خیبرپختونخوا کے اراکین اسمبلی عمران خان کے سپاہی ہیں اور وہ نہ بکیں گے اور نہ جھکیں گے،وزیراعلیٰ محمودخان

شانگلہ(چترال ایکسپریس)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ ا ﷲکرے کہ اپوزیشن جماعتیں صوبائی حکومت کے خلاف عدم اعتماد لانے کی غلطی کریں تاکہ وہ انہیں دن میں تارے دکھا دیں، جن لوگوں کا آپس میں ایک دوسرے پر اعتماد نہیں وہ دو تہائی اکثریت والی حکومت کے خلاف عدم اعتمادلانے کی بات کررہے ہیں جو کسی لطیفے سے کم نہیں۔ انہوں نے کہاکہ خیبرپختونخوا کے اراکین اسمبلی عمران خان کے سپاہی ہیں اور وہ نہ بکیں گے اور نہ جھکیں گے۔ خیبرپختونخوا کی غیور عوام ہمیشہ کی طرح ڈٹ کر عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے اور کھڑی رہے گی ،جس بڑی تعداد میں خیبرپختونخوا کی عوام نے 27 مارچ کو اسلام آباد جلسے میں شرکت کی وہ اپوزیشن کیلئے ایک سبق ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روزضلع شانگلہ کی تحصیل چکیسر میں عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعلیٰ نے اسلام آباد جلسے میں بھر پو ر شرکت پر خیبر پختونخوا کی عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ خیبرپختونخوا کی عوام نے عمران خان کے حق میں اپنا فیصلہ سنا دیا ہے اور واضح کر دیا ہے کہ خیبرپختونخوا پی ٹی آئی کا گڑھ ہے۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان پاکستان کو حقیقی معنوں میں قائداعظم کا پاکستان بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اپوزیشن والے اپنے اقتدار ا مفاد کا سوچتے ہیں، لیکن عمران خان اپنے اقتدار کا نہیں بلکہ قوم کے روشن مستقبل اور خوشحالی کا سوچتے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ اپوزیشن جماعتیں بیرونی اشاروں پر ایسے وزیراعظم کو گرانے کی کوشش کر رہی ہیں جو ہمیشہ ملکی وقار اور خود داری کی بات کرتے ہیں۔عمران خان وہ وزیراعظم ہیں جس نے ملک کو ایک آزاد خارجہ پالیسی دی اور عالمی قوتوں کے ساتھ برابری کی بنیاد پر دوستی کی بات کرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ عمران خان نے اس قوم کو شعور دیا ہے اور آج قوم جاگ گئی ہے۔ اگر آج دنیا میں گرین پاسپورٹ کی عزت ہے تو وہ عمران خان کی وجہ سے ہے۔ عمران خان نے کشمیر کا مقدمہ جس انداز میں عالمی سطح پر اٹھایا ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ عمران خان عالمی فورمز پر اسلام اور مسلمانوں کی ایک موثر آواز بن گئے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن 18 سال کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رہے لیکن ایک بار بھی مسئلہ کشمیر پر بات نہیں کی۔ انہوں نے اسلام کے نام پر صوبے میں پانچ سال حکومت کی ہے وہ بتائیں انہوں نے اسلام کی کیا خدمت کی ہے ؟محمود خان کا کہنا تھا کہ صوبے کے سابق حکمرانوں نے مختلف نعروں سے عوام کوصرف دھوکہ دیا ہے۔ کسی نے اسلام کے نام پر حکومت کی تو کسی نے روٹی، کپڑا، مکان اور پختونوں کے نام پر سیاست کی لیکن کسی نے بھی عوام کیلئے کچھ نہیں کیا۔ انہوں نے محض اقتدار کے مزے لوٹے اور اپنی جائیدادیں بنائیں۔اگر آج ہمارے علاقے پسماندہ ہیں تو اس کی وجہ سابق حکمرانوں کی کرپشن ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ ان کی حکومت کو ساڑھے تین سال مکمل ہو گئے ہیں لیکن کرپشن کا کوئی سکینڈل نہیں آیا۔ وہ عمران خان کے سپاہی ہیں اور خزانے کی ایک ایک پائی عوام پر لگارہے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ پاکستان تحریک انصاف کے دور حکومت میں آئمہ مساجد کیلئے وظائف مقرر کئے گئے ، مدرسوں کےطلبہ کو اسکالرشپس کی فراہمی کا سلسلہ شروع کیااور مساجد کی سولرائزیشن کی جارہی ہے۔ صحت کارڈ کے ذریعے صوبے کی سو فیصد آبادی کو علاج معالجے کی مفت سہولیات فراہم کی جارہی ہیںجبکہ صحت کارڈ منصوبے کو مزید جامع بنانے کیلئے او پی ڈی اور دیگر بیماریوں کے علاج کو بھی شامل کیاجارہا ہے۔ اس کے علاوہ مستحق خاندانوں کو رعایتی نرخ پر راشن کی فراہمی کیلئے فوڈ کارڈ کا اجراءکیا جارہا ہے جبکہ آئندہ بجٹ میں ایجوکیشن کارڈ کا بھی اجراءکیا جائے گا۔ محمود خان نے کہاکہ ماضی میں ملک کو زرعی اجناس میں خود کفیل بنانے کی کسی نے بھی منصوبہ بندی نہیں کی جبکہ موجودہ دور حکومت میں ملک میں 40 سال بعد 10 ڈیمز بن رہے ہیں۔ سابق حکمرانوں کی ناقص معاشی پالیسیوں کی وجہ سے ملک دیوالیہ ہو رہا تھالیکن وزیراعظم عمران خان کی وژنری لیڈرشپ نے ملک کو نہ صرف ڈیفالٹ ہونے سے بچایا بلکہ ملکی معیشت کو بہتری کی راہ پر گامزن کیااور اب سارے اعشاریئے مثبت ہیں۔ صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی ، سابق صوبائی وزیر عبدالمنعم خان ، تحصیل نظامت کیلئے اُمید وار اختر علی چٹان اور دیگر نے بھی جلسے سے خطاب کیا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔