معاشرے کا مظلوم طبقہ…محمد شریف شکیب

خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں میں گذشتہ ایک مہینے کے دوران چار خواجہ سراؤں کو قتل کردیاگیا۔فائرنگ کے واقعات میں چھ خواجہ سرا زخمی ہوکر ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔پشاور کے پرہجوم تجارتی مرکز قصہ خوانی میں دن دیہاڑے مانو نامی خواجہ سرا کو قتل کردیاگیا۔ اس واقعے کا انتہائی افسوسناک پہلو یہ ہے کہ مقتول مانو کے والدین نے اس کی نعش وصول کرنے سے انکار کردیا۔ خواجہ سراؤں نے خود ہی چندہ کشی کرکے اس کی تجہیز و تکفین کا بندوبست کیا۔خواجہ سراؤں کا طبقہ معاشریکا سب سے مظلوم و مجبورو مقہور طبقہ ہے۔ ہوش سنبھالتے ہی ان پر سب سے پہلا ظلم ان کے اپنے والدین کرتے ہیں۔معاشرے کے طعنوں کے خوف سے وہ اپنے جگر گوشوں کو دنیا کی ٹھوکروں کی نذر کرتے ہیں مرنے پر انہیں دفن کرنا بھی والدین گوارہ نہیں کرتے۔ وہ تعلیم حاصل کرنے کے لئے سکول جاتے ہیں تو ان کا تمسخر اڑایاجاتا ہے۔ ملازمت کے لئے کسی دفتر جائیں تو ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیاجاتا ہے حکومت نے تعلیمی اداروں اور ملازمتوں میں خواجہ سراؤں کے لئے کوٹہ تو مختص کردیا ہے مگر اس کوٹے پر وزیروں اور مشیروں کے رشتہ داروں کو بھرتی کیاجاتا ہے۔ انصاف کے حصول کے لئے وہ تھانہ کچہری جائیں تو انہیں دھکے دے کر باہر نکالاجاتا ہے۔ معاشرے کے ناقابل برداشت رویے سے تنگ آکر وہ اپنے ہم جنسوں کے پاس جاکر پناہ حاصل کرتے ہیں جہاں انہیں ناچ گا کر پیٹ کی آگ بجھانے کی تربیت دی جاتی ہے۔ یہ لوگ معاشرے کی خوشیوں میں شرکت کرتے اور اپنے لئے دو چار پیسے کماتے ہیں مگر معاشرہ ان کا دکھ بانٹنے کو کسی قیمت پر تیار نہیں ہوتا۔ انہیں دنیا میں لانے کا سبب بننے والے والدین ہی انہیں اس خوف سے اپنے پاس رکھنے کو تیار نہیں ہوتے کہ لوگ کیاکہیں گے۔انہیں اس بات کی فکر نہیں ہوتی کہ اپنے جگر گوشوں کو دربدر کی ٹھوکریں کھانے کے لئے چھوڑنے پر وہ اللہ کے سامنے کیا جواب دیں گے۔وہ اللہ کی مخلوق ہیں اللہ تعالیٰ کسی کو لنگڑا، لولا، اندھا، بہرہ،گونگااور دیگر جسمانی اعضاء کے بغیر پیدا کرتا ہے ان کی تخلیق صحت مند افراد کے لئے سبق ہے کہ وہ اپنے رب کی رحمتوں، مہربانیوں اور نعمتوں کا شکر بجالائیں۔ اور معذور افراد پر رحم کریں۔ ان کی مدد اور رہنمائی کریں۔اللہ تعالیٰ نے جسمانی طور پر معذور افراد کو تمسخر اڑانے کے لئے پیدا نہیں کیا۔ خواجہ سراؤں میں بھی وہی صلاحیتیں ہوتی ہیں جو عام لوگوں میں ہوتی ہیں انہیں مواقع میسر ہوں تو وہ بھی بڑے کارنامے سرانجام دینے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔ بلجیئم کی نائب وزیراعظم پیٹرا ڈی سٹر بھی خواجہ سرا ہیں مگر ان کے ملک میں کبھی ان کا تمسخر نہیں اڑایاگیا۔ حال ہی میں پاکستان میں ایک خواجہ سرا سارہ گل ڈاکٹر بن گئی ہے۔خیبر پختونخوا میں گذشتہ دس سالوں کے دوران 78خواجہ سراؤں کو اس وجہ سے قتل کردیاگیا کہ انہوں نے دوستی کرنے سے انکار کردیاتھا۔ یا دوسروں کے ساتھ تعلقات رکھتے تھے۔پشاور میں جس شخص نے خواجہ سرا مانو کو قتل کیا۔ اس کو خواجہ سرا دوست نے شادی پر لاکھوں روپے قرض دیئے تھے۔ جب اپنے پیسے مانگنے وہ دوست کے گھر گیا۔تو اس نے برامنایااور اسے گولیوں سے چھلنی کردیا۔پولیس نے قاتلوں کو پکڑ کر انصاف کے کٹہرے میں لانے کے بجائے قتل کے ان واقعات کاخود مقتولوں کو مورد الزام ٹھہرایا ہے پولیس کا کہنا ہے کہ خواجہ سرا لوگوں سے دوستیاں کرتے ہیں پھرانہیں دغا دیتے ہیں۔وہ لوگوں پر اندھادھند اعتماد کرتے ہیں اور دھوکے میں مارے جاتے ہیں۔معاشرے کے اس بے ضرر اور معصوم طبقے پر جو ظلم ہورہا ہے اس میں والدین، معاشرہ، حکومت، قانون نافذ کرنے والے ادارے، دانشور،اساتذہ اورانصاف فراہم کرنے والے ادارے بھی برابر کے شریک ہیں۔ان سب کو اللہ تعالیٰ کی عدالت میں اپنی دانستہ اور نادانستہ کوتاہی اور لاپرواہی کا جواب دینا ہوگا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔