برقی جرائم کے تدارک کا قانون…محمد شریف شکیب

وفاقی حکومت نے پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ترمیمی آرڈیننس (پیکا)کا نفاذ کردیا ہے۔ پیکا آرڈیننس کے تحت کسی بھی شخص، کمپنی، ایسوسی ایشن، ادارہ یا اتھارٹی کے خلاف جعلی، من گھڑت اور جھوٹی خبر شائع،نشر اور ٹیلی کاسٹ کرکے کسی کے تشخص پر حملے کی سزا 3 سے بڑھا کر 5 سال کر دی گئی ہے۔ آرڈیننس کے مطابق شکایت درج کرانے والا خودمتاثرہ فریق، اس کا نمائندہ یا گارڈین ہوگا، جرم کو قابل دست اندازی پولیس قرار دیا گیا ہے جو ناقابل ضمانت ہو گا۔ ترمیمی آرڈیننس میں کہا گیا ہے کہ ٹرائل کورٹ 6 ماہ کے اندر کیس کا فیصلہ کرے گی اور ہر ماہ کیس کی تفصیلات ہائیکورٹ کو جمع کرائے گی، ہائیکورٹ کیس جلد نمٹانے میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کے لئے وفاقی و صوبائی حکومتوں اور افسران کوہدایات جاری کرے گی۔ ہر ہائیکورٹ کا چیف جسٹس ایک جج اور افسران کو ان کیسوں کی سماعت کے لیے نامزد کرے گا۔حکومت مخالف سیاسی جماعتوں نے پیکا آرڈیننس کو آزادی اظہار رائے پر قدغن لگانے کے مترادف قرار دیتے ہوئے اسے عدالتوں میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وفاقی وزیرقانون نے پیکا آرڈیننس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قانون جعلی اور من گھڑت خبروں کو روکنے کے لئے بنایاگیا ہے۔ اس سے میڈیا کی آزادی پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ معاشرے میں بے یقینی اور خوف و ہراس پھیلانے، شخصیات یا اداروں کو بدنام اور بے توقیر کرنے کی غرض سے جھوٹی خبریں، افواہیں اور فیک وڈیوز الیکٹرانک یا سوشل میڈیا پر چلانا آئینی، قانونی، اخلاقی اور مذہبی لحاظ سے مجرمانہ فعل ہے۔ جھوٹے پروپیگنڈے کی دین اسلام نے بھی سختی سے ممانعت کی ہے۔ اپنے سیاسی مخالفین کو بدنام کرنے، انہیں عوام کی نظروں سے گرانے اور راستے سے ہٹانے کے لئے فیک نیوز کا اجراء ہمارے معاشرے کے ماتھے پر ایک بدنما داغ ہے۔ کوئی بھی مہذب معاشرہ جعلی خبروں اور منفی پروپیگنڈے کی اجازت نہیں دیتا۔ اگر حکومت نے فیک نیوز کے تدارک کے لئے کوئی قدم اٹھایا ہے تو اس کی بھرپور حمایت کرنی چاہئے۔ہمارے ہاں ایک المیہ یہ ہے کہ کسی بات کو تحقیق اور تصدیق کے بغیر مزید مرچ مصالحے لگا کرآگے بڑھایاجاتا ہے بات کا بتنگڑ بنانا کوئی ہم سے سیکھے۔کسی بھی خبر کی تصدیق کئے بغیر اسے من و عن دوسروں تک پہنچانے کی دین اسلام نے سختی سے ممانعت کی ہے۔ از راہ مذاق یا بدنیتی کی بنیاد پر پھیلائی گئی جھوٹی خبر کسی کی جان بھی لے سکتی ہے کسی کی عزت بھی خاک میں ملا سکتی ہے اور کسی کا کاروبار اور کیرئر بھی تباہ ہوسکتا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے ہاں قوانین کو اس کی تشریح کرنے والی اپنی پسند، مرضی اور فائدے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے قانون کو بھی ذاتی مفادات کے لئے استعمال کئے جانے کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا ہے۔ سیاسی جماعتوں اور دیگر اداروں کو پیکا قانون کی مخالفت کے بجائے اس کے ممکنہ غلط استعمال کو روکنے کی تدبیر کرنی چاہئے۔ہمارا بنیادی مسئلہ قانون سازی نہیں، بلکہ مروجہ قوانین پر عمل درآمد کا فقدان ہے۔ دھوکے بازی، فراڈ، جعل سازی، ملاوٹ، ذخیرہ اندوزی، گرانفروشی، بلیک میلنگ اور بلیک مارکیٹنگ کے خلاف قوانین موجود ہیں لیکن ان پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے یہ معاشرتی برائیاں اتنی پھیل گئی ہیں کہ ان کے تدارک کی کوئی سبیل نظر نہیں آتی۔ ریاست کو پارلیمنٹ میں نئی نئی قانون سازی اور آرڈیننسوں کے اجراء کے بجائے مروجہ قوانین پر ان کی روح کے مطابق عمل درآمد کے لئے کوئی لائحہ عمل اختیار کرنا چاہئے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔