی دو قسم کی مقامی حکومتیں وجود میں آئیں گے۔ ان میں سے ایک ویلج یا نیبر ہڈ کونسل کہلائے گی جبکہ دوسرا تحصیل کونسل۔ ہر ویلج /نیبر ہڈکو نسل ماضی کی طرح پانچ سے پندرہ ہزار کی آبادی پر مشتمل ہوگی، جن میں تین سے سات جنرل کونسلر ایک یوتھ ایک خاتون اور ایک کسان/ مزدور کونسلر کی سیٹ ہوگی ۔ 2013-14 کے مطابق ویلج کونسل کے سارے ممبران کا انتخاب غیر جماعتی بنیادوں پہ ہوتا تھا جبکہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2019ء کے مطابق ویلج کونسل کے سارے ممبران کا انتخاب جماعتی بنیادوں پہ ہوگا اور امیدواراں سیاسی جماعتوں کی ٹکٹوں پہ الیکشن لڑیں گے۔ جنرل کونسلر میں سے سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والا ناظم یا چیرمین کہلائے گا۔ چیرمین بیک وقت اپنے ویلج کونسل کے سربراہ اور تحصیل کونسل کا ممبر ہوگا۔
اسی طرح تحصیل کونسل کا سربراہ تحصیل ناظم یا چیرمین کہلائے گا جو براہ راست عوامی ووٹوں سے منتخب ہوگا تحصیل نظامت / چیرمین شپ بھی پارٹی بنیادوں پہ ہوگی ۔ البتہ وی سی ناظمیں/ چیرمینز تحصیل کونسل کے ممبر ہوتے ہیں یوں تحصیل کونسل الگ اور تحصیل ناظم کی حیثیت الگ نظر آرہی ہے کیونکہ اگر تحصیل ناظم کسی ایک پارٹی کا آئے تو تحصیل کونسل کے ممبران کی اکثریت کسی دوسری جماعت سے بھی ہونے کے چانسز ہے ۔ ایسی صورت میں تحصیل کونسل کے اندر کشماکش ہونے کے چانسز ہے یوں اس کشمکش کے نتیجے میں کسی حلقے میں ترقیاتی کاموں اور قانون سازی میں خلل پڑنے کا اندیشہ رہتا ہے۔ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2019ء میں تحصیل ناظم کے ساتھ نائب ناظم/ اسپیکر یا کنوئنیر کا کوئی عہدہ موجود ہے یہی وجہ ہے کہ آنے والے بلدیاتی سیٹ آپ کے بارے میں فی الحال کنفیوژن موجود ہے۔ اس کے علاوہ اسی ایکٹ میں تحصیل کونسل میں خواتین ، نوجوانوں ، اقلیتوں اور کسان / مزدور وں کے لئے مخصوص نشستوں کے حوالے سے بھی کوئی تذکرہ نہیں یہی وجہ ہے کہ ان سارے امور پر ابہام پایا جاتا ہے۔ تاہم لوکل گورنمنٹ کے ماہر اور صحافی کمال عبدالجمیل نے بتایا کہ ” کسی بھی لوکل باڈیز میں کم از کم تینتیس فیصد خواتین کے لئے مخصوص کوٹہ، دس فیصد اقلیتوں، دس فیصد نوجوانوں اور دس فیصد کسان / مزدور کا کوٹہ ہوتا ہے۔ اگر کسی کونسل میں دس فیصد میں ایک بھی نشست نہ آئے تو اسی کونسل کے اندر کم از کم ایک سیٹ یوتھ کے لئے ایک کسان/ مزدور اور ایک اقلیتوں کے لئے مختص ہوتا ہے۔ جبکہ خواتین کا تینتیس فیصد کوٹہ برقرار رہتا ہے”۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔