پیکا آرڈیننس پر سوالات…محمد شریف شکیب

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پیکا آرڈیننس پرچار بنیادی سوالات اٹھائے ہیں۔پیکاآرڈیننس کے خلاف درخواست کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ پہلا سوال یہ ہے پیکا آرڈی نینس بادی النظر میں آئین کے آرٹیکل 89 کے خلاف جاری ہوا،دوسرا سوال یہ ہے کہ پیکا آرڈیننس سیکشن 20کا غلط استعمال ہو رہا ہے، تہمت لگانے کے لیے قانون پہلے سے موجود ہے اس جرم کی سزا پانچ سال ہے جس کا اطلاق سوشل میڈیا پر تہمت لگانے والے پر بھی ہوگا۔تیسرا سوال یہ ہے کہ ایف آئی اے نے جو رپورٹس عدالت میں پیش کیں وہ تو انٹرنیٹ پر صحافیوں کی نگرانی کر رہے ہیں؟ کسی بھی جمہوری ملک میں سیلف سینسر شپ کیسے ہو سکتی ہے؟چوتھا سوال یہ ہے کہ ملک میں جمہوریت اور آئین موجودہے، پبلک آفس ہولڈر سوشل میڈیا سے پریشان کیوں ہیں؟آرڈی نینس لانے میں جلدی کیا تھی؟ صرف اسی ایک نکتے کی بنیاد پر آرڈی نینس کالعدم قرار دیئے جانے کے قابل ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ عدلیہ کو تنقید سے کوئی پریشانی نہیں، پاکستان شہری حقوق کے عالمی معاہدوں کا دستخط کنندہ ہے۔ حکومت ان پر پابندی لگاکر عالمی معاہدے کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔اظہار رائے کی آزادی بنیادی شہری حقوق میں شامل ہے۔تمام ممالک کے دساتیر اور قوانین میں اظہار رائے کی آزادی کے حق کو تسلیم کیاگیا ہے تاہم کسی شہری کو کسی بھی مہذب معاشرے میں مادر پدر آزادی کا حق نہیں دیا جاسکتا۔پاکستان میں اظہار رائے کی آزادی ریاست، مملکت سے وفاداری، نظریہ پاکستان پر عمل درآمد اور اسلامی تعلیمات کی پابندی سے مشروط ہے۔اگر آپ کے اظہار رائے سے کسی کی جان، عزت و آبرو، روزگار، نیک نامی اورخاندان کو نقصان پہنچتا ہے کسی کی دل آزاری ہوتی ہے کسی کے مذہبی جذبات مجروح ہوتے ہیں تو یہ قابل تعزیر جرم ہے۔ سوشل میڈیا پر جو طوفان بدتمیزی برپا ہے اسے سخت قوانین اور ریاستی طاقت سے روکنے کی ضرورت ہے اگر اسے اظہار رائے کی آزادی قرار دے کر نظر انداز کیاگیا تو کسی کی عزت و آبرو، نیک نامی اور جان و مال محفوظ نہیں رہیں گے۔ اظہار رائے کی آزادی کے حوالے سے مغربی معاشرے کی مثالیں دی جاتی ہیں۔امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی اور دوسرے مغربی ملکوں میں بھی اپنے مذہب،عقیدے، قومی مفادات اور ریاستی اداروں کے خلاف لکھنے اور بولنے کی اجازت نہیں ہے۔ البتہ دوسروں پر کیچڑ اچھالنے اور دل آزاری کو اظہار رائے کی آزادی سے تعبیر کیاجاتا ہے۔ ہمارے ہاں ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پر جس طرح لوگوں کی پگڑیاں اچھالی جاتی ہیں دوسروں کے عقائد اور نظریات پر حملے کئے جاتے ہیں اس سے معاشرے میں عدم رواداری اور تشددفروغ پارہا ہے۔ہمارا المیہ یہ ہے کہ حکومت کے ہر فیصلے اور اقدام کو سیاست کے ترازو میں تولا جاتا ہے اور اس میں سازشی عنصر تلاش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جھوٹ، بہتان اور الزام تراشی کی دین اسلام نے سختی سے ممانعت کی ہے اور اسے منافق کی نشانیوں میں سے قرار دیا ہے۔ اگر جھوٹے پروپیگنڈے کو روکنے کے لئے کوئی قانون نافذ کیاجاتا ہے تو اس کی تائید کرنے کے بجائے متنازعہ بنانا سمجھ سے بالاتر ہے۔البتہ کسی قانون کا ذاتی یا سیاسی مفادات کے لئے غلط استعمال ہوتا ہے تو اس کی مزاحمت ضرور کرنی چاہئے پیکا قانون کا بظاہر مقصد جھوٹی خبروں کی روک تھام اور لوگوں کی جان و مال اور عزت و آبرو کو غلیظ پروپیگنڈے سے بچانا ہے۔ توقع ہے کہ عدلیہ اس قانون کو مزید سخت اور موثر بنانے کی سفارش کرے گی تاکہ معاشرے سے جھوٹ، غیبت، بہتان طرازی، الزام تراشی اور دیگر معاشرتی برائیوں کا خاتمہ کیاجاسکے۔اسلامی فلاحی معاشرے کے قیام کے لئے ان کاموں سے پرہیز ناگزیر ہے جن سے اسلام نے منع کیا ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔