چترال میں جمیعت علمائے اسلام اور مسلم لیگ ن کا اتحاد: صاحب کو “سیٹ” نہ دینے پہ کتنا غرور تھا۔۔محمدنبی چترالی

 کئی ماہ تک چترال میں جے یو آئی اور جماعت اسلامی کے درمیان سیٹ ایڈجسمنٹ پر بات چلتی رہی مگر کسی خاطر خواہ نتیجے تک نہ پہنچ سکے۔ ایسے میں جے یو آئی کی صوبائی قیادت نے تحصیل نظامت کے کے لیے اپنے اپنے امیدواروں کو ٹکٹ جاری کر دیے۔ تحصیل دروش کے لیے شیر محمد کو چنا گیا۔ جب جے یو آئی اور جے آئی کے درمیان مزاکرات ناکام ہوئے تو جھٹ سے جے یو آئی نے مسلم لیگ ن سے اتحاد کر لیا اور یہ شادی ہو بھی گئی۔ جے یو آئی کو چترال کی سیٹ ملی اور دروش مسلم لیگ ن کے حصے میں آیا۔ بڑے گھر والوں نے جس لڑکے کے گلے میں ہار ڈالا تھا، اتار کر مسلم لیگ ن کے شہزادہ شوکت کو پہنا دیا۔ مگر دولہے کے انتخاب پر جلد ہی ایک نیا پھڈا کھل گیا۔ جے یو آئی دروش نے ضلعی نظم کے فیصلے کو مسترد کیا اور اسی لڑکے پر اصرار کیا جس کو بڑے گھر والوں نے چنا تھا۔ جے یو آئی دروش نے جماعت اسلامی کے اشتراک سے شیر محمد کو آزاد امیدوار کے طور پر سامنے لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یوں چترال میں جمعیت کے دو دھڑلے ہوگئے اور باراتی گروہوں میں بٹ گئے۔ یہ نئی ڈیویلپمنٹ ایسی نہ تھی جو چشمِ زدن میں رو نما ہوئی۔ جے یو آئی دروش کا شروع دن سے یہ اصرار تھا کہ دروش کی سیٹ جمیعت کو دی جائے۔ وہ اس پر کیوں مصر تھے؟ کئی وجوہات ہو سکتی ہیں مگر سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ تحصیل دروش میں جمیعت کا ووٹ بینک ہے اور وہ اپنے نمائندے کو کامیابی سے ہم کنار کرنے کی استطاعت رکھتے ہیں۔ اس کے برعکس چترال میں جماعت اسلامی کافی مضبوط ہے اور جمعیت کی سانسیں اکھڑی ہوئی ہیں۔ جماعت کا دروش میں ووٹ بینک کافی کم ہے۔ ذرائع کے مطابق جب سے جے آئی اور جے یو آئی کے مابین سیٹ ایڈجسمنٹ کی بات شروع ہوئی تھی، اس وقت سے جے یو آئی دروش کی طرف سے اپنے ضلعی نظم سے مسلسل اور پر زور مطالبہ چلا آرہا تھا کہ “اس بار چترال تحصیل جماعت اسلامی کو دیکر دروش کی سیٹ لی جائے”۔ مگر امیر جے یو آئی چترال کی سیٹ سوائے اپنے آپ کے، کسی کو دینے پر راضی نہ تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ جماعت اسلامی سے اتحاد نہ ہونے کی واحد وجہ تحصیل چترال کی سیٹ پر کمپرومائز نہ ہونا تھا۔ ہم نے جماعت اسلامی کے اندرونی حلقوں سے رابطہ کرکے یہ پوچھنے کی کوشش کی کہ “اتحاد کو بچانے کی خاطر چترال کے بجائے آپ دروش کی سیٹ پر قناعت کرتے تو کیا یہ بہتر نہ تھا؟” ان کا کہنا تھا کہ “ہمیں معلوم تھا کہ اس بار جے یو آئی دروش کے ذمہ داراں اس پر راضی نہیں ہوں گے، اور وہ اس معاملے میں اس قدر جذباتی اور غیر معمولی سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نظر آ رہے تھے کہ اگر جماعت اسلامی بھی جے یو آئی چترال کی بات مان کر تحصیل دروش لینے پر راضی ہوتی، تب بھی جے یو آئی دروش کے ذمہ داران نے ہمارے امیدوار کے خلاف میدان میں آنا تھا، ایسے میں ہمیں اتحاد کا کچھ فایدہ نہ ہوتا۔ جیسے اب مسلم لیگ ن کو نہیں ہو رہا۔” پارٹی موقف کے برخلاف، یہ تجزیہ بھی کیا جا سکتا ہے کہ جماعت کا اصل گھڑ چترال ہے اور دروش میں ووٹ بینک نہ ہونے کے برابر ہے۔ ایسے میں وہ چترال کی سیٹ جے یو آئی کو سونپ کر خود ایک بنجر زمین کا رخ کیوں کرتے۔ اس ساری رسہ کشی میں جے یو آئی کے ضلعی نظم کی ناعاقبت اندیشی پر حیرت ہے۔ جے یو آئی دروش کے اپنے ہی ساتھیوں کی یہ غیر معمولی سنجیدگی اور ان کا اٹل فیصلہ جے یو آئی کے ضلعی ذمہ داراں کی سمجھ میں کیوں کر نہ آیا؟ اگر معاملہ اس قدر سنجیدہ تھا تو انھوں نے اسے درخور اعتنا کیوں نہ سمجھا؟ اگر وہ حالات کی نزاکت اور ساتھیوں کے مطالبے کو اہمیت دیتے ہوئے تحصیل چترال جماعت اسلامی کو دینے پر راضی ہوتے تو یقینا مذہبی جماعتوں کا اتحاد بھی برقرار رہتا اور دروش میں اپنے ہی ساتھیوں کی طرف سے بغاوت کی خفت بھی اٹھانی نہ پڑتی۔ مگر اس کی دو بڑی ممکنہ وجوہات ہو سکتی ہیں۔ پہلی یہ کہ امیر جے یو آئی ہر صورت میں چترال کی سیٹ اپنے لیے رکھنا چاہتا تھا۔ دوسری وجہ آگے چل کر واضح ہوگی۔ سیٹ ایڈجسمنٹ کے حوالے سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ جماعت اسلامی کی طرف سے یہ فارمولا پیش کیا گیا تھا کہ چترال اور مستوج ایک جماعت کو جبکہ موڑکہو اور دروش کی تحصیلیں دوسری کو ملنی چاہئیں۔ یہ بظاہر نہایت معقول فارمولا تھا، مگر اس پر بھی بات نہ بن سکی۔ یہ بھی سنئے کہ اس عجیب و غریب اتحاد سے مسلم لیگ ن نے کیا پایا؟ خاک پایا۔ سیٹ ایڈجسمنٹ کے معاہدہ کی رو سے نون لیگ کی طرف سے چترال تحصیل میں امیدوار ہی کوئی نہیں، جبکہ دروش میں جے یو آئی والے ان کے نامزد امیدوار کے خلاف اپنا “شیر” میدان میں اتار چکے ہیں۔ ہار دوبارہ پہنا کر الیکشن مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ نون لیگ اور جے یو آئی کے اس اتحاد کی وجہ سے علاقہ کوہ میں عبدالولی خان ایڈوکیٹ میدان خالی چھوڑ گئے ہیں، جس کا براہ راست فائدہ جے یو آئی کے امیدوار کو ہوگا، جبکہ نون لیگ کا دامن دونوں تحصیلوں کے ثمرات سمیٹنے سے مکمل خالی رہے گا۔ سچ پوچھیے تو نون لیگ کے ساتھ اس معاملے میں بڑی نا انصافی ہوئی۔ جے آئی اور جے یو آئی سیٹ ایڈجسمنٹ نہ ہونے اور دروش میں خالد پرویز جیسے زیرک اور سیاست گری کے ماسٹر مائنڈ کے مقابلے میں نون لیگ کے ایک غیر معروف امیدوار کو سامنے لانے کی کوشش انتخابی سیاست کے ساتھ ایک بھونڈا مذاق ہی ہے۔ ایسے میں بعض لوگوں کے اس اعتراض میں بھی کافی وزن نظر آ رہا ہے کہ دروش میں جمیعت مضبوط ہونے اور اس پرزور اپیل کے باجود جمیعت کا نمایندہ نہ لانے کے پیچھے اصل کہانی کچھ اور ہے۔ کچھ روز پہلے حاجی مغفرت شاہ نے اشارے کنایوں میں “ایک خاندان کو نوازنے” کا تذکرہ کیا تھا۔ یہی دوسری وجہ سمجھ لیجیے۔ یہی وجہ ہے تحصیل دروش سے جے یو آئی کے چوٹی کے ذمہ داراں اپنی ہی جماعت سے بغاوت کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ کل جو مولانا عبد الرحمان نے پریس کانفرنس کی، اس میں زیادہ تر کلین شیو تھے۔ علماء بہت کم اور دروش سے تعلق رکھنے والا ایک ہی کوئی قاری ٹائپ چیز نظر آئی۔ اس کے برعکس جماعت کے اتحاد کے بعد جو تصویریں آئیں یہی وجہ ہے تحصیل دروش سے جے یو آئی کے چوٹی کے ذمہ داراں اپنی ہی جماعت سے بغاوت کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ کل جو مولانا عبد الرحمان نے پریس کانفرنس کی، اس میں زیادہ تر کلین شیو تھے۔ علماء بہت کم اور دروش سے تعلق رکھنے والا ایک ہی کوئی قاری ٹائپ چیز نظر آئی۔ اس کے برعکس جماعت کے اتحاد کے بعد جو تصویریں آئیں یا تقریریں ہوئیں، ان میں اکثریت علماء کی ہے۔ اڑتی سی خبر یہ بھی ہے کہ پی ٹی آئی اور جے یو آئی دروش کے درمیان ایک خاموش اتحاد طے پایا جا رہا ہے۔ عین ممکن ہے حاجی سلطان حاجی شیر محمد کے حق میں دستبردار ہو جائیں۔ مغفرت شاہ صاحب ایک اچھے بادشاہ گر ہیں۔ ان سے بہتر مقامی سیاست کو کون جانتا ہے۔ ان کی زیر پرستی جے یو آئی دروش کا نمائندہ کافی بہتر پوزیشن میں نظر آ رہا ہے۔ پھر مذہبی اور قومی ووٹ بینک بھی ہے۔۔۔ مگر دوسری طرف شہزادہ خالد پرویز کو بھی ہلکا نہیں لیا جا سکتا۔ وہ بھی سیاسی بازی گر ہیں اور بڑی سوچی سلجھی چالیں چلتے ہیں۔ ووٹ بینک کے علاؤہ وہ جوڑ توڑ کی سیاست اور بیک ڈور ڈپلومیسی کے بھی ماہر ہیں۔ وقت کافی ہے۔ ابھی سے کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔ گیم آن ہے۔ آگے آگے دیکھئے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔