کفایت شعاری ایک قومی ضرورت…محمد شریف شکیب

ملکی سیاست آج کل اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد، لانگ مارچ، بلدیاتی انتخابات اور الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے گرد گردش کر رہی ہے۔بتایاجاتا ہے کہ اپوزیشن نے تحریک عدم اعتماد کو کامیاب بنانے کے لئے حکومت کی اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں لے لیا ہے دوسری جانب حکومت اپوزیشن کی چال ناکام بنانے کیلئے سرگرم ہوگئی ہے۔وفاقی حکومت نے اپوزیشن کی تحریک عدم کے خلاف حکمت عملی طے کرتے ہوئے اتحادی جماعتوں کو خوش کرنے اور ان کے گلے شکوے اور تحفظات فوری طور پر دور کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اتحادی جماعتوں کے ارکان کو وزیر مملکت کا عہدہ دیا جائے گا اور اتحادی جماعتوں سے کیے گئے تمام وعدے پورے کیے جائیں گے۔اس حوالے سے وزیراعظم نے اپنے قریبی رفقا سے مشاورت مکمل کرلی ہے۔ حکومت نے اتحادیوں اور ناراض ارکان سے رابطہ بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی اور پنجاب کابینہ میں توسیع کر کے ناراض اتحادیوں کو راضی کیا جائے گا۔موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حکومتی اتحاد میں شامل بلوچستان عوامی پارٹی اور ایم کیو ایم سمیت دیگر اتحادیوں نے وزارتوں میں حصہ بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے۔اس وقت وفاقی کابینہ میں وزراء، وزرائے مملکت، معاونین خصوصی اور مشیروں کی مجموعی تعداد 90کے لگ بھگ ہے۔ ان تمام افراد کو لاکھوں روپے ماہانہ تنخواہ، کروڑوں کے صوابدیدی فنڈز، پرتعیش سرکاری رہائش گاہیں، گاڑیوں کے بیڑے، نوکرچاکر اور اندرون و بیرون ملک دوروں اور علاج کے علاوہ بچوں کی تعلیم کے اخراجات بھی حکومت کے ذمے ہیں۔دوسری جانب حکومت ہر مہینے پٹرولیم مصنوعات، بجلی، گیس اور ایل این جی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کر رہی ہے۔ گذشتہ نو مہینوں کے دوران تیل کی قیمتوں میں بارہ مرتبہ اضافہ کیا گیا اور فی لیٹر قیمت میں گذشتہ ایک سال کے دوران 52روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ تیل اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات زندگی کے تمام شعبوں پر پڑتے ہیں۔پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں غیر اعلانیہ طور پرپچاس فیصد اضافہ کردیا گیا۔کرائے بڑھنے کی وجہ سے گندم، آٹا، دالیں، سبزیاں، پھل، گوشت، چکن اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی فوری طور پر اضافہ کردیا گیا۔ تندور گرم دیکھ کر دیگر غیر متعلقہ کاروبار کرنے والوں نے بھی اپنے دام بڑھادیئے۔تیل کی قیمتوں میں جس دن اضافہ ہوا۔اسی روز پختہ چائے فروشوں نے بھی چائے کی ایک درمیانی پیالی کی قیمت تیس روپے سے بڑھا کر چالیس روپے کردی ہے۔دال چنا کی پلیٹ 80روپے سے بڑھا کر 120روپے ہوگئی۔اگلے چند روز میں پچاس گرام روٹی کی قیمت بھی پندرہ سے بڑھ کر بیس پچیس روپے ہونے کا قوی امکان ہے۔چونکہ روٹی ہر گھر میں تین بار کھائی جاتی ہے۔ دو روٹیاں کھانے والے پہلے ہی ایک روٹی پر اکتفا کر رہے ہیں اب شاید آدھی روٹی پر گذارہ کرنا پڑے۔کمرتوڑ مہنگائی سے تنخواہ دار، مزدور، دیہاڑی دار اور کم آمدنی والے افراد متاثر ہوتے ہیں اور اس طبقے کاملک کی آبادی میں تناسب 90فیصد ہے۔گذشتہ روز ایک وفاقی وزیرکا بیان نظروں سے گذرا کہ اگر پٹرول مہنگا ہے تو لوگ اس کا استعمال کم کریں۔ ہمیں وزیرموصوف کی تجویز سے سو فیصد اتفاق ہے ہماری بھی ایک تجویز ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اپنے وزراء، وزرائے مملکت، معاونین اور مشیروں کی تعداد کم کریں۔ اپنے اخراجات بھی گھٹا دیں۔قوم پر برا وقت آیا ہے تو قوم کے رہنماؤں کو قابل تقلید مثال قائم کرنی چاہئے۔گریڈ انیس سے نیچے کے تمام سرکاری افسروں سے سرکاری گاڑیاں واپس لی جائیں تو وفاقی وزراء سمیت تمام سرکاری افسروں کو پٹرول کا خرچ خود اٹھانے کا پابند بنایاجائے تاکہ انہیں بھی پتہ چلے کہ آٹے دال کا ملک میں کیابھاؤ چل رہا ہے۔اگر حکومت ایک آرڈر کے ذریعے تمام سرکاری محکموں، وزارتوں، ڈویژنوں، نیم سرکاری، خود مختار اداروں اور اتھارٹیوں کے افسروں سے سرکاری فیول منہا کرے تو قوم کو پٹرول 80روپے فی لیٹر پڑے گا۔ایف اے ٹی ایف کی شرائط بھی پوری ہوں گی، قوم کو بھی مہنگائی سے نجات ملے گی اور حکومت کو بھی اس کا سیاسی فائدہ حاصل ہوگا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔