شہزادہ امان الرحمن جیسےبے داغ امیدواروں کی کامیابی علاقے کی ترقی کیلئے انتہائی ضروری ہے ۔ قائدین پاکستان تحریک انصاف

چترال ( محکم الدین ) پاکستان تحریک انصاف لوئیر چترال کے رہنما سجاد احمد ، امیر علی ، شفیق احمد ،نزیراحمد،محمد شیر رضی الدین ، اسرار احمد وغیرہ نے شہزادہ امان الرحمن کے الیکشن کمپین آفس چترال میں میڈیا سے خطاب کرتے ہوئےکہا ہے کہ انتخابات کے حوالے سے ان کی تیاریاں مکمل ہیں اور انشاللہ وہ بھاری منڈیٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ چترال کیلئے شہزادہ امان الرحمن جیسے نمایندے کی ضرورت ہے کیونکہ ان کو پیسوں کی ضرورت ہے اور نہ ان کے کسی بھائی کو ملازمت اور روزگار کی ضرورت ہے۔ ان میں یہ صلا حیت بدرجہ اتم موجود ہے کہ حکومت سے بات کرکے عوام کے مسائل کرے وہ کسی بھی امیدوار کے مقابلے میں بہتر طریقے سے اپنی صلاحتیں بروئے کار لاکر چترال کی تعمیر وترقی میں کردار ادا کر سکتے ہیں ۔ اس لئے چترال کے لوگوں کو چاہیئے کہ اپنے بہتر مفاد میں پاکستان تحریک انصاف کے امیدوارشہزادہ امان الرحمن کو کامیاب کریں۔ انہوں نے کہا کہ چترال مسائلستان بن چکا ہے اس لئے جب تک موجودہ حکومت کی حامی امیدوار کامیاب نہیں ہوں گے ۔ ان گھمبیر مسائل کو حل نہیں کیا جا سکے گا ۔ اس لئے چترال کے عوام سے ہماری گذاش ہے ۔ کہ اس مرتبہ اپنا ووٹ پاکستان تحریک انصاف کے امیدواروں کے حق میں استعمال کرکے انہیں آزمائیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ چترال کی یہ بدقسمتی رہی ہے ۔ کہ صوبہ اور مرکز میں جو حکومت ہوتی ہے یہاں کے عوام اس کے خلاف نمائندےمنتخب کرتے ہیں۔ اور بعد میں پچھتاتے ہوئے واویلا کرتے ہیں کہ ہمارے مسائل حل نہیں ہورہے ۔ جو طریقہ ہم اپناتے ہیں یہ بالکل بھی صحیح نہیں ہے ہم حکومت کی حامی امیدوار کامیاب کرکے ہی اپنے مفادات حا صل کر سکتے ہیں کیونکہ اس صورت میں نمایندے کو حکومت سے روابط رکھنے میں آسانی ہو گی ۔ انہوں نے کہا کہ لٹکوہ اور چترال شہر میں شہزادہ امان الرحمن کے بھاری ووٹ حاصل کرے گا ۔ جبکہ کالاش ویلیز و دیگر علاقوں سے بھی توقع سے زیادہ ووٹ ملنے کی امید ہے اس لئے ان کی کامیابی کیلئے پرامید ہیں ۔ انشااللہ 31مارچ کاسورج شہزادہ امان الرحمن کی کامیابی کی نوید لے کر طلوع ہو گا ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔