حسن اور امیون سسٹم کا باہمی تعلق…محمد شریف شکیب

امریکی سائنسدانوں نے انکشاف کیا ہے کہ ظاہری طور پر خوبصورت اور پرکشش نظر آنے والے لوگوں میں بیماریوں سے بچانے والا قدرتی نظام (امیون سسٹم)بھی مضبوط ہوتا ہے۔ٹیکساس کرسچن یونیورسٹی میں 159 رضاکار طالب علموں کی مدد سے کی گئی تحقیق سے معلوم ہوا کہ جن چہروں کو لوگوں کی اکثریت نے خوبصورت اور پرکشش قرار دیا تھا، ان رضاکاروں کا امیون سسٹم بھی دوسروں سے زیادہ بہتر نکلا۔اس تحقیق سے خوبصورت چہروں اور مضبوط امیون سسٹم کے مابین واضح تعلق سامنے آیا ہے۔یہ بات ذہن نشین کرنے کی ضرورت ہے کہ امیون سسٹم صرف فطری حسن رکھنے والوں کا مضبوط ہوتا ہے مصنوعی طریقے اور سولہ سنگھار کے ذریعے خوبصورت نظر آنے والوں نے اصلی چہرے پر نقلی چہرہ سجایاہوتا ہے ان کا امیون سسٹم دیگرعام لوگوں کی نسبت کمزور ہوتا ہے انہیں ہر وقت یہ دھڑکا لگا رہتا ہے کہ ان کا پول کہیں کھل نہ جائے۔ خوبصورت اور پرکشش نظر آنا ہر ذی ہوش مرد و زن کی دلی خواہش ہوتی ہے اس فطری خواہش کے پس پردہ بہت سے مقاصد ہوتے ہیں جن میں کچھ مذموم اور کچھ غیر مذموم مقاصد شامل ہیں۔شادی سے پہلے جاذب نظر آنے کا بنیادی مقصد صنف مخالف کو دام الفت میں پھنسانا ہوتا ہے۔ اور شادی کے بعد پرکشش نظر آتے رہنے کی شدید خواہش کے پس منظر میں ایک لمبی اور دردناک کہانی ہوتی ہے۔ کچھ لوگ اپنی اندرونی خلفشار کو چھپانے کے لئے ہونٹوں پر مصنوعی مسکراہٹ سجاکر دلکش دکھائی دینے کی کوشش کرتے ہیں۔کچھ لوگ اپنے جیون ساتھی کی لاج رکھنے کے لئے خود کو سنوارتے ہیں تاکہ کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ کون کم بخت اس کے پالے پڑگیا کہ اس کی عادات و اطوار کے ساتھ صورت بھی بدل گئی۔دنیا والے انسان کی داخلی خصوصیات میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔ وہ ظاہری صورت کو دیکھ کر اس کے بارے میں رائے قائم کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عام لوگ بالعموم اور خواتین بالخصوص ظاہری طور پر پرکشش اور خوبصورت نظر آنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگادیتی ہیں۔سرکے بالوں سے لے کر پاؤں کے ناخن تک سب کچھ تبدیل کرنے اور کچھ مختلف دکھائی دینے کے جنون میں مبتلا ہوتی ہیں ایسی ہی خواتین کے بارے میں شاعر نے کہا تھا کہ”ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ۔ دھوکہ دیتے ہیں یہ بازی گر کھلا“۔یہاں ایک نئی الجھن پیدا ہوگئی ہے۔انسان خود کو سجاتا سنوارتا اس لئے ہے کہ کوئی اس کی تعریف کرے۔ خاص طور پر خواتین تعریفیں سمیٹنے کی بہت خواہش مند ہوتی ہیں۔کوئی اگر کسی کا دل رکھنے کے لئے بھی کہے کہ آج تو آپ قیامت ڈھارہی ہیں بہت خوبصورت لگتی ہیں۔ یہ الفاظ کانوں میں رس گھولتی ہوئی دل میں اتر جاتے ہیں اور انسان اتنا مدہوش ہوتا ہے کہ اسے کچھ کھانے پینے کا بھی ہوش نہیں رہتا۔ حال ہی میں وفاقی محتسب برائے ہراسیت نے یہ فرمان جاری کرکے لوگوں کو مخمصے میں ڈال دیا ہے کہ کسی غیر خاتون کو چھونا، گھورنا، گڈمارننگ کہنا اور سلام کرنا بھی ہراساں کرنے کے زمرے میں آتا ہے جو قابل دست اندازی پولیس جرم ہے۔ ابھی تک اس بیان کے خلاف خواتین کی تنظیموں کی طرف سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم وہ اس وسوسے کا شکار ضرور ہوئی ہیں کہ اگر کوئی پکڑے جانے کے خوف سے ان کی طرف مائل ہی نہیں ہوتا۔ تو پھر بناؤ سنگھار کا کیا فائدہ ہے۔ اگر یہی رجحان پروان چڑھتا رہا تو کم از کم ہمارے ملک میں کاسمیٹکس کی دکانیں اور بیوٹی پالرزبند ہوجائیں گی۔شادی بیاہ اور دیگر تقریبات میں نئے جوڑے پہن کر اور سولہ سنگھار کرکے جانے کی روایت بھی دم توڑ دے گی۔اگرچہ ایسی روایت کے بے شمار معاشی فوائد ہیں لیکن دنیا کا حسن ماند پڑجائے تو دولت بچا کر اس کا اچار تو نہیں ڈالنا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔