بلدیاتی انتخابات کی گہماگہمی….محمد شریف شکیب

خیبر پختونخوا کے اٹھارہ اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کے انتخابات 31مارچ کو ہورہے ہیں۔صوبے کے سترہ اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کا پہلامرحلہ 19دسمبر2021کو مکمل ہوا تھا۔ پہلے مرحلے میں تحصیل، ویلج اور نیبرہڈ کونسلوں کے منتخب نمائندوں نے حلف بھی اٹھا لیا ہے۔ دوسرے مرحلے کے انتخابات کے لئے امیدواروں کی انتخابی مہمات زور و شور سے جاری ہیں۔ حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف، پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن، جماعت اسلامی، عوامی نیشنل پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام کے نامزد امیدوار سرگرم عمل ہیں۔بلدیاتی انتخابات میں سیاسی جماعتوں اور عوام کی دلچسپی کا یہ عالم ہے کہ ایک ایک نشست کے لئے آٹھ دس امیدوار مد مقابل ہیں۔دوسرے مرحلے کے یہ بلدیاتی انتخابات دیہی علاقوں میں ہورہے ہیں جن میں ملاکنڈ، دیر اپر، دیر لوئر، چترال اپر، چترال لوئر، بونیر، سوات، شانگلہ، کولائی پالس، کوہستان اپر، کوہستان لوئر، تورغر، بٹگرام، مانسہرہ اور ایبٹ آباد شامل ہیں۔مقامی حکومتوں کے ان انتخابات میں سیاسی پارٹیوں کے منشور سے زیادہ علاقائیت، قومیت اور برادری کی بنیاد پر ووٹ ڈالے جاتے ہیں۔ انتخابی عمل تو چند ہفتوں کے اندر اپنے اختتام کو پہنچتا ہے لیکن انتخابات کی وجہ سے خاندانوں اور قبیلوں کے درمیان چپقلش اورناراضگیاں کبھی ختم نہیں ہوتیں اور بات نفرت، دشمنی، رشتے ناطے توڑنے،دھینگا مشتی اورمارکٹائی تک پہنچ جاتی ہے۔ بلدیاتی نظام میں آئے روز تبدیلیوں کی وجہ سے عام لوگ اور انتخابی عمل میں حصہ لینے والے امیدوار بھی کنفیوژن کا شکار ہیں۔ آئین میں اٹھارویں ترمیم کے ذریعے وفاق سے متعدد وزارتیں صوبوں کو منتقل کی گئی تھیں۔تاہم ان وزارتوں کے اثاثے اب تک وفاق کے پاس ہیں۔ قومی مالیاتی کمیشن کے تحت وفاق قومی وسائل کا 49فیصد صوبوں کو منتقل کرنے کی پابند ہے لیکن گذشتہ آٹھ سالوں میں وفاق اور صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم کا مسئلہ حل نہیں ہوسکا۔ آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو صوبائی مالیاتی کمیشن کے ذریعے وسائل مقامی حکومتوں کو منتقل کرنے ہیں مگر دو سال پہلے تحلیل ہونے والے بلدیاتی ادارے صوبائی مالیاتی کمیشن کے تحت وسائل سے محروم رہے جس کے نتیجے میں ویلج، تحصیل اور ضلع کونسلیں مقامی سطح پر ترقیاتی کام نہیں کرواسکیں۔منتخب ارکان کو صرف اجلاسوں میں شرکت کے لئے ٹی اے، ڈی اے ملتا رہا۔ پی ٹی آئی نے اپنے ابتدائی انتخابی منشور میں سینیٹرز، اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کے صوابدیدی فنڈز ختم کرنے کا وعدہ کیاتھا۔ کیونکہ منتخب ارکان کو دیا جانے والا ترقیاتی فنڈ ذاتی سیاسی مفادات کے لئے ہی استعمال ہوتا رہاہے۔تاہم پی ٹی آئی حکومت منتخب ارکان کے دباؤ میں صوابدیدی فنڈز ختم نہیں کرسکی۔ بلدیاتی اداروں کو جمہوریت کی نرسری قرار دیا جاتا ہے، سوئزرلینڈ، برطانیہ، فرانس، جرمنی، امریکہ، ہالینڈ، ناروے اور دیگر جمہوری ملکوں میں ریاستی اور مرکزی اسمبلیوں کے ارکان سے زیادہ اختیارات اور وسائل مقامی حکومتوں کے پاس ہوتے ہیں کیونکہ ان اداروں کو نچلی سطح پر عوام کے ساتھ قریبی رابطہ اور عوامی مسائل کا ادراک ہوتا ہے۔مقامی سطح پر تعلیم اور صحت کی ضروریات پوری کرنا، سڑکوں، پلوں، نہروں، پشتوں کی تعمیر سے لے کر جنازہ گاہوں،قبرستانوں، پبلک پارکس کی تعمیر،توسیع اور دیکھ بھال کے علاوہ کوڑا کرکٹ کو محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگانا، سڑکوں کی صفائی، گلی محلوں کی فرش بندی، نالیوں کی تعمیر جیسے کام بلدیاتی ادارے ہی انجام دیتے ہیں۔سینیٹرز،ایم این ایز اور ایم پی ایز کے پاس ان کاموں کے لئے وقت ہوتا ہے نہ ہی وسائل ہوتے ہیں۔مقامی حکومتوں کو وسائل مہیا کرنا صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ سالانہ بجٹ میں خاطر خواہ فنڈ مختص کرنے کے ساتھ اگر حکومت منتخب اگرایم این ایز اور ایم پی ایز کا صوابدیدی فنڈ مقامی حکومت کی طرف منتقل کرے تو ان اداروں کے قیام کے ثمرات عوام تک پہنچ سکتے ہیں۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔