ایسو سی ایشن فار اکیڈیمک کوالٹی (آفاق) کے زیر اہتمام ایک روزہ پرنسپل کنونشن کاانعقاد

چترال (چترال ایکسپریس)ایسو سی ایشن فار اکیڈیمک کوالٹی(آفاق) کے زیر اہتمام چترال کے ایک مقامی ہوٹل میں تعلیمی قیادت میں فیصلہ کن قابلیت اوردیگرموضوع پرایک روزہ پرنسپل کنونشن کاانعقادکیاگیا ۔جس میں اپراورلوئرچترال کے پرائیویٹ سکولوں کے پرنسپلز حضرات نے کثیرتعدادمیں شرکت کی۔ آفاق چترال کےسینئر ایریا منیجر ذوالفقار علی خان نے ابتدائی کلمات میں مہمانوں کوخوش آمدیدکہتے ہوئے پروگرام کے اعراض مقاصدپرروشنی ڈالتے ہوئےکہاکہ آفاق کی کاوش بلاشبہ قابل ستائش ہے جو کہ ملک میں معیار تعلیم کی بہتری کے لیے نہایت کارگر ثابت ہوئی ہے۔ایسوسی ایشن فاراکیڈمک کوالٹی آفاق ایک غیر منافع ادارہ ہے جوپاکستان میں تعلیم کوبہتربنانے کے لئے وقف ہے ۔آفاق پاکستان میں شرح خواندگی اورتعلیمی معیارکوبہتربنانے کے لئے ایک باہمی تعاون کے ساتھ کئی سالوں سے کام کررہاہے۔
اس موقع پر آفاق کے سینئرماسٹر ٹرینر فضل الہی اعوان نےکہاکہ سکول کے سربراہ یعنی پرنسپل کو لیڈرشپ کا کردار ادا کرنا ہوگا۔کسی بھی ادارے کا لیڈر ٹھیک ہوگا تو ساری خرابیاں دور ہوجائیں گی۔ تعلیم کے شعبے میں صنعت کار داخل ہوگئے ہیں۔ تعلیم کو پیسہ کمانے کا ذریعہ بنایا جارہا ہے۔ آفاق نے تعلیمی نظام اور تعلیمی نصاب کی بہتری کیلئے جو کام کیا ہے وہ ہم سب کیلئے قابل فخر ہے۔ انہوں نے کہاکہ پرائیویٹ سکول پرنسپلزپلاننگ اور کوالٹی کے ساتھ میدان میں اترنے کی ضرورت ہے اور اسکولوں میں کوالٹی ایجوکیشن کی ضرورت ہے۔ موجودہ دور میں پورا ایجوکیشن سسٹم تبدیل ہوگیا ہے۔انہوں نے کہاکہ اگر پلاننگ کے ساتھ کام نہیں کیا گیا تو اسکول نہیں چلے گا۔ اسکول کا پرنسپل پورے سسٹم کا لیڈر ہوتا ہے، لیڈرشپ نے بہتر نتائج نہیں دیئے تو کوئی ٹاسک مکمل نہیں ہوگا۔ دنیا میں تعلیم کے جو بہترین سسٹم ہیں ہمیں اس کو اپنانا ہوگا اور کوالٹی مینجمنٹ کے ذریعے بہتری لانا ہوگی۔ اسکولوں کے ماحول اور ٹیچر کی تربیت کے ذریعے بہتر نتائج حاصل کئے جاسکتے ہیں۔انہوں نے ویژن اینڈ مشن،سکول لیڈر شپ،ٹیچنگ اینڈ لرننگ،کاری کولم،سکول مانیٹرنگ سسٹم،کمیونٹی لنکس،سکول مینجمنٹ سسٹم اور سکول ایکولوجی پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالی۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔