وزیراعظم ریلیف پیکیج…محمدشریف شکیب

وزیراعظم عمران خان نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 10روپے فی لیٹر اور بجلی کی قیمت میں پانچ روپے فی یونٹ کمی کا اعلان کیا ہے اور اگلے بجٹ تک دونوں چیزوں کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی،وزیراعظم نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے کو ٹیکسوں سے مستثنیٰ قرار دینے، بے روزگار تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لئے انٹرن شپ پروگرام اوربیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو سرمایہ کاری پر ٹیکس چھوٹ دینے کا بھی اعلان کر دیا۔وزیر اعظم کا قوم سے خطاب میں کہنا تھا کہ بے روزگارگریجویٹ نوجوانوں کے لیے ماہانہ 30ہزار روپے کے انٹرن شپ پروگرامز لانے کافیصلہ کیاگیا ہے۔ وفاق اور صوبوں میں 26لاکھ نوجوانوں کوتعلیمی وظائف دیئے جائیں گے جس کے لئے38ارب روپے مختص کئے جائیں گے۔ انٹرن شپ اور سکالرشپ پروگرام کے حوالے سے تمام ضروری معلومات وزیراعظم کے پورٹل میں دستیاب ہوں گے۔جس کی نگرانی خود وزیر اعظم آفس کریگااور سارے سکالرشپس میرٹ پردیے جائیں گے پروگرام پر چیک رکھنے کے لیے ماہرین کی کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے۔وزیراعظم نے آئی ٹی سٹارٹ اپ پر کیپٹل گین ٹیکس 100 فیصد ختم کرنے کا اعلان کیا۔ملک بھر میں 80 لاکھ خاندانوں کو احساس پروگرام کے تحت ملنے والی رقم 12 ہزار سے بڑھا کر 14 ہزار روپے کر دی گئی۔ملک میں صنعتیں لگانے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے والوں سے ان کی آمدن کے بارے میں نہیں پوچھا جائے گا۔وزیراعظم کی طرف سے عوام کے لئے مہنگائی سے ریلیف پیکج پر مختلف تبصرے کئے جارہے ہیں۔ کسی نے اسے لانگ مارچ کی کامیابی سے تعبیر کیا ہے کسی کے خیال میں یہ تحریک عدم اعتماد سے بچنے کی کوشش ہے۔ بعض حلقوں کے مطابق اپوزیشن کے احتجاج سے مجبور ہوکر حکومت نے قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک صارف نے واقعہ سنایا کہ نانبائیوں نے بادشاہ کے پاس جاکر روٹی دس روپے کے بجائے پندرہ روپے کرنے کی درخواست کی۔بادشاہ نے روٹی کی قیمت پندرہ کے بجائے تیس روپے کرنے کی اجازت دیدی۔ نانبائیوں کی طرف سے روٹی کی قیمت بڑھانے پر عوام مشتعل ہوگئے۔ ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے۔ بادشاہ نے روٹی کی قیمت تیس کے بجائے پندرہ روپے کرنے کا اعلان کیا۔ لوگوں نے بادشاہ کے حق میں نعرے لگائے اور نانبائی بھی خوش تھے کہ اس نے جو مانگا تھا وہ مل گیا۔جب وزیراعظم بجلی کی قیمت میں پانچ روپے فی یونٹ کمی کا اعلان کررہا تھا اس سے چند گھنٹے قبل نیپرا نے بجلی کی قیمت میں پانچ روپے 95پیسے اضافے کی منظوری دی تھی۔ انہیں شاید 95پیسے ہی اضافہ کرنا تھا۔پانچ روپے پچانوے پیسے میں سے پانچ روپے کا ریلیف نکال دیں تو نیپرا کو مطلوبہ اضافہ مل ہی گیا۔ یوں عوام بھی خوش اور بجلی پیدا کرنے والوں کی بھی موجیں ہوگئیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کورونا کی عالمگیر وباء،تجارتی پابندیوں، یمن کشیدگی اور اب یوکرین کی صورتحال نے پوری دنیا کو ایک بحرانی کیفیت سے دوچار کردیا ہے۔ تیل پیدا کرنے والے دوسرے بڑے ملک عرب امارات میں بھی تیل کی قیمت بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ برطانوی برینٹ خام تیل اور امریکہ ڈبلیو ٹی آئی تیل کی قیمت بھی تاریخ کی بلند ترین سطح پر چھو رہی ہے ایسی صورت حال میں پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں دس روپے فی لیٹر کمی اور جون تک قیمتوں میں کوئی ردوبدل نہ کرنا،26لاکھ نوجوانوں کو تعلیمی وظائف اور گریجویٹس کو انٹرن شپ کے ذریعے روزگار کی فراہمی کا اعلان قومی مفاد میں اہم فیصلے ہیں۔جن کو سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوکر سراہنا چاہئے۔حکومت کی معاشی ٹیم نے قومی معیشت میں بہتری کی نوید سنائی ہے۔توقع ہے کہ آنے والے مہینوں میں مہنگائی سے عوام خصوصاًمتوسط اور غریب طبقے کو ریلیف پہنچانے کے لئے مزید اقدامات کئے جائیں گے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔