چترال میں مائن اینڈ منرل بلاکس کی دوبارہ بحالی چترالی عوام کے ساتھ ظلم کے مترادف ہے،سرتاج احمد خان

لاکس ختم کرنے کے جلد فیڈریشن آف پاکستان صوبائی حکومت سے رابطہ کرے گی

پشاور(چترال ایکسپریس) چترال میں مائن اینڈ منرل بلاکس کی دوبارہ بحالی چترالی عوام کے ساتھ ظلم کے مترادف ہے ، بلاکس ختم کرنے کے جلد فیڈریشن آف پاکستان صوبائی حکومت سے رابطہ کرے گی اور تمام متعلقہ فورم پربلاکس ختم کرنے کے لئے آواز اٹھائے گی۔سرتا ج احمد خان
ان خیالات کا اظہار ایف پی سی سی آئی خیبرپختونخوا کے کوآرڈینیٹرسرتاج احمد خان نے چترال چیمبرآ ف کامرس کے سابقہ سینئر نائب صدر سردارولی، ایگزیکٹیو ممبر حاجی محمد فضل اور عتیق احمد پر مشتمل وفد سے منعقدہ اجلاس میں کیا ۔ وفد نے چترال میں دوبارہ مائن اینڈ منرل بلاکس بحالی پر چترالی بزنس کمیونٹی کے تخفظات سے فیڈریشن آف پاکستان کو آگاہ کیا۔ سرتاج احمد خان نے کہاکہ بلاکس ختم کرنے کے بعد مقامی لوگوں کو روزگاربھی میسر ہوگیاتھا، اس حوالہ سے کروڑوں روپے سے زیادہ ریونیوصوبائی حکومت کو جمع ہورہی ہے لیکن اب مائن اینڈ منرل اتھارٹی نے چترال میں دوبارہ مائن بلاکس بحال کردی ہے جو مائن اینڈ منرل ترقی کی بجائے نقصان کا سبب بن رہا ہے اور صوبائی حکومت کے آمدنی پر بھی کٹ لگنے کا باعث بن رہا ہے، یاد رہے کہ فیڈریشن آ ف پاکستان کے مطالبے پر صوبائی حکومت نے چترال میں مائن اینڈ منرل بلاکس ختم کردی تھی، صوبائی حکومت فوری طور پر چترال مائن بلاکس ختم کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کرے۔کو آرڈینیٹر سرتاج احمد خان نے معاملہ صوبائی حکومت اور مائن اینڈ منرل ارتھارٹی کے ساتھ اٹھانے کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ جلد وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا، وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے معدنیات اور مائن اینڈ منرل اتھارٹی کے ساتھ چترال میں معدنیات بلاکس ختم کرنے کے لئے اجلاس منعقد کرینگے ۔ انہوں نے کہاکہ چترال چیمبراور بزنس کمیونٹی کے مسائل حل کرنے کے لئے صوبائی حکومت فوری طور پر بلاکس بحالی کے فیصلے پر نظرثانی کرے ۔ انہوں نے کہاکہ چترال میں مائن اینڈ منرل بلاکس پہلے جوبنا دی گئی توان آٹھ سالوں میں چترال معدنیات سیکٹر زوال پذیر ہوگیا تھا اور اب دوبارہ بحالی سے مزید زوال پذیر ہونے کا خدشہ ہے اور صوبائی حکومت ومنرل اتھارٹی چترال مائن اینڈ منرل بلاکس ختم کرے۔ آخر میں سرتاج احمد خان نے چترال کی بزنس کمیونٹی کی بہترین خدمت کرنے پر فیڈریشن آ ف پاکستان کی جانب سے سردارولی کو شیلڈ پیش کردی۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔