مسکان تم نے ہمیں مشکل میں ڈال دیا…خالد محمود ساحر

ایک تیز ہوا آئی اور مسکان کے سر سے چادر آڑانے لگی لیکن اس کی پکڑ اتنی مضبوط تھی کہ تند ہوا بھی چادر کو اڑا نہ سکی.ہوا کا دباؤ اس قدر ذیادہ تھا کہ سرحد کے اِس پار موجود کئی مسکان اپنی چادریں سنبھالنے لگیں.

دو دنوں سے ہندوستان میں یہ تند ہوائیں چل رہی ہیں. ہزاروں مسکان ہوا کی لہروں کے سامنے مزاحمت کی دیوار بن کر کھڑی ہیں. سرحد کے اِس پار سے ان کا حوصلہ بڑھایا جارہا ہے. اِس پار کے ہاتھ بے بس ہیں بے چین ہیں سرحد میں لگی باڑ نے اِن ہاتھوں کو جکڑ رکھا ہے لیکن یہاں سے اٹھنے والی صداؤں کی گونج سرحدوں کو بھی چیر رہی ہے.

ایمان کی نچلی سطح پر موجود ہم من ہی من اس واقعے کی مذمت کررہے ہیں سوشل میڈیا کے اوپر اپنے جذبات کا اظہار کررہے ہیں چادر بچاؤ کا ٹرینڈ چلا رہے ہیں.

ایک طرف سرحد کے اُس پار مسکان سر اٹھائے کھڑی ہے کہ اسکی چادر سنبھالنے کے لئے اس کی بھائیوں کے ہاتھ بھی آگے بڑھے ہیں تو دوسری طرف سرحد کے اِس پار کئی بہنوں کی نیم سرکی چادریں صرف اس لئے کھینچی جارہی ہیں کہ وہ مسکان نظر نہیں آتیں.

مسکان تو یہ بھی ہیں چادر تو اِن کی بھی اڑ رہی ہے. جن ہاتھوں کو اِن کی چادریں سنبھالنا ہے وہ ہاتھ تو اِن کی نیم ڈھکی سروں کو ننگا کرنے پر تل گئے ہیں.

مسکان! یہ کیا کر گئی تم یہ ہمیں کس مشکل میں ڈال دیا.

ہم تمہاری جذبہ ایمانی پر خوش ہوں کہ اس جذبے کی وجہ سے بھڑکنے والی غیرتِ ایمانی سے غیر محفوظ چادروں کی فکر کریں.تم نے تو اپنی تشخص کی جنگ لڑی ہے لیکن ہمارے مسکان کس جنگ میں گھر گئے ہیں تم تو غیروں کا مقابلہ کررہی تھی تمہیں اپنوں کا ساتھ تھا تمہاری چادر تمھارے سر پر رہی اور ہمیشہ رہے گی لیکن اِن کی چادریں کون بچائے گا یہ اپنوں کا مقابلہ کس طرح کریں گی.

مسکان! تم نے ہمیں مشکل میں ڈال دیا.

ایک طرف تمہیں رول ماڈل دکھایا جارہا ہے تمہارے حق میں چادر بچاؤ مہم چلائی جارہی ہے تو دوسری طرف چادر پہناؤ مہم تیز ہورہی ہے. تمہاری چادر تو بچ جائے گی لیکن کئی مسکان جو تمہاری طرح چادر نہیں پہن سکیں وہ نہیں بچ پائیں گے. تم نے تو نارَنگی اسکارف والوں کا سامنا بہادری سے کرلیا لیکن یہ مسکان سفید اسکارف والوں کا سامنا نہیں کرسکیں گی.

تم نے اِنہیں مشکل میں ڈال دیا.

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔