داد بیداد…ریڈیو کا عالمی دن…ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

13فر وری کو ہر سال ریڈیو کا عا لمی دن منا یا جا تا ہے حسن اتفاق سے یہ دن 14فروری سے ایک دن پہلے آتا ہے اس لئے سب کی تو جہ 14فروری کی طرف ہو تی ہے ریڈیو کا دن ریڈیو سے با ہر نہیں آتا، جن لو گوں نے علم، آگہی اور شعور کے سفر میں ریڈیو کو اپنا رفیق سفر بنا یا ہے وہ لو گ فر وری کا مہینہ آتے ہی ریڈیو کے عا لمی دن کی فکر میں لگ جا تے ہیں ذرائع ابلا غ کی دنیا میں مو جودہ انقلا ب کا سورج طلو ع ہونے سے پہلے ریڈیو واحد ذریعہ ابلا غ ہو ا کر تا تھا ریڈیو سن کر پہا ری اور میدا نی علا قوں کے ان پڑھ اور نا خواندہ لو گ بھی عا لمی سیا ست پر گفتگو کر نے کے قا بل ہو تے تھے میرے گاوں میں سکندر با با رہتا تھا وہ آنکھو ں سے معذور ہو چکا تھا ریڈیو پر کر کٹ کی کو منٹری سن کر انہوں نے آسٹریلیا، نیو زی لینڈ، انگلینڈ، جنو بی افریقہ، سر ی لنکا، بھارت اور پا کستا ن کے تما م کر کٹر وں کے ریکا رڈ زبا نی یا د کر لیا تھا وہ ایان بو تھم، مارک وا، سنیل گواسکر، رمیز را جہ، عمران خا ن اور دیگر نما یاں کھلا ڑیوں کے ریکارڈ فرفر سنا تا تھا ریڈیو کی وجہ سے اشفاق احمد سے لیکر رضا علی عابدی، ثریا شہا ب اور سدھو بھا ئی تک نا مور براڈ کا سٹروں کے نا م گاوں کے ہر ایک فرد کی زبان پر ہو تے تھے ملکہ تر نم نور جہاں، لتا منگیشکر، مہدی حسن اور محمد رفیع کے نا م گاوں میں ایسے بو لے جا تے تھے جیسے یہ سب ہمارے قریبی پڑو سی ہوں پھر ٹیلی وژن آیا، پھر سوشل میڈیا کا دور آیا، تفریح اور آگہی کے بے شمار ذرائع ہا تھ آگئے مگر ریڈیو کی اہمیت کم نہیں ہوئی، ریڈیو آج بھی علم و آگہی کا سب سے موثر ذریعہ ہے جو کسان کو کھیت میں، مزدور کو مزدوری کی جگہ پر طالب علم کو ہا سٹل کے کمرے میں، ڈرائیور کو اُس کی گاڑی میں دستیاب ہے جو نہ وائی فائی کا محتا ج ہے نہ ڈیٹا، فورجی، تھری جی کا تقا ضا کر تا ہے نہ ریسیور اور ڈش یا انٹینا ما نگتا ہے دنیا کی تاریخ میں پہلی جنگ عظیم کے خا تمے کے بعد اور دوسری جنگ عظیم کے آغا ز سے پہلے یعنی 1919اور 1939کے درمیاں دو عشروں میں دو بڑے کام ہوئے ریڈیو کی نشریات کا آغاز 1920ء میں ہوا یہ اطا لوی سائنسدان مار کو نی کا کما ل تھا اس طرح جر منی کے رائٹ بردران کی ایجا دات مسافر بردار جہا ز کے تجربے کو کا میاب کیا، جیٹ انجن کے ذریعے جنگی جہا ز بھی بن گئے دوسری جنگ عظیم کی تبا ہ کن بمبا ری لندن، ہیرو شیما اور نا گا سا کی پر جہا زوں کے ذریعے ہوئی 1920سے 2022تک 102سال کی مدت گذری اس دوران ریڈیو نے پوری دنیا میں علم اور آگہی کا عظیم انقلا ب بر پا کیا بر صغیر پا ک و ہند میں ریڈیو ٹرانسمیٹر اور براڈ کا سٹ سٹیشن 1935ء میں قائم ہوئے یہ عجیب اتفاق ہے کہ دہلی اور لا ہور سے پہلے پشاور میں ریڈیو سٹیشن قائم ہوا، احمدندیم قاسمی اس سٹیشن سے نشریات کا آغاز کر نے کے لئے پشاور آئے اور پشاور میں رہے بر صغیر میں علم و ادب کے جن درخشان ستاروں نے ریڈیو سے کیرئیر کا آغا ز کیا ان میں زیڈ اے بخا ری، سعادت حسن منٹو، احمد ندیم قاسمی، اشفاق احمد اور دیگر نا مور شخصیات کے نا م آتے ہیں مشہور صدا کار وں میں طا رق عزیز، فردوس جما ل، عظمیٰ گیلا نی، عبید اللہ بیگ، قاضی سرور، ضیا محی الدین، طلعت حسین اور ان کے ہم عصروں نے ریڈیو ہی سے اپنا کیرئیر شروع کیا، پشتو مو سیقی کی دنیا میں نا م کما نے والے گلنا ر بیگم، احمد خا ن، خیال محمد اور زر سانگہ نے بھی ریڈیو ہی سے اپنا سفر شروع کیا ہمارے ہاں جب اے ایم ٹرانسمیٹر لگے تھے، ریڈیو پا کستان کا بڑا نا م تھا اب ایف ایم کا زما نہ آگیا ہے ریڈیو پا کستان کی آواز خا مو ش ہو گئی ہے محا ذ جنگ پر ڈیو ٹی دینے والے جا نباز فو جی ریڈیو پا کستا ن کو اب بھی یا د کر تے ہیں لیکن ”آن قدح بشکست و آن ساقی نما ندہ“

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔