آرٹ کے مشہور تاریخ داں جین بیپٹسٹ کلیس نے یونیسکوکے عالمی ورثے لاہور قلعہ کا دورہ کیا

لاہور(چترال ایکسپریس):فرانس سے تعلق رکھنے والے ماہر بشریات اور آرٹ کے مشہورتاریخ داں، جین بیپٹسٹ کلیس (Baptiste Clais Jean)نے UNESCOکے عالمی ورثے لاہور قلعہ کا دورہ کیا۔کلیس، عالمی شہرت یافتہ ڈپارٹمنٹ آف آرٹ اوبجیکٹس،لوْوَر میوزیم میں ایشیائی آرٹ کلکشنز اور یورپی پروسلینزکے نگراں (curator)ہیں۔اِس موقع پر اْنھیں آغا خان کلچرل سروس-پاکستان (AKCS-P)کی جانب سے لاہور قلعہ میں ورثے کے تحفظ کے لیے جاری اقدامات سے آگاہ کیا گیا۔ آغا خان کلچرل سروس-پاکستان (AKCS-P)۔ AKCS-P،آغا خان ٹرسٹ فار کلچر (AKTC) سے الحاق رکھتا ہے جوکہ، آغا خان ڈیویلپمنٹ نیٹ ورک (AKDN) کا ایک ادارہ ہے۔

کلیس کا یہ دورہ ایجنس فرانسس ڈی ڈیویلپمنٹ (AFD)، فرانسیسی سفارتخانے، والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی(WCLA) اور AKCS-P کی مشترکہ کاوشوں کا حصہ ہے۔
AKCS-P نے وزیٹرز انٹر پریٹیشن سینٹر (Visitors Interpretation Centre)کے قیام کی تفصیلات جین بیپٹسٹ کلیس سے بات چیت کرتے ہوئے بیان کی۔ انہوں نے تاریخی ورثے کے تحفظ کے لیے قلعہ میں جاری کوششوں کو سراہا اور مستقبل کے منصوبوں کے لیے اپنے قیمتی مشوروں سے نوازا۔

اپنی نوعیت کا پہلا انٹرپریٹیشن سینٹر تاریخی ورثے کی سمجھ میں اضافہ کرے گا اور لاہور قلعہ کی ساخت اور تاریخ کی نمائش پر توجہ مرکوز کرے گا۔ یہ اقدام، ایجنس فرانسس ڈی ڈیویلپمنٹ اور اربن ری جنریشن آف لاہور اور اْس کے بفر زون پروجیکٹ(HURL) منصوبے کا حصہ ہیں۔حکومت پنجاب نے حال ہی میں ان فنڈز کی منظوری دی ہے تاکہ قلعے اور اس کے نواح میں سیاحت اور سماجی و اقتصادی ترقی کو فروغ ملے۔

AKCS-P نے گلگت –بلتستان میں بھی متعدد تاریخی مقامات کی بحالی کی ہے۔2007سے اب تک، اس ادارے کے پورٹ فولیو میں اضافہ ہوا ہے اور والڈ سٹی آف لاہور میں واقع متعدد لینڈ مارکس بھی اس میں شامل ہیں۔ اِن لینڈ مارکس میں سترہویں صدی میں تعمیر کی گئی وزیر خان مسجد کی بحالی کے لیے جاری کام بھی شامل ہے جبکہ شاہی حمام(رائل باتھ روم)بحال کیا جا چکا ہے۔ 2015سے، AKCS-P نے والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی کے ساتھ شراکت داری اور عطیات دینے والے بین الاقوامی اداروں کے تعاون سے لاہور قلعہ میں کام شروع کیا تھا تاکہ قلعہ میں بحالی کے لیے کیے جانے والے مناسب اقدامات پر عمل درآمد ہو سکے اور ان کی نگرانی کی جا سکے۔ اس کے نتیجے میں متعدد تاریخی یادگاروں کو بحال کیا جا چکا ہے جن میں دنیا کی سب سے بڑی پکچر وال بھی شامل ہے۔

تاریخی ورثے کی بحالی کے لیے کیے جانے والے یہ اقدامات لاہور اور پاکستان کے لوگوں کو ورثے، تاریخ اور کلچر تک اِس انداز میں رسائی فراہم کریں گے جس سے قومی ہم آہنگی اور فخر میں اضافہ ہو۔یہ اقدامات لاہور کو بھی ایک عالمی سطح کے سیاحتی مقام کے طور پر فروغ دیں گے اور اُسی کے ساتھ عالمی سطح پر لاہور کے تاریخ والڈ سٹی کا تعارف بھی کرائیں گے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔