چترالی خواتین کے لیے حقیقی رول ماڈل۔ نگہت اکبر شاہ۔۔۔۔تحریر ؛ شجاعت علی بہادر

جہاں سرزمین چترال کو اپنی خوبصورتی اور امن کے لحاظ پاکستان سمیت دنیا بھر میں ایک منفرد مقام حاصل ہے وہیں چترال کئی باصلاحیت ، محنتی اور قابل بیٹیوں کو جنم دینے میں بھی کئی بڑے بڑے شہروں سے بھی آگے ہے ۔ لیکن بدقسمتی سے وسائل کی کمی اور حکومت کی عدم توجہ کیوجہ سے ہماری یہ قابل بیٹیاں وہ سنگ میل عبور نہیں کر پارہی ہیں جو پاکستان کے دوسرے علاقوں کی بیٹیاں حاصل کر پاتی ہیں۔حالانکہ قابلیت اور محنت کی کوئی کمی نہیں صرف وسائل کی کمی آڑے آ جاتی ہیں۔

خواتین کے عالمی دن کے مناسبت سے چترال کی بیٹیوں کی بات ہو رہی ہواور نگہت اکبر شاہ صاحبہ کا ذکر نہ کی جائے تو نا انصافی ہوگی۔

کئی سال پہلے چترال سے امریکہ میں جاکر رہنے والی محترمہ نگہت شاہ کو حقیقی دختر چترال یا حقیقی رول ماڈل کا نام دیا جائے تو بے جا نہ ہوگا کیونکہ سات سمندر پار جا کر معاشی طور پر مستحکم ہونے کے بعد محترمہ اپنے جائے پیدائش کی پسماندگی اور یہاں کے لوگوں کی کسمپرسی کو بھول نہیں گئیں۔ جب بھی موقع ملتا ہے وہ یہاں کے لوگوں کی بڑھ چڑھ کر خدمت کرنے میں پیش پیش ہوتی ہیں۔ کرونا وبا کے عروج میں چترال بھر میں مستحقین کےلئے راشن کی فراہمی میں پیش پیش رہیں، گردے کے مرض میں مبتلا اپنے چترالی بہن بھائیوں کےلئے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال میں ڈائیلاسز کے جدید مشینیں نصب کروائی جس سے مستفید ہوتے ہوئے مریض اب کو ان دعائیں دے رہے ہیں۔ خودکشی کے حوالے سے ان کی آگاہی مہم کو دنیا بھر میں سراہا گیا۔ چترال میں بریسٹ کینسر کے حوالے سے آگاہی اور تشخیص کےلئے کینسر کیئر ہسپتال لاہور کے ماہرین کی زیر نگرانی چترال کے طول و عرض میں کیمپس کا انعقاد ان کی خدمات میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ الخدمت فاؤنڈیشن لوئر چترال کے ایمبولینس سروس کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کےلئے ایمبولینس گاڑیوں کی جدید خطوط پر مرمت کروا کر ان کے حوالے کر دیے۔
دور جدید میں ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے نیشنل انکیوبیشن سنٹر کی باہمی اشتراک سے چترال یونیورسٹی میں ڈیجیٹل مارکیٹنگ تین مہینے کی ٹریننگ میں کروائی۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔