یونیورسٹی آف چترال کے سینڈیکیٹ کا دوسراکامیاب اجلاس ۔،ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ

چترال(چترال ایکسپریس)جامعہ چترال کے شعبہ تعلقات عامہ کی طرف سے جاری شدہ پریس ریلیز کے مطابق جامعہ کے دوسرے سینڈیکیٹ کا اجلاس مورخہ دس اور گیارہ فروی کو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظاہر شاہ کی زیر صدارت منعقد کیا گیا جس میں دستیاب تمام اراکین نے شرکت کیا۔ اجلاس میں متعدد فیصلے کئےگئے۔ تفصیلات کے مطابق پہلے سینڈیکیٹ کے منٹس اورفیصلوں پرعملدرآمد کی توثیق کی گئی، مزید برآں جامعہ کے فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی کی سفارشات کی منظوری دیتے ہوئے ملازمین کو دس فیصد ایڈہاک ریلیف الاؤنس کی منظوری دی گئی،اور ہاؤس رینٹ الاؤنس میں اضافہ کیاگیا۔ اس کے علاوہ بیس فیصد ٹیچنگ الاؤنس، پےسکیل17 اور اوپر کے ملازمین کیلئے بیس فیصد اسپیشل الاؤنس، بی پی ایس ایک سات سے 16 کیلئے مبلغ 3500 روپے ماہانہ ڈیسپیرٹیریڈکشن الاؤنس جبکہ بنیادی اسکیل ایک تا چھ تک کے ملازمین کیلئےانٹیگریٹڈ الاؤنس، واشنگ الاؤنس، ڈریس الاؤنس میں اضافے اور کم از کم تنخواہ مبلغ 21000 روپے ماہانہ اور وزینٹنگ فیکلٹی کے مشاہرے میں بھی خاطر خواہ اضافے کی منظوری دی گئی، تاہم تنخواہوں اور مشاہرے میں اضافے کو حکومت کی طرف سے منظورشدہ فنڈ کی فراہمی سے مشروط کیاگیاہے۔پریس ریلیز میں وضاحت کی گئی ہے کہ حکومت کی جانب سے یونیورسٹی کے بجٹ برائے مالی سال 22-2021 کی منظوری پچھلے سال جون میں دی گئی تھی تاہم منظور شدہ بجٹ کی مد میں ابھی تک حکومت کی جانب سے جامعہ کو کوئی فنڈ مہیانہیں کئےگئے ہیں۔

اجلاس میں جامعہ کےمستقل ملازمتوں کے لئے آسامیوں کےتخلیق کی سفارش کی گئی،اور مستقل ملازمتوں پر تعیناتی کیلئے جامعہ کے سیلیکشن کمیٹی اور سلیکشن بورڈ کی تشکیل کی گئی، اور ملازمتوں میں مروجہ حکومتیکوٹہ پالیسی کی روشنی میں جامعہ کے لئے کوٹہ پالیسی کی بھی منظوری دے دی گئی۔ جامعہ میں چار نئے شعبوں بشمول شعبہ اسلامیات و مذہی تعلیمات، شعبہ کیمسٹری، شعبہ فزکس اور شعبہ ایگریکلچر کھولنے کی بھی سفارش کی گئی۔ سینڈیکیٹ نے جامعہ کے دو اساتذہ کو مطالعاتی رخصت (اسٹڈی لیو) دینے کیلئےوائس چانسلر کو اخیتار دے دیا۔ اور جامعہ کے متعدد ملازمین کے سروس کی مستقلی کی کیسزکیلئے کمیٹی تشکیل دی گئی۔

سینڈیکیٹ نے ایکڈیمک کونسل کے متعدد سفارشات کی منظور دی جن میں شعبہ جات کے بورڈز آف سٹڈیزبرائے بی ایس اور ایم اے ایم ایس سی پروگرام، ڈگری کی مجوزہ فارمیٹ، طلبہ کیلئےضابطہء اخلاق اور ہیراسمنٹ پالیسی شامل ہیں۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔