ایک دل لبھانے والی پیشکش…محمد شریف شکیب

وفاقی وزیرداخلہ نے اپوزیشن کوقبل از وقت انتخابات پر مذاکرات کی پیش کش کی ہے۔ وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ مل بیٹھ کر مسائل حل کرنا ملک، قوم اور سیاسی جماعتوں کے لئے بہتر ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ بات چیت ہونی چاہیے، حالات کا تقاضا بھی یہی ہے۔ جو انتخابات پانچ سال بعد ہونے ہیں وہ ایک سال یا چھ مہینے پہلے بھی ہو سکتے ہیں قبل از وقت انتخابات سے کوئی قیامت نہیں آئے گی۔ وزیرداخلہ نے واضح کیا کہ قبل ازوقت انتخابات کے لئے مذاکرات کی تجویز ان کی ذاتی رائے ہے۔یہ حکومت کی پالیسی نہیں۔اپوزیشن کی بیشتر جماعتوں کا بھی یہی مطالبہ ہے کہ حکومت اسمبلیاں تحلیل کرکے نئے انتخابات کااعلان کرے۔ اس صورتحال پر میرا پسندیدہ مصرعہ ذہن میں گونجنے لگا۔ کسی گمنام سے شاعر نے کیا خوبصورت بات کی ہے۔ کہتے ہیں ”اگر وہ پوچھ لے ہم سے، کہو کس بات کا غم ہے۔۔۔تو پھر کس بات کا غم ہے، اگر وہ پوچھ لے ہم سے“وزیرداخلہ نے تو اپوزیشن کا غم غلط کردیاہے۔مگر آخر میں پرکشش پیش کش کو ’ذاتی تجویز‘ قرار دے کر پھر غم میں مبتلا کردیا۔اپوزیشن کو یقین ہے کہ قبل از وقت انتخابات والی بات حکومت نہیں مانے گی اس لئے انہوں نے عدم اعتماد کا کھیل کھیلنے کی ٹھان لی ہے۔ اپوزیشن کی بڑی پارٹیوں کو تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے زیادہ خوش فہمی نہیں ہے۔ پیپلز پارٹی کی قیادت نے کھل کر اس کا اظہار بھی کیا ہے کہ تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کی سو فیصد ضمانت نہیں دی جاسکتی۔مگر اپوزیشن اتحاد میں شامل بڑوں کا دل رکھنے کے لئے وہ اس غیر یقینی کھیل میں حصہ لے رہے ہیں جو یقیناً ان کی سعادت مندی ہے۔تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے حکومت اور اس کے مخالفین کے متضاد دعوؤں نے عوام کو مخمصے میں ڈال دیا ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ اپوزیشن کے پندرہ بیس ارکان نے تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے دن ایوان سے غائب رہنے کی یقین دہانی کرائی ہے جبکہ اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ حکومت کی پالیسیوں سے نالاں بیس سے زائد پی ٹی آئی اور اتحادی جماعتوں کے ممبران نے تحریک کی حمایت کا وعدہ کیا ہے۔قوم سوچتی ہے کہ اگر اپوزیشن کے پاس بیس سے زائد حکومتی ممبران ہیں تو تحریک عدم اعتماد پیش کرنے میں کیاقباحت ہے۔ دوسری جانب ایک سیاسی رہنما نے وزیراعظم کو چیلنج کیا ہے کہ اگر انہیں اپنی مقبولیت کا اتنا ہی زعم ہے تو اسمبلیاں توڑ کر انتخابات کرائے۔انہیں اپنی مقبولیت کا پتہ لگ جائے گا۔یہ بات طے ہے کہ اگر حکومت کی طرف سے سرکاری سطح پر اپوزیشن کو انتخابات مقررہ وقت سے پہلے کرانے پر مذاکرات کی پیش کش ہوئی تو بڑی جماعتیں بلاتامل اس پر راضی بھی ہوجائیں گی۔کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ اگر وہ پارلیمنٹ کے اندر تبدیلی لاتے بھی ہیں تو موجودہ حالات کو سنبھالا دینا کسی کے بات کی بات نہیں۔ سال ڈیڑھ سال میں کوئی بھی پارٹی چمتکار دکھانے کی پوزیشن میں نہیں ہے اور وہ چمتکار نہ دکھاسکے تو اگلے انتخابات میں ان کی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔حکومت نے پالیسیوں میں تبدیلی اور ریونیو بڑھانے پر عوام کو پٹرولیم مصنوعات اور بجلی کی قیمت میں ریلیف دیا ہے آنے والے دنوں میں مزید خوشخبریاں بھی پائپ لائن میں ہیں وزیراعظم نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ اگر سابق وزیراعظم سے مبینہ طور پر لوٹی گئی رقم واپس لانے میں حکومت کامیاب ہوگئی تو پٹرول اور ڈیزل کی قیمت آدھی کردی جائے گی۔اعلان تو بہت پرکشش ہے تاہم حکمرانوں کو بخوبی معلوم ہے کہ لوٹا ہوا مال واپس لانا اتنا آسان نہیں ہے۔بہرحال ملک کا سیاسی ماحول ان دنوں کافی گرم ہے ایک طرف بلدیات انتخابات کی تیاریاں ہورہی ہیں دوسری جانب لانگ مارچ اور عدم اعتماد کی صدائے بازگشت بھی سنائی دے رہی ہے۔ ان حالات میں حکومت کی طرف سے بڑے بڑے ترقیاتی اور ریلیف پیکجز کا بھی اعلان کیاجارہا ہے عوام کافی خوش ہیں کہ بڑوں کی باہمی لڑائی میں انہیں مال غنیمت سمیٹنے کا موقع مل رہا ہے۔ عوام چاہتے ہیں کہ زبانی دھینگا مشتی کا یہ سلسلہ جاری رہنا چاہئے تاکہ غیر متعلقہ لوگوں کا بھلا ہوتا رہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔