کم عمری کی شادی ایک لمحہ فکریہ…محمد شریف شکیب

اسلام آباد ہائی کورٹ نے اٹھارہ سال سے کم عمرمیں شادی کو غیر قانونی معاہدہ قرار دیا ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس بابر ستار کی عدالت نے ایک مقدمہ کی سماعت کے بعد تحریری فیصلے میں قرار دیا کہ ملک میں رائج عائلی قوانین اور مسلم فیملی لاز کے تحت بلوغت کی عمر اٹھارہ سال مقرر ہے۔ اس سے کم عمر میں لڑکے یا لڑکی کی شادی کرانا شریعت اور ملکی قوانین کے منافی ہے۔ خواہ یہ شادی لڑکے اور لڑکی کی باہمی رضامندی یا والدین کے ذریعے ہی کیوں نہ طے ہوئی ہو۔ عدالت نے قرار دیا کہ کم عمر لڑکی مرضی سے آزادنہ شادی بھی نہیں کرسکتی جب کہ ورثاء بھی جسمانی تعلق والا کوئی معاہدہ نہیں کراسکتے، محض جسمانی تبدیلیوں پرمقررہ عمر سے پہلے قانونی طور پر بلوغت تسلیم نہیں کی جاسکتی۔عدالت نے مسلم فیملی لاز آرڈیننس میں شادی کی عمر کی وضاحت نہ ہونے کا معاملہ کابینہ ڈویژن اور پارلیمنٹ کے سامنے رکھنے کی ہدایت دی۔مشرقی معاشرے میں شادی کرنا محض ایک رسم کی تکمیل نہیں بلکہ خاندانوں کے درمیان تعلق کا ایک معاہدہ ہوتا ہے۔جس میں والدین یا سرپرست دونوں اطراف سے لڑکی اور لڑکے کے خاندانی پس منظر، سماجی حیثیت، تعلیم، روزگار اور شکل و صورت کے حوالے سے جانچ پڑتال کے بعد کسی نتیجے پر پہنچتے ہیں۔جسے ایریجنڈ میرج کا نام دیا جاتا ہے۔ موجودہ دور میں شادی بیاہ کی رسومات، لوازمات اور طریقے کافی بدل چکے ہیں۔ اور بہت سی ایسی رسومات بھی شادی بیاہ کے لوازمات بنائے گئے ہیں جن کی ہماری تاریخ، اقدار، تمدن اور اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔یہ رسومات دیگر اقوام کی تقلید میں شروع کی گئی ہیں اور اسے سٹیٹس سمبل بنایاگیا ہے۔جن میں لڑکی والوں سے جہیز کا مطالبہ بھی شامل ہے۔ متوسط اور غریب طبقے سے تعلق رکھنے والی بچیوں کی عمر جہیز کا خاطر خواہ بندوبست نہ ہونے یا لڑکے والوں کے مطالبات پورے نہ کرنے کی وجہ سے ڈھل جاتی ہے اور وہ ہاتھ پیلے ہونے کے ارمان کا خون ہوتے دیکھ کر بوڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھتی ہیں۔ وٹے سٹے کی شادی، کاروکاری اور قرآن سے بیاہ بھی ہمارے معاشرے کی وہ رسومات ہیں جن کی وجہ سے سینکڑوں ہزاروں بچیوں کی زندگی خراب ہوجاتی ہے۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے بعض علاقوں میں غگ کی شادی کی قبیح رسم بھی صدیوں سے رائج ہے جس کے تحت کسی لڑکی کے گھر کے باہر آکر آواز دی جاتی ہے کہ اس گھر میں فلاں نام کی لڑکی ہماری ہوگئی۔اس کی کسی دوسرے سے شادی نہ کی جائے۔ یہ منادی کرکے لوگ رفوچکر ہوجاتے ہیں اپنی مرضی اور سہولت کے مطابق برسوں بعد بارات لے کر پہنچ جاتے ہیں اور کسی معصوم بچی کوکسی انجانے بوڑھے کے پلے باندھ دیا جاتا ہے۔اگر لڑکی کے گھر والے اس کی شادی غگ کے باوجود کسی دوسری جگہ طے کرلیں تو خاندانوں کے درمیان دشمنیاں شروع ہوتی ہیں اور کئی جانیں ان دشمنیوں کی بھینٹ چڑھ جاتی ہیں۔کم عمری کی شادیاں عموماً والدین کی مرضی یا معاشرے کے دباؤ کے تحت طے کی جاتی ہیں۔ جس کی وجہ سے لڑکیوں کو مختلف معاشرتی مسائل کے ساتھ صحت سے متعلق مشکلات اور پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔موجودہ دور میں والدین اور سرپرستوں کی رضامندی کے بغیر پسند کی شادیوں سے بھی سنگین نوعیت کے معاشرتی مسائل پیدا ہورہے ہیں۔ لڑکی اور لڑکے والے دونوں پسند کی شادی کو قبول نہیں کرتے۔۔عدالت عالیہ نے اپنے فیصلے میں معاشرے کے ایک سنگین مسئلے کی نشاندہی کی ہے۔ معاشرتی برائیوں سے بچنے، قتل و مقاتلے کے جرائم میں کمی اور بڑھتی ہوئی آبادی پر کنٹرول کے لئے ملکی قوانین اور اسلامی تعلیمات پر عمل درآمد ناگزیر ہے اس سلسلے میں عدلیہ کے ساتھ انتظامیہ، مقننہ اور میڈیا کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔