وزیر اعلیٰ محمود خان نے بی آر ٹی کے مزید پانچ فیڈر روٹس اور86نئی بسوں کی خریداری کی منظوری دیدی

 پشاور(چترال ایکسپریس)وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے بی آر ٹی پشاور کی افادیت اور عوامی مطالبے کے پیش نظر بی آر ٹی کے مزید پانچ فیڈر روٹس کی منظوری دیدی ہے جبکہ ان روٹس کے لئے 86 نئی بسوں کی خریداری کے لئے آرڈرز بھی جاری کر دئیے گئے ہیں۔ یہ منظوری انہوں نے پیر کے روز خیبرپختونخوااربن موبیلٹی اتھارٹی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے13ویں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دی۔ صوبائی کابینہ اراکین تیمور سلیم جھگڑا، شاہ محمد وزیر، بیرسٹر محمد علی سیف ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری امجد علی خان، متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز کے علاوہ دیگر بورڈ اراکین نے اجلاس میں شرکت کی۔نو منظور شدہ فیڈر روٹس میں ساڑھے سات کلومیٹر حیات آباد فیز ون، بارہ کلومیٹر ریگی ماڈل ٹاو¿ن ناصر باغ روڈ،سات کلومیٹر ورسک روڈ، چار کلومیٹر خیبرروڈاور پندرہ کلومیٹر چمکنی تا پبی روڈشامل ہیں ۔

 اجلاس میں زو بائی سائیکل کے استعمال کو فروغ دینے کے لئے زو بائی سائیکل کی سکیورٹی فیس تین ہزار روپے سے کم کرکے ایک ہزار روپے کرنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ زو بائی سائیکل کے کرائیوں میں بھی کمی کی اصولی منظوری دی گئی۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ رواں سال جون تک بی آ ر ٹی کے تمام فیڈر روٹس کو فعال بنانے کے لئے ضروری اقدامات اٹھائے جائیں اور تمام متعلقہ ادارے اس سلسلے میں اپنی ذمہ داریاں بر وقت پوری کریں۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت شہریوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات کی فراہمی کے لئے کوشاں ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ بی آر ٹی کو مزید علاقوں تک توسیع دی جائی گی تاکہ پشاور اور اس کے ملحقہ علاقوں کو بی آرٹی کے ذریعے کنکٹ کیا جائے اور لوگوں کو آمد ورفت کی بہترین سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے کے لئے بی آر ٹی کی مزید علاقوں تک توسیع ضروری ہے اور صوبائی حکومت اس مقصد کے لئے درکار مالی وسائل ترجیحی بنیادوں پر فراہم کرے گی۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ بی آر ٹی پبلک ٹرانسپورٹ کا ایک بہترین منصوبہ ہے اور اس کا زیادہ سے زیادہ فائدہ شہریوں کو پہنچایا جائے گا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔