شہزادہ ریاض الدین نے اپنے بیٹے شہزادہ سیار اور سینکڑوں حامیوں کے ساتھ پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی

چترال (نمائندہ چترال ایکسپریس) پولو کے معروف کھلاڑی اور شاہی خاندان کے چشم وچراغ شہزادہ ریاض الدین نے اپنے بیٹے شہزادہ سیار اور سینکڑوں حامیوں کے ساتھ پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی اور وزیر اعظم عمران خان کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ملک وقوم کے لئے ناگزیر قرار دیا اورکہا کہ وہ کرپشن کے خلاف برسرپیکار اس عظیم رہنما کا ساتھ دینا ہر محب وطن پاکستانی پر فرض ہے تاکہ اس کا مستقبل سنور جائے۔ دولومچ میں منعقدہ ایک شمولیتی تقریب میں وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی وزیر زادہ نے انہیں اور ان کے ساتھیوں کو پارٹی کی ٹوپی پہناتے ہوئے پارٹی میں خوش آمدید کہا اور ان کی شمولیت کو پی ٹی آئی کے لئے بہت ہی بڑی کامیابی قرار دی۔ وزیرزادہ نے چترال کی پسماندگی کو دور کرنے میں وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلیٰ محمود خان کی ذاتی دلچسپی کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ اس دور میں ریکارڈ تعداد میں ترقیاتی کام مختلف سیکٹروں میں شروع کئے جاچکے ہیں جن میں کئی میگاپراجیکٹ بھی شامل ہیں اور یہ بات بھی حقیقت ہے کہ چترال کے عوام احسان شناسی کے لئے مشہورہیں جوکہ ذولفقار علی بھٹو اور پرویز مشرف کے نام پر ووٹ دیتے رہے اور اب عمران خان کو بھی اسی جوش وجذبے سے ووٹ دے کر اپنی روایت برقرار رکھیں گے۔انہوں نے کہاکہ اپوزیشن والے مہنگائی کے نام پر پی ٹی آئی کو بدنا م کرنے کی کوشش کررہے ہیں جبکہ عوام کو بخوبی معلوم ہے کہ ملکی خزانے پر سابق حکمرانوں میں اپنی کرپشن اور عیاشی سے قرضوں کا ناقابل برداشت بوجھ ڈال دیا تھا اور عمران خان ملک کو قرضوں کی دلدل سے نکال رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کے سینئر رہنما عبداللطیف اور پارٹی میں شمولیت کرنے والوں کے رہنما مرزا خان، ادینہ خان اور تاج الدین جگر نے بھی خطاب کیا اور پی ٹی آئی حکومت کو موجود ہ دور میں ملک کے لئے ناگزیر قرار دیا اوراس امید کا اظہار کیاکہ آنے والی بلدیاتی انتخابات میں اس جماعت کو تاریخی کامیابی حاصل ہوگی۔ دریں اثناء لویر چترال کے دیگر مقامات بلچ، بکرآباد اور کجو کے مقامات پر بھی شمولیتی تقاریب منعقدہوئے جن میں سینکڑوں افراد نے جماعت اسلامی،جے یو آئی، پی پی پی اور مسلم لیگ کو چھوڑ کر پی ٹی آئی میں شامل ہوگئے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔