وزیراعلی محمود خان کا صوبے میں سی این جی اسٹیشنز کو ہفتے میں مزید دو دن کھلے رکھنے کے احکامات جاری

پشاور(چترال ایکسپریس)وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے گیس کی کمی کے باعث سی این جی اسٹیشنز کی بندش کی وجہ سے سی این جی صارفین اور اس صنعت سے وابستہ لوگوں کی مشکلات کے پیش نظر صوبے میں سی این جی اسٹیشنز کو ہفتے میں مزید دو دن کھلے رکھنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ اب صوبے میں سی این جی اسٹیشنز ہفتے میں تین کی بجائے پانچ دن کھلے رہیں گے۔وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو اگلے 15 دنوں کے بعد سی این جی اسٹیشنزکوہفتہ بھر24 گھنٹے کھلا رکھنے کے احکامات بھی جاری کئے ہیں۔
یہ احکامات انہوں نے منگل کے روز سی این جی ایسو سی ایشن خیبرپختونخوا کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران جاری کئے جس نے ایسوسی ایشن کے صدر فضل مقیم خان کی سربراہی میں ان سے ملاقات کی اور سی این جی اسٹیشنز کی جزوی بندش کی وجہ سے صارفین اور اس صنعت سے وابستہ لوگوں کو درپیش مشکلات سے انہیں آگاہ کیا اور سی این جی اسٹیشنز کو ہفتے میں تین کی بجائے پانچ دن کھلا رکھنے کی استدعا کی ۔ جسے منظور کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ضروری اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی۔ وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی بیرسٹر محمد علی سیف ، ممبران صوبائی اسمبلی ارباب جہانداد خان اور آصف خان کے علاوہ کمشنر پشاور ریاض محسود اور ایس این جی پی ایل کے متعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔
وفد سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ سی این جی اسٹیشنز کی بندش کی وجہ سے صارفین اور اس صنعت سے وابستہ لوگوں کو درپیش مشکلات کا بھر پور احساس ہے، سی این جی اسٹیشنز پر رش کی وجہ سے ٹریفک جام روزانہ کا معمول بن گیا ہے جس سے عام آدمی کی مشکلات میں مزید اضافہ ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہر شعبے میں عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھار ہی ہے، سی این جی اسٹیشنز کو کھولنے سے اس کاروبار سے بالواسطہ اور بلا واسطہ منسلک لاکھوں لوگوں کی مشکلات میں کمی آئے گی اور وہ بغیر کسی تکلیف کے اپنی روزی روٹی کما سکیں گے۔
وفد نے ان کے مسائل سننے کے لئے وقت دینے اور مسائل کے حل کے لئے موقع پر ہی احکامات جاری کرنے پر وزیراعلیٰ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔