صابر اینڈ کوزمان ٹریولز نےپشاور سے چترال کے لئے دن کے وقت کوسٹر سروس کا آغاز کر دیا

چترال ( محکم الدین ) چترال کے عوامی حلقوں کے پر زورمطالبے پر صدرتریچمیر ڈرائیور یونین چترال صابراحمد نے پشاور سے دن کے وقت سروس کا آغاز کر دیا ہے ۔ جس سے چترالی مسافروں کا ایک دیرینہ مسئلہ حل ہو گیا ہے ۔ جبکہ یہ سہولت پہلے موجود نہ ہونے کے باعث چترالی مسافر پشاور تیمرگرہ یا دیر پہنچ کر وہاں سے منہ مانگے کرایہ دے کر چترال جانے پر مجبور تھے ۔ یا رات کو جانی خطرے کے باوجود سفر کرتے تھے ۔ کیونکہ دن کے وقت پشاور سے براہ راست چترال کیلئے کوسٹر سروس کی سہولت دستیاب نہیں تھی ۔ چترال پریس کلب کے صحافیوں نے گذشتہ روز اپنے دورے کے موقع پرزمان ٹریولز نزد قطر ہوٹل سکندر ٹاون جی ٹی روڈ پشاور میں اس نئے کوسٹر سروس کے اڈے اور سٹینڈ کا دورہ کیا ۔اس موقع پر صدر محمد صابر نے میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس اڈے کا قیام چترالی مسافروں کو استحصالی مافیا سے بچانے اوراچھی سفری سہولت دن کے وقت مہیا کرنے کے جذبے کے تحت کیا گیا ہے ۔ جسے ناکام بنانے کے لئے مافیاز بر سر پیکار ہیں ۔ اس لئے چترال کے مسافروں کو چاہیئے کہ وہ اس سروس کو کامیاب بنانے میں ہمارے ساتھ تعاون کریں ۔ انہوں نے کہا کہ فی الحال پشاور سے صبح 10بجے اور شام 8 بجے کوسٹر چترال کیلئے روانہ ہوں گے ۔ اسی طرح شام 6 بجے شاہی آڈہ چترال و شام 7بجے اورصبح 9 بجے  اتالیق آڈہ چترال سے پشاور کیلئے کوسٹر سروس کی سہولت عوام کو میسر ہو گی ۔ انہوں نے صحافیوں کو اڈے کی وزٹ کرائی ۔ جس میں مردو خواتین مسافروں کیلئے الگ الگ فرنیچر سے مزین انتظار گاہ ، سامان کو محفوظ رکھنے کیلئے سٹور اور مسافروں کے مفت قیام کیلئے صاف بستروں کے انتظامات کئے گئے تھے ۔ جبکہ ماحول بھی انتہائی صاف ہے ۔ صدر صابر احمد نے کہا کہ اس سروس کی راہ میں مختلف رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں ۔ اس لئے مجھے چترالی مسافروں کے بھر پور تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ یہ سروس کامیاب ہوگی ۔ تو ہم مزید سہولت فراہم کرنے کے قابل ہوں گے ۔ درین اثنا دن کے وقت پشاور سے براہ راست نئے کوسٹرسروس کے اڈے کے قیام کو عوام نے سراہا ہے ۔ اور اسے جاری رکھنے و کامیاب بنانے میں بھر پور تعاون کا یقین دلایا ہے ۔ اور اس امر کا اظہار کیا ہے کہ اس سروس سے چترال کے مقامی مسافروں سہولت ملنے کے علاوہ سیا حت کے فروغ میں مدد ملے گی ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔