معروف ماہرتعلیم گل سمبربیگم کو بچھڑے ایک سال بیت گیا۔…تحریر:سیدنذیرحسین شاہ نذیر

تجھے کھو دیا ہم نے پانے کے بعد
تیری یاد آئی تیرے جانے کے بعد

وہ خاتون بذات خود اپنی ذات میں انجمن تھی، ہر ایک کے دکھ درد میں اپنوں کی طرح شریک ہوتی تھی اور غریب پروری، رشتوں کی قدردانی ان کی مزاج میں کھوٹ کھوٹ کر بھری ہوئی تھی۔
معروف ماہرتعلیم سابق ڈی ای او محکمہ ایجوکیشن چترال گل سمبربیگم مرحومہ چھوٹوں اور بڑوں میں یکساں مقبول، غریبوں کی ہمدرد، دل کی سچی ایک باہمت خاتون تھی۔ یقین نہیں ہوتا کہ انہیں ہم سے بچھڑے ایک سال بیت گیا۔ محبت کرنے والا دل ہی انسانیت کا درد جانتا ہے اور یہی گل سمبر بیگم مرحومہ کی خاصیت تھی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنے دل کو دوسروں کے دکھوں سے بھرلیا تھا اور اپنا غم ہمیشہ چھپائے رکھی تھی۔
آج سے ایک سال قبل 25 فروری 2021 بروز جمعرات کو رات کے تقریباً دس بجے کے قریب اپنی فیملی اور اپنے عزیز و اقارب کو روتے ہوئے چھوڑ کر اس دارفانی سے ہمیشہ کیلئے کوچ کر گئیں۔ مگر ان کی محبت اور شفقت کبھی دلوں سے نہ جاسکیں اور ان کی یادیں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔

گل سمبربیگم نے چترال میں تعلیم نسواں کی ترویج میں گراں قدر خدمات انجام دیں ہیں۔ قوموں کی تعمیر و ترقی میں اساتذہ کا کردار اہمیت کا حامل ہوتاہے۔ تعمیر انسانیت اور علمی ارتقاء میں استاد کے کردار سے انکار نہیں کیا جا سکتا اسی لئے نظام تعلیم میں استاد کو مرکزی مقام حا صل ہے۔ گل سمبر بیگم بھی علم کی روشنی پھیلانے کے ساتھ ساتھ روایات، تہذیب، شرافت، اخلاق اور تمدن کا ہر لحاظ سے پاسداری کرنے والی کم گو مگر انتہائی پرخلوص اور مہربان خاتون تھی اسی لئے ان کی خدمات رہتی دنیا تک یاد رکھی جائیں گی۔

گل سمبر بیگم کو چترال کی پہلی لیڈی ہیلتھ وزیٹرز اور چترال کی پہلی خاتون کمیشنڈ آفیسر ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ انہوں نے کئی سالوں تک آغاخان ہیلتھ سروسز کے ساتھ صحت کے شعبے میں اور پھر محکمہ ایجوکیشن خیبرپختونخوا میں بحیثیت مدرس، ہیڈ مسٹریس، پرنسپل اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر اپنی خدمات انجام دیں تھی۔ وہ طالبات میں تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرکے ان کے اندر تعلیمی روح پھونکنے کی کوشش کرتی تھی تاکہ وہ خود بخود تعلیم کی طرف کھینچے چلیں آئیں۔ اور اسی مقصد کے لئے اساتذہ کے مختلف ورکشاپس، سمینارز اور دیگر پروگراموں میں یہی الفاظ بار بار دہراتی تھیں کہ “استاد بننے کے لئے تعلیمی ڈگریاں کافی نہیں ہوتیں، بلکہ زندگی کے ہر موڑ پر توجہ دیتے ہوئے اپنے لباس، اپنی گفتگو، چلنے کا ڈھنگ، تنہا ہو یا محفل میں اٹھنے بیٹھنے کا سلیقہ، اپنے چھوٹوں اور بڑوں سے برتاؤ کا سلیقہ، اپنے شاگردوں اور ان کے سرپرستوں سے میل جل کا ڈھنگ، اپنے عہدیداروں یعنی انتظامیہ کے ساتھ حسن اخلاق سے پیش آنا یہ سب وہ گر ہیں جو ایک استاد کو پیشہ ور بنا دیتا ہے۔ ان کی یہ بات بھی بڑی مشہور ہے کہ “بچوں کی تربیت کے لئے والدین کا تعلیم یافتہ ہونا ضروری نہیں البتہ والدین کا سمجھدار ہونا انتہائی ضروری ہے ۔”

ممتاز ماہر تعلیم گل سمبر بیگم کا تعلق اپر چترال بونی سے ہے۔ ابتدائی تعلیم گورنمنٹ پرائمری اسکول ریشن سے حاصل کی۔ اس کے بعد کراچی چلی گئی جہاں بنیادی ہیلتھ کئیر میں ڈپلومہ کرکے واپس چترال آئیں اور مختلف علاقوں میں خدمات انجام دیتی رہیں۔ سن 1981ء میں محکمہ تعلیم میں بحیثیت سینئیر انگلش ٹیچر بھرتی ہوئیں جبکہ 1992ء میں پبلک سروس کمیشن کا امتحان پاس کرکے گریڈ 17 میں ہیڈ مسٹریس اور پھر فیمل ڈی ای ا و ، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر اور آخر میں ای ڈی او ایجوکیشن کی حیثیت سے سن 2011ء میں ریٹائرڈ ہوگئی تھیں۔
سابق ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افیسرگل سمبربیگم ایک ایماندار، دیانتدار، فرض شناس خاتون آفیسر تھیں۔ ایسے بڑے عہدوں پر اپنے فرائض منصبی سرانجام دینے والے آفیسرز کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی دباؤ یا لالچ کا شکار ہوجاتے ہیں مگر مرحومہ گل سمبربیگم نے ہمیشہ سچ کاعلم بلند کیا ہے اور غلط کو غلط جبکہ صحیح کو صحیح کہا ہے۔

گل سمبر بیگم کواس جہان فانی سے گزرے ہوئی ایک سال بیت گیا مگر یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے وہ آج بھی ہمارے درمیان موجود ہیں۔ مگر ازل سے قدرت کا یہ نظام رہا ہے جو اس دنیا سے ایک بار گزر جاتے ہیں وہ پھر کبھی لوٹ کر نہیں آتے، بس ان کی یادیں ہی باقی رہ جاتی ہیں جو رہ رہ کرپلکوں پر اشکوں کے چراغ جلاتی ہیں۔
خوشی اور غم کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ خوشیاں انسان کے لئے سکون و راحت کا باعث ہوتی ہیں تو افسردگی اور افسوسناک واقعات اسے دکھی کر دیتے ہیں خوشی کے ساتھ غم اورغم کے ساتھ خوشی باہم جڑ ے ہوئے ہیں۔

یہ بات بھی درست ہے کہ انسان اپنے علم و ہنر سے معاشرے میں پہچانا جاتا ہے مگر انسان کی شناخت کی اصل بنیاد اس کا علم و ہنر ہر گز نہیں ہوتا بلکہ ان کا اخلاق و کردار بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ موت ایک حقیقت ہے لیکن بعض اموات ذہنوں پر نقوش چھوڑ جاتیں ہے اور اچانک جدائی کی خبر دل و دماغ کو گہرا صدمہ پہنچاتا ہے۔ کسی بھی قریبی رشتہ دار، دوست یا ہمدرد کے انتقال کے صدمے سے دو چار ہونا ایک ایسا تکلیف دہ تجربہ ہے کہ کبھی نہ کبھی ضرور انہی حقیقت سے ہر انسان کو گزرنا پڑتا ہے۔ ان مراحل سے ہم مرحومہ گل سمبر بیگم کے غم میں گزرے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کرتے ہیں کہ اللہ پاک ان کی روح کو دائمی زندگی کی مسرتوں سے نوازے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔

اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں
جس طرح سُوکھے ہوئے پُھول کتابوں میں ملیں

ڈُھونڈ اجڑے ہوئے لوگوں میں وفا کے موتی
یہ خزانے تجھے ممکن ہے خرابوں میں ملیں

آنکھ سے دورسہی دل سے کہاں جائے گا
جانے والے توبس یادبہت آئے گا

اگر تلاش کروں کوئی مل ہی جائے گا
مگر تمہاری طرح کون مجھ کو چاہے گا

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔