اشاعت خصوصی..صحت کارڈاسکیم کی صوبے کی سوفیصد آبادی تک توسیع “کو ایک سال مکمل…تحریر : زار ولی زاہد، کاشف ملک

خیبرپختونخوا حکومت کے حقیقی معنوں میں ایک عوام دوست اور غریب پرور اقدام “صحت کارڈاسکیم کی صوبے کی سوفیصد آبادی تک توسیع “کو ایک سال مکمل ہو گیا ہے بلا شبہ صحت کے شعبے میں خیبرپختونخوا حکومت کا یہ ایک فلیگ شپ منصوبہ ہے جس کو نہ صرف قومی سطح پرپذیرائی ملی ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اسے خوب سراہاجارہا ہے ۔ صوبے میں پاکستان تحریک انصاف کے پہلے دور حکومت میں محدود پیمانے پر شروع کئے گئے،صحت انصاف کارڈ کو موجود ہ دور حکومت میں وزیراعلیٰ محمود خان کی قیادت میں صوبے کی سو فیصد آبادی تک توسیع دی گئی ہے جو صحت کے شعبے میں وزیراعلیٰ محمود خان کا ایک انقلابی اقدام ہے ۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت کے اس اقدام کی تقلید کرتے ہوئے دیگر صوبے بھی صحت کارڈ کا اجراءکر رہے ہیں۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ اگر ایک طرف حکومت اس پروگرام کو توقعات سے بڑھ کر کامیاب قرار دے رہی ہے ، تو دوسری جانب صحت کارڈ پلس سے مستفید ہونے والے مریض بھی اس اقدام سے خاصے مطمئن اور خوش نظر آرہے ہیں۔ صحت کارڈ پلس کاایک سال مکمل ہونے پر وزیراعلیٰ ہاوس میں ایک پر وقار تقریب کا انعقاد کیا گیا جس کے مہمان خصوصی وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان تھے۔ صوبائی وزیر صحت تیمور سلیم جھگڑا ، صوبائی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم کامران بنگش ، وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر محمد علی سیف ، اراکین صوبائی اسمبلی فخر جہاں، سلطان خان، سرکاری حکام اور نجی و سرکاری ہسپتالوں کے سربراہان نے بھی تقریب میں شرکت کی۔ وزیراعلیٰ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صحت کارڈ پلس اسکیم کو مفت علاج معالجے کا ایک جامع پروگرام بنانے کے لئے او پی ڈی کوریج کے علاوہ دیگر بیماریوں کے علاج کو بھی اس میں شامل کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ کینسر کے مفت علاج کے علاوہ کڈنی ٹرانسپلانٹ کو پہلے ہی سے اس اسکیم میں شامل کیا گیاجبکہ اب اس میں لیور ٹرانسپلانٹ کو بھی شامل کردیا گیا ہے۔ جگر کی پیوند کاری کے علاوہ مریض کو ایک سال تک ادویات بھی مفت فراہم کی جاتی ہیں۔ یقینا صوبائی حکومت کا یہ اقدام قابل ستائش اور داد کا مستحق ہے۔ لیورٹرانسپلانٹ کا علاج کسی غریب یا مڈل کلاس مریض کے لئے کسی آفت سے کم نہ تھا۔ وزیراعلیٰ نے بجا طور پر کہا کہ “اب کسی مریض کو علاج معالجے کے لئے کوئی جائیداد نہیں بیچنی پڑے گی بلکہ خیبرپختونخوا کا کوئی بھی شہری ملک کے کسی بھی اچھے ہسپتال میں صحت کارڈ کے تحت مفت علاج کراسکتا ہے”۔
وزیراعلیٰ نے صحت کارڈ کو وزیراعظم عمران خان کے فلاحی ریاست کے وژن کی تکمیل کی جانب ایک اہم اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ “اس اسکیم کے تحت صوبے کی تمام آبادی ملک بھر کے سرکاری اور نجی ہسپتالوں سے سالانہ دس لاکھ روپے تک علاج معالجے کی مفت سہولیات حاصل کرسکتی ہے جس کی کوئی مثال نہیں ملتی”۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ صحت کارڈ پلس اسکیم نہ صرف مفت علاج معالجے کی سہولیات کا ایک پیکج ہے بلکہ یہ سماجی تحفظ کا ایک مکمل پروگرام ہے جس سے لوگوں کو علاج معالجے کی مفت سہولیات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ غربت کی شرح کو کم کرنے اور لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے میں بھی مدد مل رہی ہے کیونکہ صوبے کے عوام کواب علاج معالجے پر آنے والے بھاری اخراجات سے چھٹکارا مل گیا ہے اور اب وہ علاج معالجے کی مد میں خرچ ہونے والی رقم تعلیم اور دیگر ضروریات پر خرچ کر سکتے ہیں۔ صحت کارڈ پلس کی اگر ایک سالہ کارکردگی پرنظر ڈالی جائے تو وہ قابل اطمینان اور تسلی بخش رہی ہے ۔ گزشتہ ایک سال میں صحت کارڈ کے تحت صوبے کے ساڑھے چھ لاکھ لوگ علاج معالجے کی مفت سہولیات حاصل کرچکے ہیں جن کے علاج پر ساڑھے گیارہ ارب روپے لاگت آئی ہے۔ اسی طرح پروگرام کے ابتدائی اجراءسے اب تک کل نو لاکھ 53 ہزار سے زائد لوگ علاج معالجے کی مفت سہولیات سے مستفید ہو چکے ہیں۔ اگر ماہانہ بنیادوں پر دیکھا جائے تو اوسطاً 65ہزار افراد صحت کارڈ پلس کے تحت اپنا مفت علاج کروارہے ہیں۔ مجموعی طور پر خیبرپختونخوا کے 75لاکھ خاندان اس اقدام سے مستفید ہوں گے۔ خوش آئند امر تو یہ ہے کہ حکومت نے اعلیٰ معیار کے ملک بھر سے 670 سرکاری اور نجی ہسپتالوں کو پینل میں شامل کیا ہے تاکہ شہری ملک کے کسی بھی صوبے میں اپنی مرضی کے کسی بھی پینل میں شامل ہسپتال میں علاج کر اسکیں۔رواں سال فروری تک صحت کارڈ کے تحت دل کے پانچ ہزار سے زائد مریضوں کا علاج کیا گیا ہے ، 64 کڈنی ٹرانسپلانٹ اور ایک لاکھ سے زائد کڈنی ڈائیلائسز کیئے گئے ہیں۔ جنرل سرجری کے 92 ہزار سے زائد کیسز کئے گئے ، گائناکالوجی کے 86 ہزار سے زائد، میڈیکل کے 70 ہزار، یورالوجی کے 23 ہزار، آنکالوجی کے 23 ہزار، کڈنی کے ایک لاکھ سے زائد کیسز کئے گئے ہیں۔ صحت کارڈ پلس کی افادیت اوراہمیت کے بارے میں صوبے کے دس مختلف اضلاع کا سروے کیا گیا جس کے مطابق 97 فیصد لوگ اس سے مطمئن پائے گئے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔