مسلم لیگ ن اور جمعیت علمائے اسلام کا اتحاد ایک جائزہ..تحریر: کریم اللہ

حالیہ بلدیاتی انتخابات میں چترال کی سطح پر مسلم لیگ ن اور جمعیت علمائے اسلام کے درمیان اتحاد ہوا ہے اس اتحاد کےبعد تحصیل چیرمین شپ دروش مسلم لیگ ن کو تحصیل چیرمین شپ چترال ٹاؤن جے یو آئی کو اور اپر چترال میں تحصیل مستوج ن کو اور تحصیل تورکھو موڑکھو کی نشست جے یو آئی کو دی گئی ہے۔
اس اتحاد میں لوئر چترال کی سطح پر جے یو آئی سب سے فائدے میں ہے جبکہ ن لیگ سراپا خسارے کا شکار ۔ کیونکہ تحصیل چترال میں مسلم لیگ ن کے ووٹ یقینا جے یو آئی کے امیدوار کے حق میں پڑیں گے مگر تحصیل کونسل دروش میں جے یو آئی کے ووٹ مسلم لیگ ن کے امیدوار کو پڑنے کے چانسز بہت کم ہے ۔ چونکہ تحصیل دروش میں شیر محمد آزاد امیدوار کے طور پر میدان میں ہے ، اندرون خانہ یہ بات سامنے آرہی ہے کہ جماعت اسلامی اور جے یو آئی کے ووٹ شیر محمد کو جانے کے امکانات بہت زیادہ ہے ساتھ ہی جماعت اسلامی کے حاجی مغفرت شاہ نے جو انتخابی کمپین شروع کیا ہے اس کے بھی دور رس اثرات دروش کی سیاست پر پڑنے کے امکانات ہے ۔ اس لئے امکان یہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ دروش میں جے یو آئی کے ووٹ مسلم لیگ نو ن کو پڑنے کے چانسز بہت کم ہے جبکہ اس کے بجائے یہ ووٹ جے یو آئی ہی کے رہنما اور آزاد امیدوار شیر محمد کو پڑ سکتے ہیں۔ اسی طرح مسلم لیگ ن یا شہزادہ لیگ کے ووٹ دو حصوں میں تقسیم ہونگے اس گروپ کی اکثریت پی پی پی کو سپورٹ کریں گے جبکہ بہت کم ڈائی ہارٹ ورکرز مسلم لیگ ن کو ووٹ دیں گے ۔
ایسی صورت میں تحصیل کونسل دروش سے آزاد امیدوار شیر محمد کی کامیابی کے چانسز کافی زیادہ ہوگئے ہیں کیونکہ جماعت اسلامی نے پہلے ہی غیر مشروط طو رپر شیر محمد کے سپورٹ کا اعلان کیا ہے۔ کیا پاکستان پیپلز پارٹی کے نظریاتی ورکز خالد پرویز کو مکمل سپورٹ کریں گے یہ بھی اپنی جگہ ایک اہم سوال ہے۔جس کا جواب آنے والا وقت ہی دے گا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔