ایڈیشنل سیشن جج چترال نے گرم چشمہ کے مشہور تہرے قتل کے مجرم کو دو بار سزائے موت مجموعی طور پر پندرہ لاکھ روپے جرمانہ ، 1/2 دیت ، 3سال قید کا حکم سنا دیا ۔

 چترال ( محکم الدین ) ایڈیشن سیشن جج چترال محمد قاسم نے گرم چشمہ کے مشہور تہرے قتل کے مجرم و اجرتی قاتل عطاء الرحمن ولد غلام رحمت ساکن پتراک دیر کو جرم ثابت ہونے پر دو بار سزائے موت ، مجموعی طور پر پندرہ لاکھ روپے جرمانہ 1/2 دیت ، جعلی شناختی کارڈ کے استعمال کی پاداش میں تین سال قید اور ایک ہزار روپے جرمانے کا حکم سنا دیا ۔جبکہ اسی مقدمے کے دیگر تین ملزمان خورشیدعلی ، حنظلہ اور محمد حجاج پسران امیر حمزہ ساکنان پتراک بری کر دیے گئے ۔ اس مقدمے کے تین اور ملزمان تاج الدین ، مظفر سید ، اور شاہ خالد تاحال مفرور ہیں ۔جنہیں پولیس تلاش کررہا ہے ۔ واضح رہے کہ اکتوبر 2019 کی رات مقتول وقار احمد ساکن گرم چشمہ اور ان کی بیوی تسلیم بی بی چترال میں ڈاکٹری معائنہ کرنے آئے تھے ۔ کیونکہ اس وقت تسلیم بی بی حاملہ تھی ۔ ڈاکٹری معائنے کے بعد وہ مجرم عطاء الرحمن کی کار میں سوار ہوکر چترال شہر سے گرم چشمہ واپس جارہے تھے ۔ کہ راستے میں مجرم عطاء الرحمن نے انہیں قتل کیا اور لاش دریا لٹکوہ کے کنارے پھنک کر فرار ہو گیا ۔جسے بعد آزان چترال پولیس نےمقدمہ درج کرکے گرفتار کر لیا ۔ جس کی سزا پیر کے روز ایڈیشنل سیشن جج چترال محمد قاسم نے سنایا ۔ حکم سناتے وقت مقتول وقار احمد کی والدہ بھی عدالت میں موجود تھی ۔ اس مقدمے میں اثتغاثہ کی پیروی معروف ایڈوکیٹ محمد عظیم بیگ کر رہے تھے ۔ جبکہ بری ہونے والے ملزمان کے کیس کی پیروی مشہور سنئیر قانون دان عبدالولی خان اور قاتل کے مقدمے کی پیروی عالمزیب سوئم ایڈوکیٹ کر رہے تھے ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔