اقوام متحدہ کی تاریخی قرارداد…محمد شریف شکیب

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پاکستان اور اسلامی تعاون تنظیم او آئی سی کی طرف سے اسلامو فوبیا کے خلاف قرار داد کی متفقہ طور پر منظوری دی ہے۔سلامتی کونسل نے ہرسال 15مارچ کا دن اسلامو فوبیا کے خلاف عالمی دن کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا ہے۔دنیا کے دو سو ممالک کی مشترکہ تنظیم اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف منفی پروپیگنڈہ روکنے کا فیصلہ عالم اسلام کی اہم کامیابی ہے اور اس کامیابی کا سہرا پاکستان کے سر ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے ستمبر2021کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 76ویں سالانہ اجلاس سے اپنے خطاب میں عالمی برادری سے اسلاموفوبیا کے خلاف آواز اٹھانے کی اپیل کی تھی۔ اپنے خطاب میں عمران خان نے کہا تھا کہ اسلام امن، رواداری، بھائی چارے، امداد باہمی، ایثار اور محبت کا درس دیتا ہے۔ دہشت گردی اور اسلام دو مخالف نظریات ہیں اسلام اور مسلمانوں کا تعلق دہشت گردی سے جوڑنا منفی پروپیگنڈہ ہے جس کا تدارک کرنا عالمی ادارے اور تمام مہذب اقوام کی ذمہ داری ہے۔ جنرل اسمبلی سے وزیراعظم پاکستان کے خطاب کے بعد روس کے صدر دلادیمیر پیوٹن اور دیگر رہنماؤں نے بھی اسلامو فوبیا کے خلاف بیانات دینے شروع کردیئے۔بین الاقوامی حالات و واقعات پر نظر رکھنے والے جانتے ہیں کہ دنیا کے مختلف ملکوں میں مسلح کاروائیاں کرنے والے جتھوں کو امریکہ اور اس کے حواریوں کی حمایت، مدد اورسرپرستی حاصل رہی ہے۔ اسلامی ملکوں میں حکومتوں کو سیاسی طور پر عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لئے تخریب کاروں کی ٹولیاں بنائی گئی ہیں۔افغانستان میں سوویت یونین کی فوجی مداخلت کے بعد گوریلا جنگ کے لئے دنیا بھر سے جنگجو افغانستان لائے گئے۔اس جنگ کو جہاد کا نام دیا گیا۔ اسامہ بن لادن کو بھی امریکہ کی اشیرباد حاصل تھی جب تک سوویت فوج افغانستان میں رہی۔اسامہ امریکہ کی نظر میں مجاہد اعظم تھے۔اور ان کی تنظیم القاعدہ کو ڈالر اور سٹنگر میزائل بھی سی آئی اے فراہم کرتی رہی۔سوویت فوج کے کابل سے انخلا کے بعد وہ دنیا کے سب سے دہشت گرد قرار دیئے گئے۔ واقفان حال کا ماننا ہے کہ افغانستان میں طالبان حکومت پر لشکر کشی کے لئے نائن الیون کا ڈرامہ بھی امریکہ نے خود رچایا تھا تاکہ اس کا الزام القاعدہ پر لگاکر جارحیت کا جواز پیدا کیاجاسکے۔ القاعدہ کے بعد ایک اور جہادی تنظیم آئی آئی ایس بنائی گئی۔کہاجاتا ہے کہ اس کا سکرپٹ بھی پیٹاگون میں تیار ہوا تھا۔عراق، ایران، شام، قبرص، افغانستان، چیچنیا،فلسطین اور کشمیر میں مسلمانوں پر مظالم ڈھائے گئے جس کے خلاف مقامی سطح پر ردعمل آنا فطری بات تھی جسے دہشت گردی کانام دے کر مسلمانون کو ٹارگٹ کیاجارہا ہے۔المیہ یہ ہے کہ دہشت گردی کی آج تک کوئی جامع اور متفقہ تعریف بھی وضع نہیں کی گئی۔ ریاستیں جب کمزور طبقے پر اپنی مرضی مسلط کرنے کے لئے طاقت استعمال کرتی ہیں تو اسے ریاستی دہشت گردی کے بجائے استحقاق قرار دیا جاتا ہے جب معاشرے کے کمزور طبقات ریاستی جبر، استحصال اور ناانصافی کے خلاف بطور احتجاج ہتھیار اٹھاتے ہیں تو اسے دہشت گردی قرار دیاجاتا ہے۔ نائن الیون کے بعد امریکہ نے جب افغانستان پر حملہ کیاتو صدر جارج بش نے اعلان کیا کہ جو ریاستیں دہشت گردی کے خلاف عالمگیر جنگ میں امریکہ کا ساتھ نہیں دیں گی انہیں دہشت گردوں کا حمایتی تصور کیاجائے گا امریکہ اور اس کے اتحادی ایسی ریاستوں کے خلاف کاروائی کا حق رکھتے ہیں۔ سیلف ڈیفنس کے نام پر سات سمندر پار افغانستان جیسے غریب اور پسماندہ ملک پر آتش و آہن کی بارش ریاستی دہشت گردی کی بدترین مثال ہے،افغانوں کا جرم یہ ہے کہ وہ مسلمان ہیں۔شدت پسند گروپ ہرمذہب، فرقے، مسلک، علاقے اور ریاست میں پائے جاتے ہیں۔بھارت میں وشوا ہندو پریشد اور آر ایس ایس سے زیادہ شدت پسند دنیا میں کوئی نہیں، مگر انسانی حقوق کے نام نہاد علمبرداروں کو بھارت کے اندر اور مقبوضہ کشمیر میں ان کی انتہاپسندی اور دہشت گردی نظر نہیں آرہی۔ عالمی برادری کے اس دوہرے معیار کی وجہ سے دنیا میں شدت پسندی بڑھتی جارہی ہے۔اس عالمی فضاء میں اقوام متحدہ کی طرف سے اسلاموفوبیا کی مذمت میں قرارداد کی منظوری کو تازہ ہوا کا جھونکا قرار دینا مبالغہ نہ ہوگا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔