داد بیداد …بازیچہ اطفال …ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی 

وطن عزیز پا کستان میں حزب اقتدار حکومت کر تی ہے حزب اختلا ف حکومت سے با ہر انتظا ر نہیں کر تی انتخا بات کے دوسرے دن سڑ کوں پر آکر حکومت کو گرا نے کا دعویٰ کر تی ہے دنیا بھر کے پرنٹ، الیکڑا نک اور سو شل میڈیا میں ہماری قومی سیا ست کا مذاق اڑا یا جا تا ہے مرزا اسد اللہ خا ن غا لب نے شا ید اسی منظر نا مے کے لئے پیش گو ئی کے انداز میں کہا تھا ؎

بازیچۂ اطفال ہے دنیا میرے آگے

ہو تا ہے شب روز تما شا میرے آگے

زیا دہ دور جا کر گڑھے مر دے اکھا ڑ نے کی ضرورت نہیں 1990سے 1999ء تک ہونے والی آنکھ مچو لی کو دہرا کر منہ کا ذائقہ برباد کرنے کی چنداں حا جب نہیں 2013میں قو می انتخا بات ہو ئے ایک سال بعد 2014ء میں حزب اختلا ف سڑ کوں پر آگئی اور حکومت سے مسعفی ہو نے کے مطا لبے کر نے لگی 2018ء میں پھر انتخا بات ہو ئے انتخا بات کے بعد حزب اختلا ف پھر سڑ کوں پر آگئی وہی دیرینہ مطا لبہ دہرا یا گیا کہ حکومت مستعفی ہو جا ئے مگر کیوں اور کس خو شی میں مستعفی ہو؟ اس سوال کو کسی نے اہمیت نہیں دی جس طرح بچوں کے بارے میں مقولہ ہے آج کے بچے کل کے باپ، اسی طرح حزب اختلا ف کے بارے میں بھی ایک مقولہ ہے آج کے حزب اختلا ف کل کے حکمران 2014ء میں جو لو گ حزب اختلا ف میں تھے وہ حکومت میں آگئے تو اُس وقت کی حکومت کے لو گ حزب اختلا ف بن گئے مشکل یہ ہے کہ 2014ء میں جو لو گ منتخب حکومت سے استعفیٰ دینے کا مطا لبہ کر ہرے تھے وہ لوگ 2018ء والے حزب اختلاف کو سڑ کوں پر ہڑ بونگ سے منع نہیں کر سکتے کل جو کچھ بو یا گیا تھا آج اس کی فصل پک گئی ہے یہ فصل کاٹنے کا مو سم ہے آج کے حزب اختلا ف کو خدا نخواستہ 2023میں حکومت مل گئی تو آنے والے دور کے حزب اختلا ف کو یہ لو گ سڑ کوں پر آنے سے نہیں روک سکینگے یوں سیا ست کی جگہ شورش، انتشار، ہڑ بونگ اور ہلہ گلہ کا سلسلہ اسی طرح جا ری رہے گا فیلڈ ما رشل ایوب خا ن نے کہا تھا جمہوریت یورپ اور امریکہ کے سرد ملکوں میں پھلتا پھو لتا ہے پنجاب اور سندھ کے گرم علا قوں کا مو سم جمہوریت کو راس نہیں آتا یہاں جمہوریت فروغ نہیں پا سکتا 1988ء سے اب تک 33بر سوں میں ہم نے جمہوریت کے جو تما شے دیکھے ان تما شوں کے ہو تے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ فیلڈ مارشل ایوب خا ن نے قوم کی نبض پر ہاتھ رکھ کر درست نتیجہ اخذ کیا تھا اس ملک کی آب و ہوا جمہوریت کے پودے کو راس نہیں آتی ور نہ کیا وجہ ہے کہ امریکہ بر طا نیہ، فرانس اور جرمنی سے لیکر تر کی اور ایران تک ہر جمہوری ملک میں حزب اختلا ف اگلے انتخا بات کا انتظا ر کر تی ہمارے پڑوس میں ایسے مما لک ہیں جہاں مقررہ مدت پوری ہونے پر انتخا بات ہوتے ہیں اگلے انتخا بات تک حزب اختلا ف انتظار کرتی ہے حکومت سے مستعفی ہونے کا مطا لبہ نہیں کر تی سڑ کوں پر آکر دھر نے نہیں دیتی، راستوں کو بلا ک نہیں کر تی چپ چاپ اگلے انتخا بات کے لئے اپنی پارٹی کی صفوں میں طا قت پیدا کر تی ہے اگلے انتخا بات میں جیت کر حکومت بنا نے کی تیا ری کر تی ہے جمہور ی ملکوں میں اسمبلیاں اس لئے ہوتی ہیں کہ حزب اختلا ف کو قا نو ن سازی کے حوالے سے اپنا نقطہ نظر بیان کرنے کا موقع ملے امریکی کا نگریس اور بر طا نوی دار لعوام میں کوئی قا نونی بل لا یا جا تا ہے تو حزب اختلا ف صحت مند مبا حثے میں حصہ لیتی ہے یہ حزب اختلا ف کا آئینی حق ہے ہمارے ہاں یہ روا یت نہیں بنی، حزب اختلا ف اگر حکومت سے ہمدردی نہیں کر تی بیشک نہ کرے اگلے انتخا بات کے بعد آنے والی اپنی ہی حکومت کا خیال کر کے مو جو دہ حکومت کو آئینی مدت پوری کر نے دے ملکی سیا ست کو با زیچہ اطفال نہ بنا ئے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔