فکروخیال ۔.۔بلدیاتی انتخابات ۔ کیا یہ بہتر نہ ہوتا؟..فرہاد خان

بلدیاتی انتخابات کا دنگل بج چکا اور اس معرکے کے لئے چترال بھر سے ہزارون امیدوار میدان کارزار میں کودنے والے ہیں ۔ہمیشہ کی طرح اس معرکہ ارائی میں قوم قبیلے ،مذھب ،فرقہ، رنگ و نسل اور دیگر معاشرتی تفرقات کا کانٹے دار مقابلہ ہونےکو ہے۔رشتہ داریون میں دراڑین پڑے کو ہیں،قوم قبلیون کی ایک دوسرے سے زورازمائی کا منظر بھی قریب ہے اور،مذھب و فرقے کی بنیاد پر ووٹ مانگنے کا تازہ منظرنامہ بھی دروازے پر دستک دے رہا ہے۔ اسی پس منظر کو دیکھتے ہوئے اور ماضی کے تلخ تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا یہی اچھا نہ ہوتا کہ کم از کم ویلیج کونسل سطح پر پارٹی ، قوم قبیلے رنگ و نسل اور مذھب سے بالاتر ہوکر اپس میں مل بیٹھ کر سب سے بہترین لوگون کا بلامقابلہ انتخاب کیا جاتا۔اگر کوئی فرد خدمت کے جذبے سے سرشار ہے نڈر ہے بیباک ہے اور قومی خدمت کو عین عبادت سمجھتا ہے تو ان سب کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے ان کی صلاحیتون ،قابلیت و دیگر عوامل کا جائزہ لے کر بہتر سے بہتر اور قابل سے قابل ترین کو موقع دیا جاتا اور سارے قوم اس پر یکجا و مقفق ہوجاتے تو نہ ایسے انتخانی جھنجھٹ کی بوبت آتی اور نہ درج بالا مسائل پیش آتے ۔قوم قبیلے ایک نکتے پر متفق ہوتے اور پرامن طریقے سے اس جھنجھٹ کا حل نکل آتا مگر نہیں ، کسی نے ایسا نہیں سوچا اور نہ کسی نے ایسی تجویز دی۔ یہان سب اپنی اپنی انا کے چکرون میں پڑے ہوئے ہیں اور عوام کے مقدر میں محض خواری لکھا ہوا ہوتا ہے۔ عقل اور سمجھداری کی بات ہوتی تو کوئی تو آگے آتا،پہل کرتا۔ مگر یہان تو ایک علاقے کی بات کون کرے یہان تو دیہات در دیہات لوگ بٹے ہوئے ہیں اور گلی در گلی مٹینگز ہورہے ہیں .ہم سے اپنا ایک گاون سنھبالا نہیں جارہا اور ہمارے اتفاق و اتحاد کا عالم یہ ہے کہ ہر گاون سے تین سے چار امیدوار انتخابی دنگل میں اترگئے ہیں اور ہر ایک امیدوار اس معرکے کو سر کرنے کا خواب دیکھ رہا ہے۔لھذا اجتمائی اتحاد و اتفاق کی بات کرے کون ؟ ۔ہم دو تین پڑوسی دیہات والے ایک نکتے پر متفق نہین ہوسکتے اور باتین ملکی اتحادو اتفاق کی کرتے ہیں ۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اگر کسی بھی پارٹی کا فرد اہل اور قابل ہے علاقے کی بہتر خدمت میں آگے آرہا ہے تو روایتی قوم قبیلے رنگ و نسل اور علاقہ پرستی و مذھبی تعصب سے ہٹ کر ہمیں اسے علاقے کی بہتر مفاد میں اس کی حمایت کرنی چاہئے تھی۔کم از کم تہ تو ہونا چاہئیے تھا کہ ایک گاون سے یا دو تین دیہات سے متفقہ ایک امیدوار سامنے آتا اور یون امیدوارون کا قطار در قطار سامنے نہ آتا ۔اگر پی۔ٹی۔آئی سے،جماعت اسلامی سے ،جے۔یو۔آئی سے یا پیپلز پارٹی سے خدمت کے جذبے سے سرشار کوئی اہل نوجوان امیدوار ہے اور جنرل سیٹ پر یا کوئی اور سیٹ پر اگے آنا چاہتا ہے تو پارٹی طرفداری سے اگے نکل کر اس کی حمایت کی جاتی اور سب مقفق ہوکر ہر پارٹی سے قابل ترین کو اور اہل ترین کو چُنتے تو عوام ان انتخابی مغزماریون سے بچ جاتے۔ اہل افراد آگے آجاتے اور اس نظام کا حصہ بن جاتے۔ مگر قوم قبیلے رنگ و نسل ,رشتہ داری اور مذھب کے نام پر سیاسی دنگل بج چکا ہے۔ اللہ کرے کہ یہ سیاسی دنگل خیرو عافیت سے یہ گزر جائے۔ دردمندانہ اپیل یہ ہے کہ اس سیاسی سرگرمی کو دل و دماغ پر حاوی کرکے یار دوستی ،رشتہ داری اور مذھبی رواداری پر کوئی آنچ نہ آنے دیں ۔اپنے رشتون کی قدر کرین ۔ انتخابات کا یہ عمل تو عارضی ہے مگر ہمیں پھر اسی علاقے ،انہی دیہات میں اور انہی گلیون اور محلے میں رہنا ہے اور ایک دوسرے سے آمنا سامنا ہونا ہے ۔اسلام امن کا مذھب ہے اور امن و سکون ،رواداری،اتحاد و اتفاق سے رہنے کی تلقین کرتا ہے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی یہی فرمان ہے لہذا بےجا کے انتشار،بدآمنی،نفاق اور دوسرے غیراسلامی امور سے اجتناب کرکے ایک دوسرے کی قدر کرین اور کوشش یہ کرین کہ جو بھی امیدوار چنا جائے وہ اس عہدے کا اہل ہو ۔ معاشرے کی بہتری و بھلائی اسی میں ہے کہ ہم اہل سے اہل ترین کا انتخاب کرین جو ہماری اجتمائی ترقی کے لئے سودمند ثابت ہو۔ اگر اس بار بھی ہم قوم قبیلے،رنگ و نسل اور مذھب کی بنیاد پر تقسیم ہونگے تو ہم مذید منتشر ہونگے اور ہمارا اتحاد و اتفاق پارہ پارہ ہوجائیگا ہمارے رشتے کمزرو ہونگے اور ہم مذید بکھرتے جائیں گے۔باخبر زرائع کے مطابق تازہ ترین خبر یہ ہے کہ وی۔سی مردان موغ نے متفقہ طور پر تین بہترین نوجوانون کو بحیثیت جنرل کونسلر بلامقابلہ منتخب کرنے کا سوچا ہے .سجاد پرتوی اعلی تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ ملکی و علاقائی سیاست کا بہترین ادراک رکھتے ہیں ۔عبداللہ خان چترال سکاوٹس کے ایجوکیشن کیڈر سے حال ہی میں ریٹائرڈ ہوئے ہیں اور قومی خدمت کا عزم لئے سیاست میں قدم رکھ رہے ہیں جبکہ انور صاحب بھی سماجی کاموں کے سلسلے میں ایک مقام رکھتے ہیں اور ایل ڈی ایف فورم سے گزشتہ سال بہترین خدمات انجام دے چکے ہیں۔اگر واقعی میں ایسا کیا جاتا ہے تو یہ وی سی مردان ایریا والوں کا احسن اقدام ہے۔ امید کرتے ہین کہ دیگر وی سی والے بھی اسی طرح کے عقلی فیصلے کرنے کی ہمت کرین گے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔