ایک سیاسی کارکن کا سنہرا خواب…محمد شریف شکیب

ہمارے ایک دوست نے انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک تجویز پیش کی ہے جو ہم اس کالم کے ذریعے بلاکم و کاست ارباب اختیار و اقتدار کے گوش گذار کررہے ہیں۔ہمیں اندازہ ہے کہ انتخابی اصلاحات کے لئے حکومت کے پاس تجاویز کا انبار لگاہوگا۔ہماری تجویزکو ناقص قرار دے کر ردی کی ٹوکری میں ڈالا جاسکتا ہے مگر اپنی قومی ذمہ داری گردانتے ہوئے حکومت کو مشورہ دینے کی جسارت کررہے ہیں بقول مرزا غالب”قاصد کے آتے آتے خط ایک اور لکھ رکھوں، میں جانتا ہوں جو وہ لکھیں گے جواب میں“ وہ ناقص تجویز یہ ہے کہ جو سیاست دان اپنے بچوں کو سرکاری سکولوں میں نہیں پڑھاتے اورسرکاری ہسپتالوں سے اپنا اور اپنے رشتے داروں کاعلاج نہیں کرواتے اور چھٹیاں منانے گلیات، کاغان، ناران، ہنزہ، کالام، کمراٹ اور چترال جانے کے بجائے فرانس، برطانیہ، ہالینڈ، بنکاک، دوبئی اور سوئزر لینڈ جاتے ہیں ان پر انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی لگانی چاہئے۔اور دوہری شہریت والوں کو تو انتخابی عمل سے میلوں دور رکھنا چاہئے کیونکہ وہ اقتدار کی کرسی سے اترتے ہی ملک چھوڑ کر چلے جاتے ہیں حالانکہ لوگ انہیں کہتے بھی ہیں کہ ”گلی ہم نے کہی تھی تم تو دنیا چھوڑ جاتے ہو“تجویز کنندہ کا موقف ہے کہ اشرافیہ عوام کے مسائل سے واقف نہیں یہی وجہ ہے کہ حکومتیں بدلنے کے باوجودعوامی مسائل کم ہونے کے بجائے بڑھتے جارہے ہیں۔ہمیں حکومت کی مجبوری کا بھی بخوبی علم ہے کہ انہیں پارلیمنٹ میں اتنی اکثریت حاصل نہیں کہ وہ اپنی مرضی کی قانون سازی کرسکے۔یہی وجہ ہے کہ آرڈیننسوں سے کام چلایاجارہا ہے۔ایک اہم مسئلہ یہ ہے کہ اگر پیشہ ور اور موروثی سیاست کاروں،کارخانے داروں، جاگیر داروں اور سرمایہ داروں کو انتخابی عمل سے دور رکھا گیا تو پھر کون انتخاب لڑے گا۔ہمارے ملک میں انتخابی اخراجات اتنے زیادہ ہیں کہ کسی متوسط اور غریب طبقے سے تعلق رکھنے والا انتخابات میں حصہ لینے کا صرف خواب ہی دیکھ سکتا ہے۔ اگر ضد میں آکرمکان اورزمین گروی رکھ کر یا بینک سے قرضہ لے کر انتخابات لڑے گا بھی، تو اپنی ضمانت ضبط کرائے گا۔اور پھر باقی ماندہ عمر وہ قرضہ چکانے میں لگادے گا۔ ضمانت ضبط ہونے والی بات بھی ایک مفروضہ ہے آج تک ہم نے کسی جیتنے یا ہارنے والے امیدوار کو ضمانت کی رقم واپس لیتے ہوئے نہیں دیکھا۔ذاتی تجربہ ہے کہ کرائے پر مکان دینے والے سیکورٹی کی رقم واپس نہیں کرتے۔حکومت کے خزانے میں جمع ہونے والی رقم کہاں واپس ملتی ہے۔ ضمانت ضبط ہونا بہت زیادہ بے عزتی والی شکست کا ادبی نام ہے۔ حالانکہ شکست بہرحال شکست ہوتی ہے چاہے ایک ووٹ سے ہو یا ایک لاکھ ووٹوں سے۔بقول سابق وزیراعلیٰ بلوچستان، ڈگری ڈگری ہوتی ہے چاہے اصلی ہو یا جعلی ہو۔ اگر بالفرض محال انتخابی عمل کی تمام رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے کوئی شیر دل نوعیت کا نادار بندہ اسمبلی میں پہنچ بھی جائے تو وہاں اس کی آواز صدا بہ صحرا ثابت ہوتی ہے۔کہنے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ سیاسی جماعتوں کے عام کارکنوں کو ممبر بننے کا خواب نہیں دیکھنا چاہئے۔خواب دیکھنے پر کوئی پابندی نہیں، متوسط اور غریب طبقے کے لوگ خوابوں میں ہی تو عیاشیاں کرتے ہیں اور ان سے یہ حق کوئی نہیں چھین سکتا۔ داناؤں کا قول ہے کہ خواب وہ نہیں ہوتے جو آپ نیند کی حالت میں دیکھتے ہیں۔اصل خواب تو وہ ہیں جن کو تعبیر کا جامہ پہنانے کا جنون آپ کو سونے ہی نہیں دیتا۔ بہر حال پاکستان میں کسی بھی جماعت کا سیاسی کارکن وہ خواب دیکھ ہی نہیں سکتا جس کی تعبیر کے لئے اسے اپنی نیند حرام کرنی پڑے۔ وہ بیچارہ تو صرف زندہ باد اور مردہ باد کے نعرے ہی لگاسکتا ہے۔روکھا سوکھا کھاتا ہے اور مزے کی نیند سوجاتا ہے اب خواب میں وہ خود کو ایوان اقتدار میں پاتا ہے یا ہواؤں میں اڑتا ہے تو یہ اس کا پیدائشی حق ہے جسے کوئی چھیننا چاہے بھی تو نہیں چھین سکتا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔