پاکستان ہلال احمر سوسائٹی خیبرپختونخوا نے ضلع چترال میں بڑے ریلیف آپریشن کا آغاز کردیا ۔

چترال(چترال ایکسپریس) پاکستان ہلال احمر سوسائٹی خیبرپختونخوا نے ضلع چترال میں بڑے ریلیف آپریشن کا آغاز کردیا ۔ جس کے تحت چترال میں مقیم مقامی آبادی اور بالخصوص افغان مہاجرین کے لیے گھروں کی دہلیز پر موبائل ہیلتھ یونٹ کے زریعے مفت علاج کے ساتھ ساتھ ادوایات کی فراہمی اور ضلع چترال میں جدید سولر سسٹم پر چلنے والے الٹر واٹر فلٹرکی تنصیب کا کام مکمل کرلیا گیا۔
اس حوالے سے پاکستان ہلال احمر خیبرپختونخوا کے چئیرمین لیفٹنٹ جنرل ریٹائرڈ محمد حامد خان نے کہا کہ ہمارا نصب العین ہی یہی ہے کہ جن علاقوں میں دیگر اداروں کو مدد کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا ہو۔ وہاں پاکستان ہلال احمر پہنچ کر لوگوں کی مدد یقینی بنائے۔یہی وجہ ہے کہ چترال میں موجود نہ صرف واٹر فلٹریشن سسٹم کی تنصیب کا کام کیا گیا بلکہ اس سہولت کےلیے شمسی بجلی سے چلنے والا نظام دیا گیا تاکہ لوگوں کو پینے کا صاف پانی مہیا کیا جاسکے۔دوسری جانب چترال جیسے علاقے میں ہماری موبائل ہیلتھ یونٹ لوگوں کو گھروں کی دہلیز پر مفت علاج کے ساتھ ساتھ مفت ادوایات فراہم کررہی ہے ۔جہاں ایک ماہ کے دوران 11 مختلف علاقوں میں اب تک 1500 سے ذائد افراد کو علاج کی سہولت فراہم کی جاچکی ہے۔ ان تمام تر آپریشنز میں پاکستان ہلال احمر کو عالمی ادارے انٹرنیشنل فیڈریشن آف دی ریڈ کراس کا تعاون حاصل ہے۔
چترال میں جاری ریلیف آپریشنز کا جائزہ لینے کےلیے آئے نمائندہ انٹرنیشنل فیڈریشن آف دی ریڈ کراس برائے پاکستان پیوی اپوف نے کہا کہ چترال میں سولرائز واٹر فلٹریشن سسٹم کی تنصیب اور موبائل ہیلتھ یونٹ کے قیام کا مقصد چترال میں مقیم بالخصوص افغان مہاجرین اور انہیں اپنے علاقوں میں رہنے کے لیے جگہ دینے والی مقامی آبادی کو سہولیات فراہم کرنا ہے۔ہم چاہتے ہیں کہ چترال کی عوام کا پاس پینے کا صاف پانی ہو اور صحت کےلیے گھروں کی دہلیز پر سہولت میسر ہو تاکہ انہیں یہ سہولیات حاصل کرنے کے لیے میلوں سفر نہ کرنا پڑے۔ انٹریشنل فیڈریشن آف دی ریڈ کراس ان سہولیات کا دائرہ کار مزید بڑھانے پر غور کررہی ہے۔
دوسری جانب پاکستان ہلال احمرسوسائٹی خیبرپختونخوا کے سیکرٹری سید علی حسن نے زرائع ابلاغ کے نمائندوں کو منصوبے کے حوالے سے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ چترال میں 2008 میں واٹر فلٹریشن کا نظام لگایا گیا تھا تاہم وقت کے ساتھ ساتھ یہ سسٹم نکارہ ہوگئے تھے، جس کے بعد اب ہم نے نئے سولرائز الٹر واٹر فلٹریشن سسٹم کی تنصیب کی ہے۔ جس سے پانی میں موجود، ریت، بیکٹریا اور دیگر مضرصحت اجزاء کو ختم کرکے پینے کا صاف پانی مہیا کیا جارہا ہے۔ اس سہولت کےاستعمال کے لیے سولر سسٹم کی تنصیب بھی کی گئی ہےتاکہ مستقبل میں اس نظام کو چلانے کے لیے کسی قسم کی روکاٹ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ واٹر فلٹریشن سسٹم کی تنصیب کے بعد اسے مقامی ٹی ایم اے دفتر کے حوالے کردیا گیا ہے۔ اسی طرح موبائل ہیلتھ یونٹ کے تحت اب تک چترال کے 11 مختلف علاقوں میں 1500 افراد اس سہولت سے مستفید ہوچکے ہیں جس میں 939 پاکستانی جبکہ 460 افغان مہاجرین شامل ہیں میدے کی تکلیف کا شکار مریضوں کی تعداد سب سے ذیادہ 202،رسپائرئٹری ٹریک انفیکشن کا شکار 190 اور ناک کان گلے کی تکلیف رکھنے والے افراد کی تعداد 164 ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ موبائل ہیلتھ یونٹ محکمہ صحت چترال کی مشاورت کے بعد ان علاقوں کا رخ کرتی ہے جہاں بنیادی صحت سہولت کے مراکز نہ ہونے کے برابر ہوں یا دور ہوں۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔